الوداع الوداع ماہِ رمضاں

Jumma Tul Wida

رحمتوں ،برکتوں ،مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہم سے جدا ہونے کو ہے ۔ کچھ معلوم نہیں اگلے بر س رمضان المبارک کی یہ پر نور ساعتیں ہمیں نصیب ہو ں گی بھی یا نہیں ۔ لہٰذا یہ ماہِ مبارک ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس کے آخری لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے ہم اپنے رب کو راضی کر لیں ،گناہوں پر ندامت اورتوبہ کریں اور آئندہ ہر گناہ سے توبہ کر لیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جمعۃ المبارک کا دن سید الایام ہے اور تمام دنوں سے افضل و بر تر ہے۔

اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ دن سلامتی و رحمت کا حامل ہے، جسکی بڑی اہمیت و فضلیت ہے۔ رمضان کریم کے جمعہ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ اس جمعہ المبارک میں رمضان الکریم کی فضیلتیں بھی شامل ہو جاتیں ہیں۔ لیکن جو فضلیت اور مرتبت رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کو حاصل ہے وہ کسی اور دن کو حاصل نہیں۔ جمعۃ الوداع نور علٰی نور اور قرآن العیدین ہے، جو مسلماں کی عظمت و شوکت، ہیبت و جلالت کا عظیم مظہر ہے۔

جمعتہ الوداع اس لحاظ سے بھی بڑا اہم ہے کہ یہ جمعہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں آتا ہے،جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی حدیث کے مطابق جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے۔
رمضان المبارک میں جمعتہ الوداع کو خصوصی اہمیت اور درجہ حاصل ہے، دنیا بھر کے مسلمان جمعتہ الوداع کو خصوصی مذہبی عقیدت اور جذبے سے مناتے ہیں۔ ویسے تو بیشک تمام دن اور تمام راتیں ہی اللہ رب العزت کے قانونِ قدرت میں ہیں مگر اِس کے باوجود خود اللہ عزوجل نے بعض ایام کو دوسرے ایام پر اور بعض راتوں کو دوسری راتوں پر فوقیت دے رکھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبے والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں :اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔اِسی دن انہیں زمین پر اتارا۔اِسی دن انہیں موت دی۔اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرےاور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے ،آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے، اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی۔ (ابن ماجہ)

رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا : مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو۔ (طبرانی، مجمع الزوائد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتے کی عید ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے۔ (صحیح ابن حبان)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ (طبرانی ، بزاز)جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے، مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی ۔ (زاد المعاد )

اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورۂ بروج میں’’وشاھد ومشہود ‘‘کے ذریعے قسم کھائی ہے۔ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے یعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن روزقیامت اس کی گواہی دے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے، اللہ اسے ضرور عطا فرمادیتا ہے۔ وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے۔ (مسند احمد)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے۔(صحیح مسلم)

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا : اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے۔ (صحیح بخاری)

خیال رہے کہ  توبہ  کا  دروازہ  کبھی  بند  نہیں ہوتا ابھی  بھی  وقت ہے  ماہِ  رمضان  کی  ساعتوں  کو غنیمت جانتے ہوئے   اپنے  رب کو منا  لیں  اور  اپنے  گناہوں  ،خطاؤں اور  غلطیوں  کی معافی مانگ لیں  کیونکہ  اللہ  رب العزت  بڑا رحمان ،رحیم،کریم ،غفار اور ستار ہے وہ معاف  کع دے  گا  ۔