چین ٹیکنالوجی کے استعمال سے چائے کی پیداوار بڑھانے میں پاکستان کی معاونت کرسکتا ہے ،چین ماہرین

چین کے ماہرین تجارت نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں کالی چائے درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔

چین کے ماہرین تجارت نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں کالی چائے درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوتا ہے،رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ (جولائی تا فروری ) کے دوران اس کی بلیک ٹی کا درآمدی حجم 37 کروڑ 93 لاکھ ڈالر رہا،چین اس شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے چائے کی پیداوار بڑھانے میں پاکستان کی معاونت کرسکتا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق یہ بات چین کے جنوبی صوبے گوئے ژو کی چائے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل شوجیامن نے ایک بیان میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بلیک ٹی کا استعمال بہت زیادہ اور یہ دنیا کا اس مد میں تیسرا بڑا درآمد کنندہ ہے،اس نے جولائی 2020 ءسے فروری 2021 ءکے عرصے میں 37 کروڑ 93 لاکھ ڈالر کی چائے درآمد کی۔ انھوں نے کہا کہ چینی ماہرین اس شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر پیداواری اضافے میں پاکستان کی معاونت کرسکتے ہیں، جیسے پیداوار میں اضافہ ہوگا اس کی لاگت کم ہوتی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چائے کی پتی بادی النظر میں ایک چھوٹی چیز ہے مگر اس نے گوئے ژومیں غربت کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا،چائے کی صنعت دیہی علاقوںمیں روزگار کی فراہمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا موثر ذریعہ ہے۔شوجیامن نے کہا کہ گوئے ژو میں 34 لاکھ (3.4 ملین ) افراد چائے کے پیداواری شعبے سے منسلک ہیں جن کی فی سالانہ فی کس آمدنی 12 ہزار یوان (1836.46 ڈالر، 280703 روپے) سے زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ برآمدی حوالے سے مشینی آلات کے ذریعے چائے کی پتیوں کی چنائی کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ اس طرح پیداوار بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، اس کے علاوہ ہماری ایسوسی ایشن چائے کے باغات کی بہتر مینجمنٹ کے لیے انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں ہم انہوئی ایگریکلچرل یونیورسٹی ،گوئے ژو یونیورسٹی، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور کمپنیوں کی تحقیقاتی ٹیموں سے تعاون کر رہے ہیں۔

شوجیامن نے کہا کہ ہمارے چائے کے اکثر باغات میں انٹرپرائز ڈرائیون ماڈل اپنایا جاتا ہے جس میں مقامی کسان کمپنیوں کے ملازم ہوجاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ چائے کے ایسے بھی کاشتکار ہیں جن کی اپنی زمینیں ہیں اور وہ خود ہی چائے کی کاشت کرتے ہیں۔شوجیامن نے کہا کہ غربت کا خاتمہ پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح ہے، چائے کی صنعت دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا امید افزا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے جس میں چین اپنا تجربہ بھی شیئرکرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وباءسے قبل گوئے ژو کی کچھ کمپنیوں کے افسران نے اس شعبے میں تعاون کے حوالے سے جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا،توقع ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہوگا۔

اے پی پی

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay