ماں میری جنت

تحریر: عبیدﷲ
ترتیب و تدوین : عنبر حسین سید

ماں محبت، شفقت، عبادت، ریاضت
وہ لفظ ہی نہیں اُترا، جس میں سے تجھے لکھوں

اس دنیا میں ماں سے پیارا کوئی رشتہ نہیں، ماں باپ دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہیں، ماں نہ ہو تو دل کو دلاسہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا اور اگر باپ نہ ہو تو زندگی کی دوڑ میں اچھا مشورہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

میں آج اس دن کی مناسبت سے بتانا چاہوں گا کہ ماں صرف ایک لفظ نہیں ہے، بلکہ ایک پوری دنیا اس لفظ میں موجود ہے ، یہ لفظ آپ کے خوابوں کی تعبیرہے، میں جب گھر سے نکلتا ہوں تو ساتھ میری ماں کی دعائیں ہوتی ہے، مجھے زندگی کی دھوب چھاوں سے لے کر کڑی آزمائشوں سے گزرنے اور کامیاب ہونے کا طریقہ ماں نے بتایا۔

کامیابیوں کی راہوں میں جس کا تذکرہ ضروری ہے
وہ ماں ہے جس کے بغیر زندگی ادھوری ہے

میں ان خوش نصیبوں میں سےہوں جس نے جب ہوش سنبھالا تو مجھےصرف  ایک ماں کا پیار ہی نصیب نہیں ہوا بلکہ تین تین ماوُں کا پیار نصیب ہوا، ایک وہ ماں جس نے مجھے پیدا کیا، ایک وہ ماں جس نے مجھے بڑا کیا، اور ایک ماں وہ جس نے میری ضروریات کا خیال رکھا، جی ہاں یہ مائیں میری موسیا ہیں، اور مجھے یہ کہنے میں فحر ہوتا ہے کہ مجھے تین تین ماوُں کا پیار ملا ۔

دنیا میں مجھے جو بھی جتنا بھی ملا ہے یہ
سب کچھ میری ماں کی دعاوُں کا صلہ ہے

مجھے آج بھی وہ ایام یاد ہیں جب میری ماں ہمارے بھاری بیگ کندھوں پراٹھا کر ہمیں اسکول چھوڑنے جایا کرتی تھی ، کیسے بھی حالات ہوں کیسی ہی طبعیت ہو وہ کبھی اہنی اولادکی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوئیں ، زمانہ طالب علمی میں ہماری ماں ہمارے ساتھ طالب علم بن کر پورے 12 سال ہمارے ساتھ چلی، چاہیے وہ بورڈ کے امتحان ہو یا زندگی کے اور کوئی کام، ہر جگہ ہی ہم نے اپنی ماں کو اپنے ساتھ پایا، میں نے اپنی ماں کو اپنے ساتھ بارشوں میں بھیگتے دیکھا ہے بس فرق یہ تھا کہ میں راستے میں بھیگتا تھا اور وہ میرا انتظار کرتے ہوئے گھر کے د روازے پر ۔

میں نے کبھی اپنی ماں کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن جب میرے نانا ابو کا انتقال ہوا تو میں نے اپنی ماں کے آنسوؤں میں بہت کچھ محسوس کیا، مجھے اُس وقت احساس ہوا کہ والدین آپ کی زندگی میں کتنے ضروری ہوتے ہیں۔

میں اور کیا لکھوں اپنی ماں کے بارے میں کیونکہ اس قلم میں اتنی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ اور کچھ لکھ سکے، جس ماں نے ہمیں لکھا اُس پر کیا لکھیں گے اور۔ ۔ ۔ ۔

مانواں ٹھنڈیاں چھاواں

میرا اس دن کی مناسبت سے یہی پیغام ہے کہ اپنی ماوُں کا احترام کروں اور انہیں خوش رکھیں کیونکہ ماوُں کے پیروں تلے جنت ہے، کیونکہ اس بات کا اندازہ ہمیں تب ہوتا ہے جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتی ۔ ماں خدا کا ایک انمول تحفہ ہے اس کی قدر کرواور پھر دیکھو خدا کس طرح سے نوازتا ہے، میری ماں میری جنت ہے اور اس جنت کو میں کبھی کھونا نہیں چاہوں گا۔

اُجڑے باغوں میں بہار نہیں آتی
سوکھے پھولوں پر بہار نہیں آتی
گزر جاتی ہے زندگی انگاروں پر
ماں بچھڑ جائے تو باربار نہیں آتی

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay