منفی کرنٹ اکاؤنٹ کے باعث ملکی معیشت کو مسلسل دوسرے ماہ بھی تجارتی خسارے کا سامنا

کراچی : منفی کرنٹ اکاؤنٹ کے باعث ملکی معیشت کو مسلسل دوسرے ماہ بھی تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں برس جنوری میں تجارتی خسارہ جنوری 2020ء کے مقابلے میں 55 فیصد رہا۔ جو کہ دسمبر 2020 کی نسبت 65 فیصد کم ہے۔ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔ جو کہ دسمبر 2020 کے 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خسارے کی بنیادی وجہ اشیائے خوراک، صنعتی خام مال اور مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہے۔ جنوری کے مہینے میں بجلی اور ٹیلی کام کے منصوبوں میں سرمایہ کاری 192.7 ملین ڈالر کی سطح پر رہی۔ جب کہ گزشتہ سال اسی مہینے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 219.6 ملین ڈالر رہا تھا۔

تاہم مالی سال 21-2020 کے پہلے 7 ماہ کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے ساتھ مثبت ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay