این اے 75 ضمنی الیکشن: تحریک انصاف کو شکست، ن لیگ نے میدان مار لیا

این اے 75 میں ایک مرتبہ پھر ہونے والے ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی سیّدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی کو ہرا کر میدان مار لیا۔

تفصیلات کے مطابق این اے 75 کی پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی، ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علی اسجد ملہی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی سیّدہ نوشین افتخار کے درمیان مقابلہ ہوا۔

 این اے 75 کے حلقے میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 94 ہزار ہے جن کے لیے 360 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 47 کو حساس قرار دیا گیا ہے، پولنگ کے دوران رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیئے جبکہ پاک فوج کو سٹینڈ بائی کے طور پر رکھا گیا۔ پولنگ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا جبکہ پر امن پولنگ ہوئی۔

ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی سیّدہ نوشین افتخار نے ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ لیکر کامیابی ہوئیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علی اسجد ملہی نے 92 ہزار 19ووٹ حاصل کیے۔

ڈسکہ ضمنی الیکشن:

واضح رہے کہ 19 فروری کو قومی اسمبلی کے حلقہ 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات ہوئے تھے اور فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔ 20 پریزائیڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ لاپتا بھی ہوگئے تھے جو اگلے روز صبح 6 بجے آر او دفتر پہنچے۔

ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیر ضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیر حتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خاں نے ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 پر ہوئے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اُمیدوار سے 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دینے کا کہا تھا۔

الیکشن کمیشن نے شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بناتے ہوئے این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیا اور 18 مارچ کو حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا تھا۔ جس پر اس ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست میں انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صورتحال اور حقائق کو بالکل فراموش کرتے ہوئے فیصلہ کیا جو  واضح طور پر غیر منصفانہ اور غیر قانونی  ہے۔ الیکشن کمیشن نے دستیاب ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا، حلقے میں دوبارہ انتخابات کا کوئی جواز نہیں ہے۔

بعد ازاں 25 مارچ کو سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرنے کا حکم دے دیا تھا، جس کے بعد ضمنی انتخاب کی تاریخ بڑھا کر 10 اپریل کردی گئی تھی۔

2 اپریل کو سپریم کورٹ نے حلقے میں دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی درخواست مسترد کردی تھی۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay