پاکستانی معاشرے میں خواتین اور ان کا عالمی دن

پاکستانی معاشرے میں خواتین اور ان کا عالمی دن

تحریر : ماہین معیز

ایک زوردار جھٹکے نے فورا ہی جیسے ہوش کی دنیا میں لا کر پٹخ دیا تھا۔ شاید ڈرایئور نے بریک لگایا تھا۔ اف یہ کراچی کی سڑکیں، ٹریفک اور بس کے دھکے. کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے نے جیسے سارے اعصاب جھنجھوڑ کے رکھ دیے تھے۔ دل تو چاہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کے رو دوں چیخوں چلاوں۔ لیکن آج پہلی دفعہ کسی کا غیر اخلاقی طریقے سے چھونا تمام اعصاب شل کر گیا تھا. پہلے تو صرف سنا ہی تھا آج پہلی دفعہ محسوس کرنے پہ وحشت ہو رہی ہے۔ اور چیخنے چلانے کا بھی کیا فائدہ ہونے والا تھا؟ درندہ اپنا کام تو کر ہی چکا تھا۔ اس سے باز پرس کرنے پہ یہ کہہ کر چلا جاتا کہ بہن غلطی سے لگ گیا ہوگا۔ معاف کرنا بسوں میں یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے اور اپنی زہرخند مسکراہٹ لیے چلا جاتا۔ اب بھلا اس سے کون پوچھتا کہ مردوں کی جگہ سے باہر کیوں نہ نکلے یا پھر جان بوجھ کر چھونے اور غلطی میں کیا فرق نہیں پتا؟ خیر اسی طرح لمبی سانس لے کر خود کو کمپوز کیا اور خود کی ہمت باندھی جیسے روز گھر سے نکلنے سے پہلے گلیوں میں بیٹھے نوجوان لڑکوں کے فقروں کو برداشت کرنے کے لیے کرتی ہوں۔ اور پھر بس سٹاپ پہ بس کے انتظار میں کھڑے رہ کر آنے جانے والے میری قوم کے نام نہاد مردوں کی حفاظت کے ساتھ مجھے میری منزل تک پہنچانے کی پیشکش سن کر کرتی ہوں۔ یقیناً یہ پیشکش بھی مجھے سرکشہ پوائنٹ آف ویو کو مدنظر رکھ کر دی جاتی ہوگی.”ہمیں پیاری پیاری آزادی، ہم لے کر رہیں گے آزادی ، زرا پیار سے بولو آزادی” نے سوچوں کا ارتکاز توڑا تو یاد آیا آج 8 مارچ ہے۔ خواتین کا عالمی دن جو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اور پاکستان میں پچھلے 3 سال سے “عورت مارچ” کے نام سے منایا جا رہا ہے. تھوڑا اونچا ہو کہ دیکھا تو خواتین کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی شامل پایا۔ اور خواتین کو ہمیں جان سے پیاری آزادی کا نعرہ اور ہاتھوں میں مختلف پلے کارڑز جن میں “نہیں چلے گی نہیں چلے گی میرا جسم تیری مرضی نہیں چلے گی، اگر دوپٹا اتنا پسند ہے تو آنکھوں پہ باندھ لو ، فریڈم اوور فیئر ، ہمیں جسمانی اور ذہنی تشدد سے تحفظ چاہیے ” جیسے نعرے درج تھے وہیں کچھ مردوں کو “بولو پینسل پیٹریارکی patriarchy) کینسل، آئی مارچ فور مینسچوریشن، میری بیٹی اسکی مرضی ” جیسے پلے کارڑ پکڑے کھڑا پایا تو فورا سے پیشتر میری آنکھوں کے سامنے محض چند ساعت قبل کا منظر گھوم گیا۔ اور میرا جسم اور کسی اور کی مرضی سے چھوتا لمس یاد آیا تو دل چاہا اس مارچ میں شامل افراد سے پوچھوں کہ 3 سال سے اب تک اسی دن ان کا سڑکوں پہ نکل آنے کا مقصد کتنے فیصد کامیاب ہوا؟ یہ آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے غیرت کے نام پر قتل کر دینے والی قندیل بلوچ کو انصاف دلوانے کیوں نہیں کھڑی ہوئیں. 3 سال سے مسلسل ہونے والے عورت مارچ نے قندیل بلوچ، لاہور موٹر وے ریپ کیس، زینب ریپ کیس اور پتہ نہیں کتنی معصوم بچیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال جیسے واقعات کی روک تھم یا حقوق نسواں میں اپنا کوئی کردار کیوں نہیں ادا کیا. دوسرے ممالک میں یہ دن اس طرح منایا جاتا ہے کہ خواتین کو ان کی برابری اور ان کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کا نقشہ ہی الٹ ہے۔ ان کی مثال سارا سال دلدل میں سوئے مینڈک کی طرح ہے جو 8 مارچ کو میری قوم کی بہنوں میں ایک دوسرے کے حق میں اور میری انہیں بہنوں کے محافظ بھائیوں میں غیرت کے نام پر جاگ جاتا ہے۔ جو کہ صرف سوشل میڈیا پر ہی دکھائی دیتا ہے . عورت مارچ کے نام پر ہی لبرلز اور اسکالرز میں جنگ کا آغاز ہوجاتا ہے۔ جس کا بے حیا، کافر، تنگ نظر اور ایک کبھی ختم نہ ہونے والی فضول بحث پہ ختم ہو جاتا ہے۔ عورت مارچ میں حصہ لینے والے میرے تمام بھائیوں سے صرف ایک سوال ہے کہ کیا وہ اس مارچ میں موجود ہر عورت خواہ وہ پردے میں لپٹی ہو یا ننگے سر ہو، اپنے آس پاس  انسانی شکلوں میں موجود جانور جن کی نظروں میں ہوس کے سوا کچھ بھی نہیں ان سے بچا سکتے ہیں؟ کتنوں کو تو شاید اس چیز کا احساس تک نہ ہو آخر ایک پلے کارڑ تھام کر چیخنے میں اتنی طاقت جو لگ جاتی ہے تو یہ سب کون سمجھے یا وہاں موجود ہر مرد فرشتہ ہے ؟ اور میری بھولی بہنیں جن سے آزادی مانگ رہی ہیں وہ گھر میں بیٹھے ہیں۔ دراصل عورت مارچ مردوں کے غلط رویہ کے خلاف نہیں بلکہ مردوں کی غلط تربیت کرنے والی عورتوں کے خلاف ہونا چاہیے۔ میں عورت مارچ کے خلاف ہرگز نہیں ہوں میں پاکستان میں ہونے والے عورت مارچ کے نام پر رقص کرنے اور بلا وجہ سڑکوں پہ نکل آنے کے خلاف ہوں۔ ہر عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔ اور اس کے گناہگار کو سزا دلوانے کے لیے سڑکوں پہ بھی نکلنا پڑے تو نکلے۔ لیکن صرف ایک دن نہیں ہر اس دن جب ایک عورت کے ساتھ رات اندھیرے میں اس کے بچوں کے سامنے اسے زیادتی کں نشانہ بنایا جائے۔ جب جب ایک معصوم نہ سمجھ کو ہوس کا نشانہ بنایا جائے۔ جب بیٹی پیدا کرنے پر طلاق دے دی جائے۔ جب گھر میں موجود کسی اور کی بیٹی پر ناحق ہاتھ اٹھایا جائے اور اس وقت تک اپنی جگہ نہ چھوڑے جب تک اس ملک کا قانون اسے اس کے گناہ کی سزا نہ دے دے۔ آزادی صرف چند گھنٹے راستہ بلاک کرنے سے ہر گز نہیں ملنے والی آزاد ہونا ہے تو گھر میں موجود اپنے لخت جگر کو یہ سکھائیں کہ جب گھر سے باہر نکلے تو باہر موجود ہر عورت کے ساتھ اپنی  ماں بہن اور بیٹی جیسا رویہ رکھے۔ تاکہ مجھ جیسی اور ہزاروں لڑکیاں  اسکول، کالج ، یونیورسٹی، آفس جانے سے پہلے اور  پبلک ٹراسپورٹ یا بس اسٹاپ پہ کھڑے رہ کر اتنا ہی محفوظ محسوس کریں جتنا کہ گھر میں کرتیں ہیں ، آفس میں پروشن ملنے پر اتنا ہی موٹیویٹ کریں جتنا کہ اپنی بہن یا بیٹی کی کامیابی پہ اسے کرتے ہیں نہ کہ یہ کہہ کر حسد کریں کہ یہ کامیابی ہمیں ذہانت نہیں بلکہ حسن کی بنا پر ملی ہے۔ اور اپنی سون چڑیا کو گول روٹی کے ساتھ ساتھ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بھی سکھائیں جب ہی اصل آزادی مل سکے گی۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay