بھارت کی تمام فوجی نقل وحرکت پرہماری نظرہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان مخالف شدت پسندوں کی مددکررہاہے اس کاعلم افغان انٹیلی جنس کوبھی ہےجبکہ بھارت کی تمام فوجی نقل وحرکت پرہماری نظرہے۔

غیرملکی میڈیانمائندگان سےگفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کافرارہونابہت سنگین معاملہ تھا، اس کے کےذمےدارفوجیوں کےخلاف کارروائی ہوچکی، فرارکرانےوالےاہلکاروں کےخلاف کارروائی سےجلدآگاہ کریں گے اور احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ11کان کنوں کےقتل میں ملوث چندافرادکوحراست میں لیا ہے کو کہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں لیکن تفصیل نہیں دےسکتے، بچےکچےشدت پسندوں کےخلاف جارحانہ کارروائیاں شروع کی ہیں، قبائلی علاقوں میں منظم شدت پسندتنظیموں کوختم کردیاگیاتھا، کچھ عرصےسےتشددکےایک،2واقعات پھررپورٹ ہوئے لیکن اب شدت پسند تنظیموں میں اس علاقےمیں بڑےحملےکی صلاحیت نہیں ہے، ٓپ جب بھی شدت پسندوں کےپیچھےجاتےہیں توردعمل آتاہے۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ تشدد کےتازہ واقعات انہی کارروائیوں کاردعمل ہیں، فورسزکانقصان اورعمومی طورپرتشددمیں وقتی اضافہ ہوتاہے، گزشتہ دنوں خواتین کی کارپرحملہ اسی سلسلےکی کڑی تھی، اب اس علاقےمیں کوئی منظم گروہ باقی نہیں اور مختلف ناموں سےچھوٹےموٹےشدت پسندوں کاجلدمکمل خاتمہ ہوگا۔

مزید براں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی سرحدپرباڑکامعاملہ باہمی طورپرحل کرلیاگیا، نئی امریکی انتظامیہ افغان طالبان مذاکرات پرغورکررہی ہے، افغان امن عمل میں مذاکرات بلاتعطل جاری رہنےچاہئیں، آرمی چیف نےدورہ ایران میں باڑپرایران کےتحفظات دورکیے ہیں، آرمی چیف نےحالیہ بیان میں امن کاہاتھ بڑھانےکی بات کی، ہاتھ بڑھانےکامطلب یہ نہیں مشرقی سرحدپرخطرےسےآگاہ نہیں، حکومت پاکستان کی پالیسی ہمسایوں سےامن کاہاتھ بڑھاناہے جبکہ پاکستان میں شدت پسندوں کی مددافغانستان سےکی جارہی ہے اور بھارت ان تنظیموں کواسلحہ،جدیدٹیکنالوجی سےبھی نوازرہاہے۔

بابر افتخار نے مزید کہا کہ جس ٹوئٹراکاؤنٹ سےملالہ کودھمکی دی گئی وہ جعلی تھا، لاپتہ افرادمعاملےپربننےوالےکمیشن نےبہت پیشرفت کی ہے، کمیشن کےپاس6ہزارسےزائدکیسزتھے4ہزارحل کیےجاچکے، اب لاپتہ افرادکامسئلہ حل ہونےکےقریب ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay