کلارا زیڈکن کون تھیں؟

تحریر : ماہین معیز

کلارا زیڈکن خواتین کو مساوی حقوق دینے کا نظریہ دینے والی پہلی خاتون اور فیمینیزم کی بانی ہیں۔ زیڈکن کو شروع ہی سے حقوق نسواں اور وومین پولیٹیکس میں دلچسپی تھی۔ جس میں خواتین کو برابر حقوق اور موقع دلانے کی لڑائی اور معاشرتی سطح پر ووٹ دینے کا حق شامل ہے۔ انہوں نے جرمنی میں سماجی جمہوری وومن موومینٹ بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ 1891-1918  تک وہ ایس پی ڈی وومین نیوز پیپر کی ترمیم کرتی رہیں جو کہ برابری پر مبنی تھا۔ اور 1908 میں ایس پی ڈی کے وومین آفس کی لیڈر بنیں۔

کلارا زیڈکن نے خواتین کے عالمی دن میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اگست 1910 میں خواتین کا عالمی اجلاس ڈین مارک میں منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں زیڈکن اور کیٹ ڈنکر جیسے نامور امریکن سوشلسٹ  نے ہر سال خواتین کا خاص دن منانے کی تجویز پیش کی۔ جس میں 18 ممالک سے تقریبا 100 خواتین نے شرکت کی۔ اور ووٹ دینے اور برابری کے حقوق حکمت عملی سے لینے کے خیال سراہا گیا۔ اور 19 مارچ 1911 سے عورتوں کا عالمی دن آسٹریلیا، ڈین مارک ، جرمنی اور سویٹزرلینڈ میں پہلی دفعہ منایا گیا۔

1899 کے دوسرے عالمی اجلاس میں زیڈکن نے ایک تقریر پیش کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” کام کرنے والی عورت سماجی برابری کے سوا کچھ نہیں چاہتیں ” ان کا نظریہ چھوٹے اور بڑے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین اور کام کرنے والی کے لیے مختلف تھا۔ جس کی وجہ ان سب کی ذہنی اور معاشرتی حالات کا مختلف ہونا ہے۔ تاہم وہ برگزی فیمینزم سے شدید اختلاف رکھتی تھیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay