مسکراہٹیں بکھیرنے پی ایس ایل چلا آیا

مسکراہٹیں بکھیرنے پی ایس ایل چلا آیا

تحریر : محمد جواد آصف

 

انتظار کی گھڑیوں کے رخصت ہونے کا وقت آن پہنچا ہے اور آمد آمد ہے پاکستان میں کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ بلکہ اس کو اگر یوں فرمایا جاۓ کہ پاکستان میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ پی ایس ایل کی تو بےجا نہ ہوگا۔ شائقین کرکٹ بے صبری سے 20 فروری کی ان ساعتوں کو دیکھنے کے متمنی ہیں جب عاطف اسلم، نصیبو لعل، ينگ اسٹنرز (طلحہ انجم ،طلحہ یونس )، آئمہ بیگ، عمران خان اور ہمائیمہ ملک پی ایس ایل کی رنگا رنگ استقبالیہ تقریب میں اپنی آواز کا جادو جگا کر پی ایس ایل کو خوش آمدید کہیں گے۔

یاد رہے یہ تقریب ارطغرل غازی کے وطن ترکی میں ریکارڈ ہوچکی ہے اور اسے 20 فروری کو نشر کیا جاۓ گا۔ ٹورنامنٹ میں کل چھ ٹیمیں مد مقابل ہونگی جن کے مابین 34 میچز ہونگے۔ ایونٹ کے پہلے 20 میچز کراچی میں کھیلے جائیں گے جب کہ آخری 14 میچز کی میزبانی جس میں پلے آف مرحلہ اور فائنل بھی شامل ہے، لاہور کے حصے میں آئی ہے۔ ابتدائی میچ میں دفاعی چیمپئن کراچی کنگز اور سرفراز احمد کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پنجہ آزمائی کرینگی۔

کرکٹ کے متوالوں کے  لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مشاورت کے بعد %20 تماشائیوں کو اسٹیڈيم آنے کی اجازت دے دی ہے۔ اور اس کے لئے پروانہ اجازت یعنی ٹکٹس آن لائن میسر ہونگے۔

کچھ نظر ڈالتے ہیں پی ایس ایل کی تاریخ پر اور بنتے، ٹوٹتے ریکارڈز کے یادگار اور ناقابل فراموش لمحات کو ایک بار پھر اپنے اذہان میں تازہ کرتے ہیں۔

پہلا پی ایس ایل کا میلہ 2016 میں سجایا گیا جس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد اور انتھک محنت شامل تھی جس کا سہرا بلاشبہ پی سی بی کے سر جاتا ہے۔ مگر یہ پی ایس ایل متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا جس کی فاتح ٹیم مصباح الحق کی اسلام آباد یونائیٹڈ رہی۔ جس نے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو مات دے کر ٹورنامنٹ جیتا تھا۔

پی ایس ایل کا دوسرا ایڈیشن بھی اماراتی سرزمین پر ہوا لیکن فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈيم میں کھیلا گیا۔ جو ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا تھا ۔اس بار پھر کوئٹہ فائنل میں تھی لیکن ٹرافی ان کے نصیب میں نہیں تھی کیونکہ پشاور زلمی نے فتح اپنے نام کی تھی۔

تیسرا پی ایس ایل بھی امارات میں ہی ہوا لیکن اس بار پلے آف سمیت فائنل پاکستان میں ہوا اور ایک بار پھر کامیابی اسلام آباد کے حصے میں آئی جس نے پشاور زلمی کو شکست دے کر دوسری بار پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

پھر پی ایس ایل 4 کروایا گیا لیکن انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا کیوں کہ اس بار بھی میچز شیخوں کے دیس امارات میں ہوئے تھے۔ البتہ آخری آٹھ میچز جس میں پلے آف اور فائنل بھی شامل تھے پاکستان میں کھیلے گئے جو اس بات کی علامت تھی کے پی ایس ایل جلد پاکستان آئے گا۔ اس بار کوئٹہ نے اپنے آپ پر لگنے والی  “چوكرز” کی چھاپ سے جان چھڑائی اور فائنل میں زلمی کو دھول چٹا کر  فتح کی مہر لگائی۔

پھر 2020 میں ان لمحات کی تشریف آوری ہوئی جب پی ایس ایل فائیو کی ابتدائی تقریب سے لے کر اختتامی تقریب تک، پہلے میچ سے لے کر فائنل تک، سب کچھ پاک سرزمین پر منعقد ہوا۔ کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی نے میزبانی کا حق نبھایا۔ کرکٹ کے شیدائیوں کی خوشی دیدنی تھی جب انھوں نے ملکی و غیرملکی سپراسٹارز کو اپنے سامنے بیٹنگ کرتے، کیچ پکڑتے اور بولنگ کرتے دیکھا۔ بچہ، جوان، بوڑھا، خواتین غرض ہر کوئی پرجوش تھا لیکن صد حیف، کورونا نے رنگ میں بھنگ ڈالا اور پی ایس ایل کے پلے آف اور فائنل کو منسوخ کرنا پڑا لیکن نومبر میں منسخ شدہ میچز کو دوبارہ کروایا گیا اور کراچی کنگز نے اس بار میدان اپنے نام کیا وہ بھی لاہور قلندرز کو ہرا کر۔

پی ایس ایل کے پانچوں ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز پشاور زلمی کے کامران اکمل کے ہیں، 1537 رنز جو انہوں نے تین سنچریز کی مدد سے بناۓ ہیں اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی زلمی کے ہی جارحانہ فاسٹ بولر وہاب ریاض کے پاس ہے جنہوں نے 18.71 کی اوسط سے 76 وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔

اب پی ایس ایل کا چھٹا سیزن شروع ہونے والا ہے اور اس دوران پورے ملک میں ایک رونق کا سماء ہوگا۔ سوشل میڈیا پر فینز کی ایک دوسرے سے جنگ اپنی اپنی ٹیم کے حق میں ،میمز کی بہتات اور بہت کچھ۔

دراصل پی ایس ایل محض ایک کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں ہے بلکہ ایک تہوار ہے عام پاکستانی کے لئے۔ جو انکی بے ہنگم زندگی میں خوشی کے چند لمحات کو لیکر آتا  ہے۔ اس لئے اس کی تیاریاں بھی زور و شور سے کی جاتی ہیں۔ دکانوں پر ہر ٹیم کی شرٹ، کیپ، بریسلیٹ دستیاب ہونگے اور فینز اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لئے ان چیزوں کی خریداری میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے اس بار کون کامیابی سمیٹے گا اور کون گھر کی راہ لے گا۔ نامور غیر ملكی کھلاڑیوں گیل، ہیلز، کٹنگ، انگرام، ملر، راشد خان، محمد نبی، روسو، ڈنک اور دیگر کی مدد سے کون سی ٹیم پی ایس ایل 6 کی چیمپئن بنے گی۔ یہ تو بعد کی بات ہے لیکن خراج تحسین کے حقدار ہیں وہ گراؤنڈ اسٹاف ،سیکورٹی اہلکار، اور وفاق و صوبائی حکومت جن کی سرتوڑ کوششوں سے  ہم پی ایس ایل دیکھ کر محظوظ ہونے والے ہیں۔ تو جائیے، انتظار کس بات کا، ٹکٹ کٹائیں اور لطف اندوز ہوں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay