افغانستان: مسجد میں خودکش دھماکہ، 25 افراد ہلاک

کابل: افغانستان کے صوبے پکتیا میں واقع مسجد میں خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔

رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز دو خودکش حملہ آوروں نے افغان صوبے یکتا میں واقع مسجد کو نشانہ بنایا ۔ شدت پسند اسلحے سے لیس فائرنگ کرتے ہوئے عین اس وقت مسجد میں داخل ہوئے جب نماز جمعہ کے لیے لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

صوبائی پولیس چیف کے ترجمان سردار ولی تبسم کے مطابق صوبہ پکتیا کے شہر گردیز میں قائم حسن مسجد میں خودکش حملہ آوروں نے داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی اور خود کو دھماکا سے اڑا لیا۔ دھماکے اور فائرنگ کے باعث درجنوں افراد کی زندگیوں کے چراغ گل ہوگئے جب کہ متعدد نمازی زخمی ہوئے۔

سرکاری آفیسر عبداللہ حضرت نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے مسجد کے احاطے سے 25 لاشیں اسپتال منتقل کی ہیں جب کہ 40 سے زائد زخمی افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے وقت مسجد اور اس کے اطراف میں 100 سے زائد افراد موجود تھے۔

افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش یا طالبان کی جانب سے اب تک واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے ۔

افغان صدر اشرف غنی نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “غیرانسانی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے افغان قوم کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں نے افغانستان کے شہری علاقوں میں دہشتگرادنہ کارروائیوں کو مزید تیز کردیا ہے۔

رواں ہفتے افغانستان کے شہر جلال آباد میں دو مسلح دہشت گردوں نے سرکاری عمارت میں گھس کر فائرنگ کردی تھی ۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک اور 15 ہی زخمی ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کےمطابق سال 2018 کے پہلے چھ ماہ میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کے دوران 1 ہزار 6 سو 92 افغانی موت کی ابدی نیند سوچکے ہیں جب کہ 3 ہزار 4 سو 30 ایسے افراد ہیں جو زخمی ہوئے۔

ریکارڈ کے مطابق سال 2009 سے سال 2018 تک سب سے زیادہ لوگ رواں سال کے پہلے ششماہی میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔