عزیز الرحمٰن کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور میں مدرسے کے طالبعلم سے زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزم مفتی عزیز الرحمٰن اور اس کے بیٹوں کو 4 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کینٹ کچہری لاہور میں ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ رانا ارشد علی کے روبرو پیش کیا گیا۔

عدالت میں ملزمان کو چہرے ڈھانپ کر لایا گیا، پولیس کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس فیصلہ محفوظ کر لیا اور کچھ دیر بعد سنادیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم عزیز الرحمٰن کا ڈی این اے اور میڈیکل کرانے کی بھی ہدایت جاری کی۔ پولیس پیشی کے بعد ملزمان کو لے کر کینٹ کچہری سے واپس روانہ ہوگئی ۔

ملزم عزیز الرحمان کاعتراف جرم

قبل  ازیں گزشتہ روز میانوالی سے گرفتار کیے گئے  طالبعلم سے زیادتی میں ملوث ملزم عزیز الرحمان نے اعتراف جرم کیا ،پولیس کے مطابق عزیز الرحمان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کیا اور ملزم نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔

ملزم عزیزالرحمان نے انکشاف کیا کہ  ویڈیومیری ہےصابر شاہ نےچھپ کربنائی، طالبعلم صابرکوپاس کرنےکاجھانسہ دیکرزیادتی کانشانہ بنایا،ویڈیو وائرل ہونےکےبعدخوف اورپریشانی کاشکار ہوگیاتھا،بیٹوں نےصابرشاہ کودھمکایااورکسی سےبات کرنےسےروکا۔

ملزم عزیزالرحمان نے مزید کہاکہ صابرشاہ نےمنع کرنےکےباوجودویڈیو وائرل کردی،مدرسہ چھوڑنانہیں چاہتاتھااس لیے ویڈیو بیان جاری کیا،مدرسےکےمنتظمین مدرسہ چھوڑنےکاکہہ چکےتھے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay