جائیں، تو جائیں کہاں؟؟

کاشف شمیم صدیقی

***

ہمارے ملک میں بہت سے اسپتال ہیں، چھوٹے، بڑے، درمیانے، سرکاری، نجی، مہنگے، سستے، مفت، اچھے ، بُرے (یا اگر بُرے نہیں تو خطرناک حد تک بدحالی اور لاپرواہی کا شکار کہہ لیجیے) غرضیکہ تمام اقسام کے اسپتال پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں۔

بہت سے بڑے Private اسپتال اچھے تو ضرور ہیں لیکن 73 سالوں سے مصائب و پریشانیوں میں گھرے، دکھوں کے مارے، پاکستان کے غریب اور بے بس لوگوں کی دسترس سے کوسوں دور ہیں۔ اب تو درمیانے درجے کے نجی اسپتال بھی ”پر، پرُزے“ نکالتے دکھائی دیتے ہیں۔

ڈسچارج کیے جانے والے صحت یاب مریض کو گھر لے جاتے وقت لواحقین کے ہاتھوں میں تھما، اچھا خاصا بھاری بھرکم ”بل“ ادائیگی کرتے ایک لاچار شخص کو ”بیمار“ یا کم از کم اسوقت شدید ذہنی صدمہ پہنچانے کا موجب تو ضرور بنتا ہے۔ اور پھر وہی شخص ”مرتا کیا نہ کرتا“ کی حقیقی مثل بنتے، مجبوراً بل ادا کر ہی دیتا ہے۔

پھر تیسرے درجے کے Private اسپتال ہیں، یہ اسپتال نسبتاً سستے تو ضرور ہیں، لیکن معیاری ہیں یا نہیں؟؟ اس سوال کا بوجھ اپنے نا تواں سے وجود پر ہمیشہ ہی اٹھائے رکھتے ہیں۔

اب صحیح ہے یا غلط لیکن یہ بات بھی مشہور ہے کہ یہ تینوں درجات کے اسپتال ہمہ وقت زیا دہ سے زیادہ پیسے اور منافع کمانے کے نت نئے طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں، بالخصوص خواتین کے ”قینچی“ (انگریزی میں C-section کہلائے جانے والے) بیشتر آپریشن بلاضرورت ہی کر ڈالتے ہیں تاکہ بل کا حجم کئی گُنا بڑھایا جا سکے۔

پھر با ری انُ اسپتالوں کی آتی ہے جو بالکل مفت صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا زریعہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ سرکاری اسپتال کہلاتے ہیں ( Private تو کسی صورت نہیں ہو سکتے)۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور اسی طرح کے بڑے شہروں میں سرکاری اسپتال قائم تو ہیں لیکن ان کی تعداد ضرورت مند آبادی کی کثیر مقدار کے مقابلے انتہائی کم دکھائی دیتی ہے۔ دیہی علاقوں میں تو شعور کی کمی گھروں کو ہی اسپتال بنائے رکھتی ہیں۔

چونکہ گاؤں، دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں قائم اسپتال بڑی اور موذی بیماریوں کا علاج کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں اس لیے پسماندہ علاقوں کی غربت زدہ عوام مفت، بہتر اور معیاری علاج معالجے کی آس میں بڑے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور ان شہروں میں قائم ایسے گنےِ چُنے اسپتالوں کو (بقول اسپتال انتظامیہ) overloaded بنا دیتے ہیں۔

سرکاری اسپتال تنقیدی اور تعریفی، دونوں حوالوں سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مثلاً ان اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی، داخل مریضوں کو مفت خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی، مہنگے آپریشنز کا Free of Cost ہو جانا، OPD میں آتے مریضوں کا مفت معائنہ ، تشخیص اور ادویات کی فراہمی، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، لیبارٹری ٹیسٹ اور دیگر Tests کی بلا معاوضہ فراہمی اور اسی طرح سے مستحق عوام کو دیگر سہولیات کا حصول قابل ستا ئش اور قابل تعریف ہے۔

مگر دوسری جانب انہی ماہر ڈاکٹرز کی مریضوں سے بدسلوکی، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، تھکا دینے والا طویل انتظارکرواتی قطاریں، مطلوبہ طبی عملے کی کمی، غیر حاضر اسٹاف، گروپ بندیاں، منفی سیاسی سوچ، فرسودہ طور طریقوں پر ہوتا کام، طبی سازوسامان بشمول جدید آلات کی کمی، کرپشن اور اسی طرح کی دیگر افسوسناک باتیں حکومتی سرپرستی میں چلنے والے اسپتالوں کی خاص پہچان بن چکی ہیں۔

اب تو ”ہڑتالیں“ ہونا بھی شروع ہوگئی ہیں جس کے باعث اسپتال کم ازکم چند گھنٹوں یا پھر کم از کم ایک دن کے لیے تو بند ہو ہی جاتا ہے۔ بند اسپتال، بند سانسوں کے ساتھ آتے مریضوں کے لیے موت کی یقینی علامت کے طور گردانا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

جدید طبی سازوسامان اور قیمتی مشینری کی عدم موجودگی بھی غریب مریضوں کو شعبہ صحت سے جڑے Private اداروں کا راستہ دکھاتی ہے، یا پھر اگر یہ Equipments موجود ہوں تو پھر انکے زریعے سے پہنچائی جانے والی Services کی فیس وصول کی جاتی ہے، جیسے بیشتر بڑے سرکاری اسپتالوں میں CT Scan اور MRI جیسی سہولتیں موجود تو ہوتی ہیں لیکن وہ بلامعاوضہ نہیں ہیں۔

حکومتی سرپرستی کے حامل اسپتالوں یا انکے کچھ حصوں کی، این جی اوز (NGOs)کو سپردگی بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس موضوع نے بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بہرحال، اگر اندازہ صحیح یا غلط کا لگانا مقصود ہو تو پھر ایسے اسپتالوں یا پھر سپرد کیے جانے والے حصوں کی کارکردگی جانچ کر،، یہ کام مشکل نہیں۔

یہاں ایک اور اہم بات جس کی نشاندہی بہت ضروری ہے وہ یہ کہ چھوٹے سرکاری اسپتالوں میں بیشتر Cases ایسے بھی آتے ہیں جو بڑے یا کسی Tertiary Care Hospital ” ریفر“ کردیے جاتے ہیں۔ ایسے مریض باآسانی ریفر کر تو دیے جاتے ہیں لیکن یہ اتنی سادہ اور معمولی بات نہیں ہے۔

نجی Tertiary اسپتال غریب عوام کی استطاعت سے قطعی باہر ہیں۔ دوسری جانب سرکاری Tertiary Care اسپتالوں کی تعداد کیونکہ انتہائی قلیل ہے اسلیے بالخصوص

Admit ہونے والے مریضوں کو ”جگہ نہیں ہے“ کا کہہ کر واپسی کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں مریض جائیں تو جائیں کہاں،، اس بات سے کسی کا کوئی سروکار نہیں۔ اس صورتحال کا تو بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے غریبوں کو سامنا ہے، گاؤں، دیہاتوں کی تو بات ہی رہنے دیجیے۔ وہاں کی عوام بمعہ بوریا بسترا اور مریض،، شہروں کا رخ کرتے ہیں اور پھر وہ او ر انکی قسمت!!

سرکاری اسپتال کسی بھی پسماندہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیسے۔۔؟؟ وہ ایسے کہ پسماندہ ممالک میں بسنے والی غریب عوام کی تعداد اشرافیہ کے مقابلے کئی گُنا زیادہ ہوتی ہے۔

مجموعی آبادی میں کثیر حصہ رکھتی عوام کے ہر فرد کا معاشی، سماجی، سیاسی و ثقافتی شعبہ جات وغیرہ میں بلواسطہ یا بلاواسطہ اپنا، اپنا حصہ اور اپنا، اپنا کردار ہوتا ہے۔ اور پھر اگر غریب عوام میں موجود افراد ،، علاج و معالجے کی مخدوش صورتحال کے باعث مستقل بیمار ہی رہیں تو ملکی و معاشی ترقی میں اپنے ذمے ادا کیا جانے والا کردار ادا نہ کر سکیں گے اور پھر فیکٹریاں، کارخانے، ملیں، دکانیں، بازار، ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور اسی طرح کے دیگر تمام مقامات پر پر مطلوبہ افرادی قوت کی عدم دستیابی، ملکی معیشت کے ہر حصے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنے گی۔

اسکے برعکس صحت کے معیاری اور موثر نظام کی بدولت جلد صحت یاب ہو کر ملکی و اقتصادی امور میں اپنا کردار ادا کرنے والے لوگ اسقابل ہوں گے کہ وہ اپنی ذمے داریوں اور فرائض کو پوری توانائی اور چابک دستی کے ساتھ پورا کر سکیں۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ Primary ، Secondary اور Tertiary Care سرکاری اسپتالوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے ہو۔ تما م سہولتیں، تمام تر سازوسامان کے ساتھ بالکل مٖفت ہوں۔مثبت سوچ اور بہتر رویوں کو اپنایا جائے۔

نیک نیتی سے فرائض منصبی کو انجام دینے کا عزم، خوشگوار تبدیلیاں لانے کا سبب بنے گا۔ نجی اسپتالوں کا بھی کارِخیر میں حصہ، اہمیت کا حامل ہے۔

بے بس و لاچار اور مستحق مریضوں کے لیے مفت علاج ومعالجے کی فراہمی کا فیصلہ، منافع میں کچھ کمی لانے کا سبب تو بن سکتا ہے لیکن انسانیت کو پہنچایا جانے والا نفع،، دنیا و آخرت میں بے پناہ فوائد پہنچانے کا زریعہ بن سکتا ہے۔ بات سمجھنے کی ہے، احساس کی ہے، انسانیت کا درد رکھنے والے دل کی ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay