پاکستانی خواتین کی مسائل

پاکستانی خواتین کی مسائل

تحریر : ماہین معیز

کم عمری میں شادی : (ونی)

چائلڈ میرج ریسٹیرینٹ ایکٹ کے مطابق سولہ سال سے کم عمر بچیوں کی شادی کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ لیکن اس کے باوجود صوبہ پنجاب، سندھ کے بہت سے دیہات اور قبائلی علاقوں میں میں کم عمری میں بیاہ دینا ایک عام رواج ہے۔ جسے زبان زد عام میں ونی کہا جاتا ہے۔

کئی مرتبہ دو قبائلوں کی دشمنی کے نتیجے میں کسی ایک قبیلے کے فرد کے خون کے بدلے میں دوسرے قبیلے کی کمسن بچی بیاہ دی جاتی ہے۔ جو کہ ونی کا ٹیگ لیے ساری زندگی جیل نما چار دیواری میں گزار دیتی ہے۔

سوارہ، پیٹ لکھی، اڈڈو بڈڈو جیسے قبائلی اور دیہاتی علاقوں میں یہ رواج عام ہے۔ 2021 جنوری کی ایک رپورٹ کے مطابق سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ میں دو خاندانوں کے درمیان خاندانی دشمنی کو صلح میں بدلنے کے لیے چھ سالہ بچی کو ونی میں دینے کے لیے جرگہ جاری تھا۔ تاہم پولیس نے اطلاع ملتے ہی جرگے پر چھاپہ مارکے 12 افراد کو موقعے پر گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ 2011 میں’پریوینشن آف اینٹی ویمن پریکٹیسز‘ کے نام سے ایک قانونی ایکٹ تشکیل دیا گیا۔ جس کے مطابق خواتین کی ونی کی شکل میں شادی جرم قرار دی گئی ہے۔ جس کی سزا کم سے کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال مقرر کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، جرم ثابت ہونے کی صورت میں قید سمیت پانچ لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

وٹہ سٹہ :

پاکستان کے شمالی اور مغربی دیہاتی اور قبائلی علاقوں میں وٹہ سٹہ کا رواج عام ہے جس میں گھر میں ایک دلہن بن کر آتی ہے تو گھر کی بیٹی دلہن بن کے اسی گھر جہاں سے دلہن لائی گئی ہے رخصت کر دی جاتی ہے۔ اسلامی شریعت کے مطابق شادی میں لڑکا لڑکی دونوں کی مرضی شامل ہونی چاہیے۔ اس کے بوجود زور زبردستی کی بناہ پر لڑکی کو اپنے سے دگنی عمر کے شخص کے ساتھ رخصت کر دیا جاتا ہے۔

جہیز:

جنوبی ایشیا کے باقی حصوں کی طرح پاکستان میں بھی جہیز لینے اور دینے کا رواج عام ہے۔ اور نہ دینے پر مار پیٹ ،گالم گلوچ اور اکثر جان سے ہاتھ دھونے جیسے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔

خواتین پر تشدد:

نجی خبر رساں ادارے کے مطابق 2010 میں تقریبا 22 ہزار جنسی زیادتی کے کیس پاکستان میں درج ہوئے یعنی روز کے تقریبا 11 کیسس جن میں سے صرف 11 فیصد ہی استغاثہ کا مرحلہ پار کر پاتے ہیں۔

عورت فاونڈیشن کی جانب سے 2020 کی عالمی وباء COVID 19 کے دوران خواتین اور لڑکیوں پہ تشدد، ظلم و زیادتی  پر مرتب رپوٹ کے مطابق پاکستان کے 20 ضلع میں 2298 خواتین پر گھریلو تشدد کے کیس درج ہوئے۔ جن میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، جنسی زیادتی، خودکشی، تیزاب پھیکنا، جلانا، اغواء کرنا جیسے کیس درج ہیں۔ جن میں 8 فیصد صوبہ پنجاب اور 28 فیصد صوبہ سندھ سے موصول ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں گھریلو زیادتی کو ذاتی تنازعہ کی بنیاد پر رد کر دیا جاتا ہے۔ گھریلو تشدد میں ازدواجی عصمت دری کو جرم نہیں سمجھا جاتا اور ظالموں کو کھلم کھلا چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ اور اکثر خواتین خاندان کی عزت، مزید تشدد اور بچوں سے جدائی جیسی مضبوط دیوار کو پھلانگنے سے ڈر جاتی ہیں۔ اور قیدیوں جیسی زندگی کو اپنا نصیب اور قسمت سمجھ کر برداشت کی ہر حد پار کر جاتی ہیں۔ ازدواجی عصمت دری کے شکار سے حاملہ عورت تک محفوظ نہیں ہے۔ اور دوستوں اور گھر والوں سے مدد کی صورت میں ملنے والے صبر کے سبق کو سن کے چپ سادھ لیتیں ہیں۔ غیرآدمی کی طرف سے جنسی حملے کی رپوٹ درج کروانے والی خواتین کو بھی جھوٹی اور شک بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اور پھر پولیس کی گالیاں سن کے فرانزک ڈاکٹر کی شک بھری نگاہیں جو زخموں اور چوٹوں سے زیادہ کنوارے پن پر ہوتی ہیں۔ زیادتی کا شکار مظلوم عورتوں کے بیان کو کسی بھی قسم کی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اور وہ بیچاریاں پہلے ہی اپنی عزت کا جنازہ نکلنے پہ بے حال ہوتیں انصاف کے لیے چیختی اپنی سچائی بیان کرتے کرتے نڈھال ہو جاتیں ہیں۔ ایسڈ ویکٹم کا شکار خواتین کے لیے پاکستان کے قانون کے مطابق سیکشن 299 ملزم پر عائد ہوتا ہے۔ جسے قصاص کہتے ہیں یعنی آنکھ کا بدلہ آنکھ. مظلوم کے جس حصے کو جھلسایا گیا ہے ظالم کے بھی اسی حصہ پہ وہی تکلیف دی جائے گی۔

2019 پاکستان فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی FIA کی انویسٹیگیشن کے مطابق پاکستان کی ہزاروں خواتین کی زبردستی چین بھیجا جاتا ہے اور وہاں انہیں بیچ کر چینی مردوں سے شادی پر زور دیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ان سب ظلم کی تو کوئی کہانی ہی درج نہیں۔ اور اگر درج ہے بھی توانصاف کی بھیک مانگ مانگ کر اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے۔ یا پھر فائل کسی انبار میں پڑی پڑی مٹی کے ڈھیر میں بدل جاتی ہے یا پھر دیمک کھا جاتی۔ اسی طرح جس طرح انصاف کے لیے رلتی عورت کو کورٹ کے دھکے اور معاشرے کی نظریں کھا جاتی ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay