پیپلزپارٹی کاپی ڈی ایم کےتمام عہدوں سےمستعفی ہونےکااعلان

پیپلزپارٹی نے سی ای سی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کو مسترد کیا ہے اور تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان  بھی کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹونے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ استعفے ایٹم بم ہیں،آخری ہتھیارہونا چاہیے، ہماراآج بھی یہی موقف ہے،کل بھی یہی موق تھا، قومی وصوبائی اسمبلیوں سےاستعفےآخری ہتھیارہونےچاہئیں، ضمنی الیکشن میں عوام نےبتا دیا وہ اپوزیشن کےساتھ ہیں۔

ضمنی انتخابات میں حصہ لیکر حکومت کو ایکسپوز کردیا ہے، سینیٹ الیکشن میں حصہ لیکر حکومت کا مقابلہ کیا، جس کواستعفیٰ دیناہےدےدیں لیکن کسی پارٹی کوڈکٹیٹ نہ کریں، ہم پرکوئی اپنے فیصلے مسلط نہ کرے، سیاست،عزت برابری کی بنیاد پرکی جاتی ہے، سی ای سی نے شوکاز نوٹس کو مسترد کردیا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ مطالبہ کرتے ہیں پیپلزپارٹی اوراے این پی سےمعافی مانگی جائے، شوکازدینےکی کوئی مثال پاکستان کی تحریکوں میں نہ ملتی، ہم اے این پی کواکیلانہیں چھوڑیں گے ان کےساتھ کھڑے ہیں، کسی کوشوکازنہیں دیاگیاجب پی ڈی ایم ایکشن پلان پرعمل نہیں ہورہاتھا، ضمنی الیکشن کابائیکاٹ کرتےتوساری نشستیں پی ٹی آئی جیت جاتی۔

بلاول بھٹو نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ پہلےدن سےپیپلزپارٹی معاشی پالیسی پرتنقید کرتی رہی ہے، پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کےساتھ پلان پرپہلےدن سےتنقید کررہےہیں، پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ڈیل ہے، پی ٹی آئی اورآئی ایم ایف ڈیل پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، اس ڈیل کے ذریعے غریب عوام کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، عوام کےکندھوں پراتنابوجھ ڈالیں جتناوہ برداشت کرسکیں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا ہے کہ پی پی نےہمیشہ ایسےاقدام کی مخالفت کی ہےاورآج بھی کررہی ہے، گیس کےپرائس ڈبل کررہےہیں،بجلی میں اضافہ کررہے ہیں، گیس کےپرائس ڈبل کررہےہیں،بجلی میں اضافہ کررہے ہیں، ہم نے بل کی معلومات آئی ایم ایف سے لی ہیں، پاکستان کوپی ٹی آئی ایم ایف ڈیل سےنکلنا چاہیے، عام آدمی پراتناہی بوجھ ڈالاجارہاہےجتنااشرافیہ پرڈالاجارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف ڈیل کی تفصیلات پارلیمان میں نہیں رکھی گئی، ایک آرڈیننس سےمرکزی بینک کی خودمختاری چھینی جارہی ہے، پارلیمنٹ میں ہم اس آرڈیننس کی مخالفت کریں گے، بجلی کےفی یونٹ پر 5 روپے کا اضافہ ہوتا ہےتو پورا ملک متاثرہوگا، ہم اس آرڈیننس کو عدالت میں بھی چیلنج کریں گے۔

 اسٹیٹ بینک پر اس حملے کو برداشت نہیں کریں گے، گیس  کی قیمت دگنی،بجلی کی قیمت میں اضافہ کررہےہیں، یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے مفاد میں ہے،آٓئی ایم ایف ڈیل کیخلاف رمضان میں بھی مہم چلانے کااعلان اگر آپ کو پہلے ہی فیصلے کرنے تھے تو بجٹ اجلاس کیوں بلایا گیا۔

اجلاس کا دوسراایجنڈا حکومت کی کشمیر کےلیے کنفیوژ پالیسی ہے، ہم پہلے دن سےموجودہ حکومت کی کشمیرپالیسی کی مخالفت کررہےہیں، پیپلزپارٹی اورکشمیرکا3نسلوں کارشتہ ہے،ہم نےکبھی کشمیرپرسمجھوتہ نہیں کیااورنہ کریں گے،کشمیرپاکستان کا سب سے بڑااور اہم مسئلہ ہے، تاریخ میں یاد کیا جائےگا کشمیر کازپرایک ناکام وزیراعظم تھا،مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی گئی تووزیراعظم نےکہامیں کیا کروں، جہاں مظلوم کشمیری  نہیں بول سکتےتھےوہاں پاکستان کوبولنا چاہیےتھا۔

بھارت کےالیکشن کےدوران وزیراعظم نے مودی کی حمایت کی،وزیراعظم کاپارلیمنٹ کےفلورپرردعمل تھامیں کیا کروں،مودی کےلیےوزیراعظم مہم چلارہے تھے،اچانک وزیراعظم کویادآیامودی توفاشسٹ ہے،کہتےہیں5اگست کافیصلہ واپس نہیں ہوگاتوبھارت سےبات نہیں کریں گے۔

ہمارےاجلاس کاتیسرا پوائنٹ مردم شماری سےمتعلق تھا، ہم کمپرومائزمردم شماری کی مخالفت کرتےآرہے ہیں،صاف شفاف الیکشن کی طرح صاف شفاف  مردم شماری کے مطابق عوام کی نمائندگی کا فیصلہ کیا جاتا ہے،مردم شماری بھی ضروری ہے، 2017میں مردم شماری پراعتراضات آئے،الیکشن ملتوی نہیں کرناچاہتےتھے۔

مردم شماری کے مطابق عوام کی نمائندگی کا فیصلہ کیا جاتا ہے،تمام جماعتوں نےکہاتھا5فیصدری کاؤنٹ ہوگالیکن نہیں ہوا، مردم شماری کے نتائج متنازع تھے،مردم شماری کےنتائج کامعاملہ ایک مسئلہ رہا ہے، پیپلزپارٹی صاف شفاف مردم شماری کا مطالبہ کرتی ہے،مردم شماری کا معاملہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں لایاجائے،مردم شماری کےطریقہ کار کی2017 سےمخالفت کرتےآرہےہیں،سی سی آئی کے فارم پر بھی ہم اعتراض کررہے ہیں، سی سی آئی میں اتفاق نہ ہوتومسئلہ پارلیمان کےجوائنٹ سیشن میں لایا جائے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ  پارلیمان کونہیں بتایاجاتا بھارت سےٹریڈ کررہےہیں یانہیں،پارلیمان کواعتماد میں نہیں لیاجاتا، کشمیرکےحوالے سے حکومتی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں،وزیراعظم کشمیر پرغلطی پر غلطی کرتے ہیں، کشمیری بہن بھائی تاریخی ظلم اور حملے برداشت کررہے ہیں۔

شہید بھٹو نےکہا تھا نیند میں بھی کشمیر پرغلطی نہیں کرسکتا،کبھی عمران خان کلبھوشن کےوکیل بننےکوتیار ہوتےہیں،کبھی عمران خان کہتے ہیں کشمیر کےسفیر بنیں گے، پیپلزپارٹی کی کشمیرایکشن کمیٹی ہرفورم پرمسئلہ کشمیراٹھائےگی، پاکستان کی خارجہ پالیسی کےفیصلےعوام لیں گے۔

 

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay