ضمیرکی بولی لگتی ہےاورضمیربیچےجاتےہیں،اسدعمر

اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ  ضمیر کی بولی لگتی ہے اور ضمیر بیچے جاتے ہیں۔ ماضی میں ممبرز اپنا ضمیر بیچتے اور پیسہ اکٹھا کرتے تھے۔

اسد عمر نے میڈیا بریفنگ میں کہا عوام کی بہتری سے ہی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ پارلیمان میں بیٹھے ممبران کی اخلاقی قوت ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ اس لئے پارلیمان میں آنے والے ممبران کا طریقہ کار شفاف بنانا چاہتے ہیں۔ ضروری ہے سینیٹ میں بیٹھے ممبران کی معاشرے میں عزت ہو۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ چھانگا مانگا سے شروع ہونے والا سلسلہ اب تک جاری رہا۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے اپنے بیانات بھی سب کے سامنے ہیں۔ سینیٹ میں بکرا منڈی لگنے پر ان لوگوں نے میثاق جمہوریت کیا تھا۔ میثاق جمہوریت معاہدے پر بےنظیر بھٹو، نواز شریف کے بھی دستخط ہیں۔

اسدعمر نے پریس کانفرنس میں کہا احسن اقبال کہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں۔ اصولی مؤقف کو حقیقت میں بدلنے کا وقت آیا تو کہتے ہیں سازش ہورہی ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دیکھا جرم، سیاست، جمہوریت جڑ جاتی ہیں۔ سب کو معلوم ہے اس سینیٹ الیکشن کے بھی ریٹ لگنے شروع ہوگئے ہیں۔ اس لئے سینیٹ الیکشن کی ترمیم کی تجویز جوڑ توڑ روکنے کے لیے مؤثر ہتھیار ہے۔

اسدعمر نے بتایا فیٹف قانون سازی پر مشترکہ ہاؤس میں اپوزیشن کی اکثریت تھی۔ فیٹف قانون سازی پر مشترکہ ہاؤس میں یہ اپنی گنتی پوری نہ کرسکے۔ عمران خان کی نیوٹرل امپائر والی سوچ کرکٹ کے زمانے سے ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا کسی پارٹی چیئرمین نے 20 ارکان کی رکنیت معطل کی ہو۔ اس وقت سینیٹ الیکشن کے لیے کروڑوں روپے کی بولی لگ رہی ہے۔

اسدعمر نے یہ بھی کہا کہ گھناؤنے کاروبار کو بند کرنے کے لیے حکومت تمام راستے استعمال کرے گی۔ سپریم کورٹ سینیٹ الیکشن ریفرنس پر جو بھی فیصلہ کرے گی قبول ہوگا۔

وفاقی وزیراسدعمر نے مزید کہا ہاتھ کھڑے کرکے پورے پاکستان کو بتائیں کہ کس کو ووٹ دیا۔ ایم پی ایز آزاد ہیں جسے چاہیں ووٹ دیں آئین انہیں نہیں روکتا ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay