پی ٹی آئی ارکان نے ن لیگ سے ٹکٹ مانگا، بہت سے ایم این ایز اور ایم پی ایز رابطے میں ہیں، مریم نواز

اسلام آباد : مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان نے ن لیگ سے ٹکٹ مانگا تھا۔ لیکن ن لیگ بڑی جماعت ہے، ہر کسی کو ٹکٹ نہیں دے سکتی ہے۔ تاہم بہت سے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہم سے رابطےمیں ہیں۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ن لیگ کشمیر الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ قوم اور اداروں کو اب سمجھ آگئی ہے کہ سسلین مافیا کیا ہوتے ہیں ؟

مریم نواز نے کہا الیکشن کمیشن کوچارج شیٹ کیا گیا۔ ادارے ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ کریں تو اچھے ہیں۔ سپریم کورٹ کی اوپن بیلٹ پر رائے آئینی پوزیشن تھی۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کو آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے جو رائے دی وہ آئین کے تحت دی ہے۔ اوپن بیلٹ کے لیے پارلیمنٹ ہی آئینی ترمیم کرسکتی ہے۔

مریم نواز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا بلوچستان اور کےپی میں اربوں پتی لوگوں کو ٹکٹ دیئے گئے۔ پی ٹی آئی بلوچستان اور کے پی میں جیتیں تو الیکشن بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اسلام آباد میں ایک نشست ہارجائیں تو الیکشن ٹھیک نہیں ہے۔

مریم نواز نے الیکشن کمیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا اب اداروں کو بھی معلوم ہے اداروں کی تضحیک کرنے والے کون لوگ ہیں۔ میں صدر عارف علوی کو بھی مبارکباد دیتی ہوں کہ انہیں دیر سے ہی لیکن سمجھ آگئی ہے۔ صدر نے واضح طور پر اپنی سمری میں لکھا ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ کھوچکے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی شق 91 کی شق 7 کے تحت بلایا گیا ہے۔ جس میں درج ہے کہ وزیراعظم اعتماد کھوچکے۔ اب اعتماد کا ووٹ لیں۔ صدر مملکت کی بھیجی گئی سمری پبلک ہونی چاہیے۔

مریم نواز نے کہا جو بات قوم کو ضمنی انتخابات میں سمجھ آگئی تھی وہ صدر پاکستان کو کل سمجھ آئی۔

مریم نواز نے تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ن لیگ کو پرانی جماعت نہ سمجھا جائے جو ظلم و جبر سہہ جائے گی۔ ن لیگ کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا تو ڈسکہ جیسا حال ہوگا۔ ان کے ارکان نے ن لیگ سے ٹکٹ مانگا تھا۔ لیکن ن لیگ بڑی جماعت ہے، ہر کسی کو ٹکٹ نہیں دے سکتی ہے۔ تاہم بہت سے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہم سے رابطےمیں ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیگی رہنماء مریم نواز نے کہا کہ ہم نے اداروں کے فیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔ میں عمران خان کو ملک کا وزیراعظم نہیں مانتی ہوں۔ عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم تھے، ہیں اور رہیں گے۔ 2018 کے انتخابات کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay