بصارت سے محروم پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم کے چرچے

کشمیر کے معاملے پر بھارت کو ٹھوس جواب دے کر  اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی رکن، پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے بھارت کو خاموش کرا دیا ۔

جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے تقریر میں صائمہ سلیم نے کہا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ بھارت کے پاس چھپانے کے لیے اگر کچھ نہیں تو اسے مقبوضہ کشمیر کیلیے اقوام متحدہ کی انکوائری قبول کرنی چاہیے۔

صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، نہ ہی اُس کا اندرونی معاملہ۔ جموں کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکلنا چاہیے۔

جنرل اسمبلی میں انتہائی ٹھوس انداز میں کشمیر کا کیس پیش کرنے  اور بھارت کو  آئینہ  دکھانے  پر سوشل میڈیا پر صائمہ سلیم کے چرچے ہیں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی صائمہ کی پزیرائی میں ایک ٹوئٹ کیا۔ جس میں انہوں  نے لکھا کہ  صائمہ سلیم، دنیا کی نظروں میں نابینا ہیں پر دل کی آنکھ سے مظلوموں کے دکھ ناصرف دیکھ سکتی ہیں، بلکہ اُن کیلئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔

خیال رہے کہ صائمہ سلیم پاکستان کی بصارت سے محروم پہلی سول سرونٹ اور ایک سفارتکار ہیں۔ صائمہ سلیم نے ابتدائی تعلیم نابیناؤں کے اسکول ’ عزیز جہانگیر بیگم ٹرسٹ‘ سے حاصل کی۔ ان کے بھائی یوسف سلیم پاکستان کے پہلے نابینا جج ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay