سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ

حکومتِ سندھ نے سندھ بھر بالخصوص کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کر لیا۔

کراچی میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی  زیر صدارت صوبائی کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس شروع ہوا، اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ، صوبائی وزراء اور پارلیمانی لیڈرز شریک ہوئے، شرکائے اجلاس کو کورونا وائرس کے کیسز کی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتِ حال پر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے لیے اپوزیشن اراکین اور کاروباری شخصیات کو صوبائی کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں مدعو کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل صوبے بھر کے علماء سے اجلاس کیا ہے، جس میں انہیں بھی کورونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال سے آگاہ کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ایک وباء ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہم سب کی اس حوالے سے ایک آواز ہونی چاہیئے۔

سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر کاظم جتوئی نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ سندھ بھر میں کورونا وائرس کی تشخیصی شرح 13 اعشاریہ 7 فیصد ہو گئی ہے، کل صوبے میں کورونا کے 45 مریض انتقال کر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 39 ہزار 958 کورونا مریض ہیں جن میں سے 1 ہزار 410 اسپتالوں میں داخل ہیں، 102 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں، 1 ہزار 192 کورونا مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی تشخیصی شرح کراچی میں 23 فیصد، حیدر آباد میں 14 اعشاریہ 52 فیصد، سکھر میں 2 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا تشخیصی شرح کراچی کے ضلع شرقی میں 33 فیصد، کورنگی میں 21 فیصد، وسطی میں 20 فیصد، غربی میں 19 فیصد، جنوبی اور ملیر میں 17، 17 فیصد ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں گزشتہ 29 دنوں میں 469 کورونا مریض موت کے منہ میں پہنچے، انتقال کرنے والے 323 مریض یعنی 69 فیصد وینٹی لیٹرز پر تھے، انتقال کرنے والے 96 مریض یعنی 20 فیصد وینٹی لیٹرز پر نہیں تھے، انتقال کرنے والے 50 مریضوں یعنی 11 فیصد کا گھروں میں انتقال ہوا۔اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی ضلع جنوبی میں اب تک 55 ہزار 705 کورونا کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، یہاں 51 ہزار 53 کورونا مریض صحتیاب اور 753 انتقال کر چکے ہیں۔

ڈاکٹرز نے بریفنگ میں بتایا کہ کورونا وائرس کی صورتِ حال بھیانک ہوتی جا رہی ہے، سرکاری اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عید کے بعد کورونا وائرس کے کیسز کو بڑھنا تھا جو بڑھتا جا رہے، صوبے میں ڈیلٹا ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق کل سے 8 اگست تک ہوگا، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق کل سے 8 اگست تک ہوگا۔

ترجمان کےمطابق لاک ڈاؤن کے دوران صوبے کی تمام مارکیٹیں بند رہیں گی اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کو بھی بند رکھا جائے گا جب کہ ایکسپورٹ انڈسٹری بھی بند رہے گی تاہم صوبے کے تمام میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ آئندہ ہفتے سے سرکاری دفاتر بند کر دیے جائیں گے اور نجی دفاتر کو بند رکھا جائے گا جب کہ بغیر کسی وجہ کے لوگوں کے باہر نکلنے پر پابندی ہوگی۔

ترجمان کا کہنا ہےکہ جو سرکاری ملازم ویکسین نہیں لگائے گا اس کو 31 اگست کے بعد تنخواہ نہیں ملے گی جب کہ سڑک پر نظر آنے والے شخص کا ویکسی نیشن کارڈ چیک کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق لاک ڈاؤن اور پابندیوں کا اطلاق سندھ بھر میں ہوگا جس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ تفصیلات کے ساتھ جاری کرے گا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay