شہباز شریف کی گارنٹی کیسے مانی جائے، وہ ایک دوسرے مفرور کی گارنٹی نہیں دے سکے،فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےکہا ہےکہ شہبازشریف نےنوازشریف کی گارنٹی دی،ہم شہبازشریف کی گارنٹی کیسےقبول کرلیں،چھوٹےچوروں کوبھی وہی حقوق ملنےچاہیئں جوبڑےکوحاصل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں شہزاد اکبرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے لندن میں چار اپارٹمنٹس کی مالیت ایک ارب پاونڈ ہے، ہماری کسی سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، یہ لڑائی عمران خان نے نہیں پوری قوم نے لڑنی ہے، شہباز شریف کو باہر نہیں بھیجنا چاہتے، ان کے خلاف مقدمات حتمی نتائج تک پہنچائیں گے۔

وزیر اطلاعات فواد  نے کہاکہ  ہمیں عدالتی فیصلوں پر احترام ہے مگر اس فیصلے پر ہمارے پاس قانونی حقوق موجود ہیں۔ مشیر احتساب شہزاد اکبر کہتے ہیں ہم سمجھتے ہیں عدالت کو درست طریقے سے بات بتائی نہیں گئی، حکومت اس عدالتی حکم کیخلاف اپیل کرے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ شہباز شریف نے تو نواز شریف کو بھی واپس لانا تھا، انہیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دینا باقی قیدیوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹرشہزاد اکبرنے کہاہے کہ شہبازشریف کی ضمانت کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔یہ فیصلہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ان کو قانون کے ساتھ ساتھ عوامی عدالت کا سامناکرنا چاہئے ،مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو عوام کو گمراہ کرنے کیلئے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی شاندار ہے۔

انہوں نے شہبازشریف کے خلاف دستاویزی ثبوت دکھاتے ہوئے کہاکہ یہ ہیں وہ ذرائع اور یہ ثبوت کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔آج میں آپ کے سامنے 55 والیومز لے کر آیا ہوں ۔اس مقدمہ میں 100گواہ ہیں،12گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کے نام نہاد لیڈر عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دئیے جا چکے ہیں۔مسلم لیگ ن کے لوگ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کررہے ہیں ۔یہ ذاتی ملازموں کو وکیل کے طور پر پیش کردیتے ہیں ۔عدالتی معاملات عدالت میں ہی طے ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کا نام پرانے کیس میں ای سی ایل میں نکالاگیا۔

ان کا نام پی این آئی ایل میں موجودہے،انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کی ضمانت کا عمل تیزی سے مکمل کیاگیا ،یہ درخواست دہندہ پر لازم ہوتاہے کہ وہ عدالتوں کو حقائق بتائیں۔ہم سمجھتے ہیں عدالت کو درست طریقے سے بات بتائی نہیں گئی ۔انہوں نے کہاکہ نوز شریف کیس میں سپریم کورٹ نے ضمانت کے رہنما اصول وضع کئے ہیں۔ضمانت کا فیصلہ لکھتے ہوئے کیس کے میرٹ پر بات نہیں کی جا سکتی۔نہ ہی ضمانت دینے کی طویل وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے میں 5 میں سے 4 ججز نے کہا کہ اس کیس میں کوئی میڈیکل گراونڈ نہیں۔یہ بھی کہا گیا کہ اس فیصلے میں مقدمے کی طوالت کی وجہ سے ضمانت نہیں دی جا سکتی،اب سنگل بنچ نے میڈیکل گرائونڈ پر ضمانت دے دی،حمزہ شہباز کو کیس کی طوالت کی بنیاد پر ضمانت دی گئی،یہ کھلا تضاد ہے۔

ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں جن سے صرف نظر کیا گیا۔منی لانڈرنگ وہ ناسور ہے جس کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں ہے۔یہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے سرغنہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج تک عوام کی عدالت میں نوازشریف نے نہیں بتایا کہ لندن میں فلیٹس کے ذرائع کہاں سے آئے۔شہباز شریف نے یہ نہیں بتایا کہ منظور پاپڑ والا، سبزی والا سے آپ کا تعلق کیا ہے جنہوں نےآپکے اکاونٹس میں رقوم بھیجیں۔اگر یہ باہر چلے گئے تو مقدمے میں شامل مزید 12 ملزمان کا کیس نہیں چل سکتا،انہوں نے کہاکہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس صرف پبلک آفس ہولڈر پر ہو سکتا ہے۔

کرپشن صرف یہ نہیں کہ آپ کسی سے نوٹ لیتے ہوئے پکڑے جائیں۔شہباز شریف نے ٹی ٹیز سے فائدہ اٹھایا۔4.9ارب کی رقم ایک دن نصرت شہباز کے اکائونٹس میں منتقل ہوئی۔وہاں سے شہباز شریف کے اکائونٹ میں آئی ۔جس سے شہباز شریف نے اپنی گاڑی کی کسٹم ڈیوٹی اداکی۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف نے چونیاں میں 810کنال اراضی نصرت شہباز کو گفٹ کی ۔2018میں شہباز شریف نے 3املاک تہمینہ درانی کو تحفتاً دیں۔شہباز شریف نے ٹی ٹیز لگانے والوں کو وزیراعلی آفس میں پولیٹیکل ڈائریکٹر اور سٹریٹجی ڈائریکٹر تعینات کیا۔

شہزاد اکبر نے کہاکہ چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی شاندار ہے۔نیب نے ان کی قیادت میں بدعنوان عناصر سے 400ارب سے زائد وصول کئے ہیں۔نیب کی قانونی ٹیم موثر انداز میں مقدمات کی پیروی کر رہی ہے۔ضمانت دینا عدالت کا اختیار ہے۔

 

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay