کاش! سب کچھ چھن جاتا مگر امی ساتھ ہوتیں!

اشعر ثمران

وہ قیامت کا سا دن تھا، وہ بھیانک دن ڈھل کر نہیں دے رہا، وہ المناک رات مہینوں بعد بھی کٹ نہیں رہی، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی ایسی بے کار، بے رنگ اور بے وجہ سی لگے گی۔

          زندگی کی دلکشن صبحیں اورحسین شامیں ماں باپ کے لاڈ میں بھائی بہنوں کے ساتھ ہنستے مسکراتے گزر رہی تھیں،،، مگر وہ ایسی شام تھی کہ زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دے گئی اور زندگی کے جسم پر لگا وہ گہرا گھاؤ آج بھی مندمل نہیں ہورہا۔

          یوں تو وہ ایک عام سا دن تھا، شام کو جاب سے تھکا ہارا گھر لوٹا تو بھوک سے نڈھال تھا، لنچ نہیں کرپانے کی وجہ سے تھوڑی نقاہت بھی تھی، گھر کے صحن میں امی کو لیٹے دیکھا، ان کے ہاتھ کپکپارہے تھے، یہ دیکھ کر دل میں ایک ہوک سی اٹھی:

“امی! کیا ہوا آپ کو، آپ ٹھیک تو ہیں؟” امی سے بات کرکے سوچا کہ پہلے کھانا کھالوں، پھر امی کے ساتھ بیٹھوں گا، یہ میرا معمول تھا، گھر واپس آتا تو میں ہوتا اور میری امی ہوتیں، کبھی امی کے سر دباتا کبھی پیر، جب سے امی کینسرکے مرض میں مبتلا ہوئی تھیں، تب سے ہی مستقل یہی معمول تھا،ماں سے دوری مجھ سے ویسے بھی برداشت نہیں ہوتی تھی، امی کی بیماری نے مجھے ان سے اور بھی قریب کردیا تھا۔

ابھی کچن میں داخل ہی ہوا تھا کہ بہن کے چلانے کی آواز آئی، میں کچن سے نکل کر امی کی جانب لپکا، امی کی طبیعت بگڑ گئی تھی، سانسیں اکھڑ رہی تھیں، آواز بھی بدل گئی تھی، یہ حالت دیکھ کر پیروں تلے زمین کھسک گئی، قدم بھاری ہوگئے جیسے چلنے سے انکار کردیا ہو، ہمت ساتھ چھوڑے جارہی تھی، میری بہن روئے جارہی تھی اور زور زور سے کہہ رہی تھی: “امی! آپ کو کچھ نہیں ہوا،امی! آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔” وہ امی سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی، میں اسی حالت میں امی کو لےکر اسپتال بھاگا، امی کی شدید تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی اور وہ مجھ سے لپٹ کر لرزتی آواز میں کہہ رہی تھیں: “اشعر! مجھے پکڑ کر رکھو۔۔۔”

میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے بولا: “امی آپ ٹھیک ہوجائیں گی، اللہ کو یاد کرتی رہیں۔”

ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال، ڈاکٹروں نے امی  کو بچانے کی  کوشش کی مگر وہ جان گئے تھے کہ میری کل کائنات اب اس دنیا میں چند گھنٹوں کی مہمان ہے اور پھر بالآخر امی ہمیں ہمیشہ کیلئے روتا ہوا چھوڑ کر اپنے رب کے پاس چلی گئیں۔

          آج امی کو ہم سے بچھڑے سات ماہ بیت گئے، مگر کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ امی کی یاد نہ آتی ہو، کوئی صبح ایسی نہیں کہ نگاہیں امی کو نہ تلاشتی ہوں، کوئی شام ایسی نہیں کہ امی کے ساتھ بیٹھنے کو من نہ کرتا ہو، کوئی رات ایسی نہیں بیتتی کہ امی کی یاد میں آنکھیں نم نہ ہوں، رہ رہ کر امی کی ایک ایک بات یاد آتی ہے، زندگی اجڑگئی ہے، مسکراہٹ ختم ہوگئی، اب جینے کی تمنا بھی کوئی نہیں رہی۔

ایسا لگتا ہے کہ کاش! اللہ کوئی موقع دے دیتا تو اپنا سب کچھ دے کر امی کو روک لیتا، کاش! ہم سے سب کچھ چھن جاتا لیکن امی ساتھ ہوتیں، کاش! زندگی میں کچھ نہ ملتا مگر ماں کی نعمت سے کبھی محروم نہ ہوتا۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay