این اے53 ،سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی

Shahid-Khaqan-Abbasi

اسلام آباد : الیکشن ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو این اے 53 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد الیکشن ٹربیونل میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے این اے 53 کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کیخلاف سماعت جج محسن اختر کیانی نے کی۔

سماعت میں شاہد خاقان عباسی ذاتی حیثیت میں ٹربیونل کے سامنے پیش ہوئے، شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کاغذات نامزدگی حلف نامہ نا مکمل پر مسترد کئے گئے، آر آو نے سپریم کورٹ کے حلف نامہ کے بارے فیصلے میں غلط فہمی ہوئی اور آر آو نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، آر آو نے فیصلے میں لکھا ہے کہ حلف نامہ مکمل پر نہیں کیا۔

اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نے اپنے حلقے میں اٹھ دفعہ منتخب ہوا، یہ جو میں نے جواب دیا میں نے سب سے بہتر سمجھا، حلقے میں روڈ وفاق ،صوبائی اور مقامی حکومتیں بناتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا وقار بلند رکھا، کبھی غیر جمہوری قوتوں سے نہیں ملا، حلقے کی بہتری کے لیے کیا کام کیا،میرے اس سے بہتر جواب نہیں تھا، میں نے یہی بہتر جواب سمجھا ہے، امتحان لینے والے نے کیا غلط سمجھا ، عوام کو حق دیں کہ وہ مسترد کریں نہ کہ ریٹرنگ آفیسر کو نہیں۔

عدالت نے این اے 53کے آر او کا فیصلہ کالعد م قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے الیکشن ٹربیونل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ حلقے کی عوام نے کرنا ہے، میں نے اپنا وقار بلند رکھا۔

انہوں نے کہا کہ آراونےبیان حلفی بروقت جمع نہ کرانےپرکاغذات مستردکیےتھے،میں8بار پارلیمنٹ کارکن منتخب ہوا ہوں،ہماری بڑی کامیابی عوام کی خدمت ہےجس کاکاغذات میں ذکرکیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آئندہ حکومت مسلم لیگ ن کی ہی بنے گی،انصاف نہ صرف ہوناچاہیےبلکہ ہوتا ہوانظربھی آناچاہیے،نیب کورٹ کوصرف مسلم لیگ ن میں خرابی نظرآتی ہے،3باروزیراعظم بننےوالے کی100سےزائدپیشیاں ہوچکی ہیں،نوازشریف کو نیب سےانصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔