علی ترین ایف آئی اے میں پیش، وکلا نے ریکارڈ پیش کر دیا

جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے مبینہ مالیاتی فراڈ میں ڈیڑھ گھنٹہ ایف آئی اے تحقیقاتی ٹیم کے سوالوں کا جواب دیا۔ وکلا نے ریکارڈ پیش کر دیا۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم نے تحقیقات کیں۔ علی ترین ڈیرھ گھنٹے تک ایف آئی اے کے دفتر میں موجود رہے۔

علی جہانگیر ترین کو ایف آئی اے نے 4 ارب 35 کروڑ کے مبینہ مالیاتی اسیکنڈل میں 5 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ بھجوایا تھا۔ جس میں پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی کمپنی جے کے فارمنگ کو خود سے طے کردہ قیمت 4 ارب 85 کروڑ روپے میں کیسے بیچا۔

جے فارمنگ کو فروخت کرنے کی وجوہات کیا تھیں، نقصان کے باوجود کمپنی کئی گناہ زیادہ قیمت پر جے ڈی ڈبلیو کو بیچی گئی۔ کمپنی کی فروخت سے حاصل شدہ 4 ارب 35 کروڑ روپے کی رقم کہاں استعمال ہوئی، اس کی منی ٹریل دی جائے۔ یاد  رہے کہ   علی جہانگر ترین کو ایف آئی اے نے 4 ارب 35 کروڑ کے مبینہ مالیاتی اسیکنڈل میں آج طلب کیا تھا۔

 ادھر چینی سٹہ مافیا اور جے ڈی ڈبلیو کیس میں علی ترین کے 21، جہانگیر ترین کے 14 اور ان کی اہلیہ کا ایک بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیا گیا۔ ان بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی رقم موجود ہے۔

 ذرائع کے مطابق سرکاری اور نجی بینکوں نے جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے 36 اکاؤنٹس منجمد کئے ہیں۔ 4 اکاؤنٹس امریکی ڈالرز، 2 برطانوی پاؤنڈز اور 30 پاکستانی کرنسی کے اکاؤنٹس منجمد کئے گئے۔ مجموعی طور پر 36 اکاؤنٹس منجمد ہوئے ہیں۔ سٹیٹ بنک نے ایف آئی اے کی درخواست پر اکاؤنٹس منجمد کیے۔

جہانگیر ترین کا دس اپریل کو عدالت پیشی میں بھرپور پاور شو کا فیصلہ

 تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے دس اپریل کو بیکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر ایک بار پھر بھرپور پاور شو کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جہانگیر ترین نے حکمت عملی طے کرنے کے لئے جمعہ کے روز اپنی رہائشگا ہ پر پارٹی کے ہم خیال رہنماؤں کو عشائیہ پر مدعو کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین 10 اپریل کو دوبارہ بیکنگ کورٹ میں پیش ہوں گے۔ وہ پارٹی کے ہم خیال ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کے ساتھ جائیں گے۔

جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر منعقد عشائیے میں ارکان اسمبلی سمیت ہم خیال ٹکٹ ہولڈرز کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین اپنے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ آئندہ قانونی لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے اور ہم خیال رہنماؤں کو اعتماد میں بھی لیں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل واوڈا نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ جہانگیر ترین سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ انکوائری رپورٹ کے مطابق 17 شوگر ملز چینی سکینڈل میں ملوث پائی گئیں۔ چینی مافیا کی وجہ سے غریب پاکستانیوں کو قیمت ادا کرنا پڑی۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عمران خان برداشت نہیں کر سکتے۔ کوئی معصوم ہے یا قصوروار؟ اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔خیال رہے کہ اپنے ایک بیان میں جہانگیر ترین نے کہا تھا کہ دوست تھے، دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے، انتقامی کارروائی کیوں؟ وفاداری کا ایک سال سے امتحان لیا جا رہا ہے۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں، میرے اور میرے بیٹے کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے، اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ، کون کر رہا ہے ؟ وقت آگیا ہے کہ انتقامی کارروائی کو بے نقاب کیا جائے، تحریک انصاف میں شامل ہوں اور رہوں گا، میری راہیں تحریک انصاف سے جدا نہیں ہوئی ہیں۔

اس موقع پر راجہ ریاض نے کہا کہ عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے میں سب سے زیادہ کردار جہانگیر ترین کا تھا، عمران خان نے جہانگیر ترین کی وجہ سے ہی اعتماد کا ووٹ لیا، وزیراعظم کے اردگر بیٹھے لوگ خرابیاں پیدا کر رہے ہیں، وزیراعظم اپنے اچھے کو دوست کو نہ کھوئیں۔

ادھر شوگر ملز میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 10 اپریل تک توسیع کر دی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay