پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط

عوام کی آوازتحریر :  ضمیر آفاقی : عوام کی آواز

پاکستان نیوی کی سمندری سرحدوں سے لیکر معاشی اور امدادی اموں میں خدمات سے تاریک بھری پڑی ہے جس کا زکر اکثر ہوتا رہتا ہیں لیکن پاک نیوی کے بحری جہاز دنیا بھر میں امدادی سرگرمیوں کءحوالے سے بھی نام کما رہے ہیں ایسا ہی ایک بحری جہاز پی این ایس ذوالفقار جو سمندر پر اپنا تسلط قائم رکھنے اور نگرانی کے مقصد کے لیے حاصل کردہ پاک بحریہ کا جدید ترین جہاز ہے یہ تباہ کن بحری جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے اور اس میں دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے تارپیڈو بھی نصب ہیں۔ یہ بحری جہاز ملک کی ساحلی پٹی کی حفاظت اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ایک مکمل طور پر فعال پیکج ہے۔

ابھی حال ہی ہی میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے روس کی بندرگاہ سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ کیا جو پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کی شاندارمثال ہے ۔ پی این ایس ذوالفقار نے روسی بحریہ کی 325 ویں ڈے پریڈ میں شرکت کی۔سینٹ پیٹرزبرگ میں جہاز کے قیام کے دوران مشن کمانڈر اور جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے لیننگراڈ نیول بیس کے کمانڈر کیپٹن سالوشین آندریو اور ڈپٹی گورنر خارجہ تعلقات جناب ایوگینی ڈی گریگوریف سے ملاقات کی۔

ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معززین نے پاک بحریہ کیلئے خیر سگالی اور گرم جوشی کا اظہار کرتے ہوے روس کی نیول ڈے پریڈ میں شرکت پر پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا۔ مشن کمانڈر نے روسی عوام بالخصوص روسی بحریہ کیلئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ مشن کمانڈر نے بندر گاہ پر جہاز کے قیام کے دوران روسی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے پسکیریوسکو میں یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ اس کے علاوہ رشین نیوی ڈے کی اہمیت کے لحاظ سے پی این ایس ذوالفقار پر ایک تقریب اور پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر روسی حکومت کے عہدیداروں ، سفارتی شخصیات اور رشین فیڈریشن نیوی کے افسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔پی این ایس ذوالفقار کا روس کا دورہ اور 325 ویں نیوی ڈے کے موقع پر روسی بحریہ کی پریڈ میں شرکت پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کا باعث ہے۔ بندرگاہ سے روانگی پر پاک بحریہ کے جہاز نے رشین فیڈریشن نیوی کے جہاز اوڈینٹوسو کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق عریبین مون سون میں بھی حصہ لیا۔

علاوہ ازیں عالمی سمندروں میں تعیناتی کے سلسلے میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے ہیمبرگ، جرمنی کا بھی دورہ کیا۔ جہاز کی آمد پر، برلن میں پاکستان کے دفاعی اتاشی اور جرمن بحریہ کے افسران نے جہاز کا استقبال کیا۔بندرگاہ کے دورے کے دوران، مشن کمانڈر کموڈور سید رضوان خالد اور جہاز کے کمانڈنگ افسر کیپٹن راو احمد عمران انور نے چیف آف اسٹاف جرمن نیول کمانڈ رئیر ایڈمرل فرینک لینسکی، کمانڈر ہیمبرگ نیول کمانڈ کیپٹن مائیکل گس اور ہیمبرگ پورٹ کے چیف ہاربر ماسٹر مسٹر پولمین سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے کے امن اور بحری سیکیورٹی کے لیے پاک بحریہ کی خدمات کو سراہا گیا۔

مشن کمانڈر نے جرمنی کی عوام کے لیے بالعموم اور جرمن بحریہ کے لیے بالخصوص چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی جانب سے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے جرمن بحریہ کی یادگار لیبو کیل پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ علاوہ ازیں پی این ایس ذوالفقار پر پاکستان اور جرمنی کے مابین 70سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے کی خوشی میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔قبل ازیں پی این ایس ذوالفقار نے پولینڈ بحریہ کے جہاز او آر پی کورموران کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق میں حصہ لیا۔

مشق میں جدید بحری حربے جن میں میری ٹائم انٹر ڈکشن آپریشنز بورڈنگ، فورس پروٹیکشن ڈرل شامل تھے۔ مشق کا مقصد بحری معاملات کے ذریعے دفاعی معاونت کو فروغ دینا اور دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔پی این ایس ذوالفقار کا دورہ جرمنی اور پالش بحریہ کے ساتھ بحری مشق میں شرکت دوست ممالک کے درمیان نہ صرف بحری افواج کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث ہے بلکہ سفارتی اور دفاعی تعلقات کوبھی فروغ دیتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے برطانیہ کی بندرگاہ پورٹسموتھ کا بھی دورہ کیا، جہاں میزبان بحریہ اور پاکستان کے سفارتی حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مشن کمانڈر نے جہاز کے کمانڈنگ آفیسر کے ہمراہ میزبان حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ بحری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشن کمانڈر نے امیرالبحر کی جانب سے برطانیہ کے عوام کیلیے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق دورے میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے مشترکہ بحری مشق واٹ اسٹار میں بھی حصہ لیا۔ مشق کے دوران جدید بحری آپریشنز کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاک بحریہ کے جہاز کا یہ دورہ اور مشترکہ مشق میں شرکت دونوں ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔

پاک بحریہ نے خلیج عدن میں پھنسی کشتی کو بچالیا ، پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقارنے بحری گشت کے دوران خراب سمندری حالات میں 16 گھنٹے تک آپریشن کے بعد کشتی کو کھینچ کر بحفاظت ساحل کے قریب پہنچایا۔ کشتی سفر کے دوران آپریشنل صلاحیت کھو چکی تھی۔ مسافر کئی دنوں سے بغیر پینے کے پانی اور خوراک سمندر میں امداد کے منتظر تھے پاک بحریہ زمانہ امن و جنگ دونوں میں عسکری، سفارتی اور انسانی ہمدردی کے آپریشنز سر انجام دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رپتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پاکستان نیوی کا کھلے سمندر میں یہ اس طرز کا دوسرا امدادی آپریشن ہے۔ پاک نیووی کی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار نہ صرف وسیع ہت بلکہ دنیا بھر کے ممالک اس کے معترف بھی ہیں۔

یوں تو پاک بحریہ کی شاندرا کارکردگی کا زکر اکثر کیا جاتا ہے لیکن پاک بحریہ کے افسران اور نوجوان جو جو اپنی جاں جوکھم میں ڈال کر دن دارت دفاع وطن اور عوامی خدمات میں مصروف رہتے ہیں ان کے شب روز کس طرح گزرتے ہیں اس بارے بہت کم لوگوں کو جانکاری ہے بتایا جاتا ہے دوران ڈیوٹی ایسے افسران بھی ہیں جو اپنے بچوں کی پیدائش کے مواقع پر وہاں موجود نہیں ہوتے ۔ مگر سب سے تکلیف دہ کہانیاں ان کی ہیں جو اپنے پیاروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہو پاتے اور یہ بوجھ اپنے دلوں پر لیے پھرتے دان رات خدمت میں مصروف رہتے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ لوگ بہت بہادر ہیں جفا کش ہیں۔ وہ سخت ترین کاموں کے بارے میں شکایت نہیں کرتے اور نہ ان کے لب کھلتے ہیں وہ ہمیشہ مسکراتے چہروں اور کھلی بانہوں سے اپنی ذمہ داریوں کو گلے لگاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے لئے بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ مختص کیا جائے ،اور اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے حوالے سے بھی انہیں یاد رکھا جائے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہم پرسکون شہروں میں انہیں کی وجہ سے رہتے ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay