سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد

وفاقی حکومت سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال، ذاتی رائے اور بیان بازی پر پابندی عائد کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق سرکاری اداروں سے وابستہ تمام ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر فوری پابندی عائد کی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پراسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےآفس میمورنڈم جاری کردیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری معلومات اور دستاویزات افشا ہونے سے روکنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم بغیر اجازت میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتا۔تمام سرکاری ملازمین کوگورنمنٹ سرونٹس رولز 1964کی پاسداری کرنے کا حکم  بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں سرکاری ملازم کو کسی بھی بیان بازی یا رائے سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کے بیان یا رائے زنی سے حکومتی بدنامی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ گورنمنٹ سرونٹس رولز 1964 سرکاری ملازم کو کسی بھی بیان بازی  یا رائے کے اظہار سے روکتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ  12 اگست 2121وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے میڈیا ریگولیشن سے متعلق تمام موجودہ قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کو اطلاعات و نشریات سے متعلق پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مسودہ قانون کی اہم خصوصیات پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ریگولیشن سے متعلق تمام موجودہ قوانین کو منسوخ کیا جا رہا ہے اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئی قانون سازی کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھاکہ جدید دور میں ٹیلی ویژن ، ریڈیو، اخبارات موبائل فون کا حصہ بن چکے ہیں اور انہیں سنگل اور کنورجڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت ہے ۔پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے الیکٹرانک ، پرنٹ ، ڈیجیٹل اور ابھرتے ہوئے میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay