شہبازشریف کانام بلیک لسٹ سےنکالنےکی درخواست پر فیصلہ محفوظ

 لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف  کا نام بلیک لسٹ سےنکالنےکی درخواست پرمحفوظ فیصلہ سنا دیا گیا، لاہورہائیکورٹ نےشہبازشریف کوبیرون ملک جانےکی اجازت دےدی، شہبازشریف کو8ہفتےکےلیےبیرون ملک جانےکی اجازت دی گئی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ شہبازشریف واپس آکرمیڈیکل رپورٹ جمع کرائیں گے۔

اس سے قبل  لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ شہباز شریف خود کہاں ہیں؟ انہوں نے ریٹرن ٹکٹ کیوں نہیں لی؟ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے جواب دیا کہ شہباز شریف لاہور میں موجود ہیں، کورونا وائرس کی وجہ سے ریٹرن ٹکٹ فوری ملنا ممکن نہیں۔

عدالت کے طلب کرنے پر شہباز شریف لاہور ہائی کورٹ پہنچے،دورانِ سماعت شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ میں کینسر کا مریض رہا ہوں، مجھے سال میں 2 مرتبہ چیک اپ کرانا پڑتا ہے، مجھے جلا وطنی میں یہ مرض لاحق ہوا، امریکی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ لندن میں اس کا علاج کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ 15 سال سے علاج کرا رہا ہوں، جیل میں عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، میڈیکل رپورٹ میں نئے طبی مسائل تشخیص ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ علاج میں کتنا وقت لگے گا؟

شہباز شریف نے جواب دیا کہ میں پہلے بھی دو بار باہر جا کر خود واپس آیا۔عدالت نے کہا کہ آپ کے ریکارڈ سے ثابت ہے کہ آپ واپس آئے، اب یہ بتائیں کہ اب واپس کب آئیں گے؟

شہباز شریف نے سوال کیا کہ کیا میں دہشت گرد ہوں کہ میرا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا، میں 3 بار وزیرِ اعلیٰ رہا، اب قائدِ حزبِ اختلاف ہوں، مجھے جب ڈاکٹر واپسی کی اجازت دیں گے، میں فوری واپس آ جاؤں گا۔ شہباز شریف نے عدالت میں 3 جولائی کو واپسی کا ٹکٹ پیش کر دیا۔

شہباز شریف کی لاہور ہائی کورٹ آمد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے۔ میاں شہباز شریف کی طرف سے عدالتِ عالیہ سے نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی استدعا کی گئی ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay