انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج

اسلام آباد : عام انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پانچ جماعتوں کا اسلام آباد الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کررہی ہے۔

احتجاج میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر، شیری رحمٰن، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، عظمیٰ بخاری، نجمہ حمید اور طاہرہ اونگزیب سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

عوام کے مینڈیٹ پرشب خون ماراگیا ہے،مولانافضل الرحمان

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25جولائی کے انتخابات پوری قوم مسترد کرتی ہے، عوام کے مینڈیٹ پرشب خون ماراگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اپنا حق چھیننا جانتے ہیں، جعلی وزیراعظم کواس اہم منصب پربیٹھنےکااختیار نہیں، ہم جعلی قیادت کوتسلیم نہیں کرتے، آج پوری پاکستانی قیادت ایک پیج پرہے۔

مسلم لیگ ن انتقامی سیاست کومسترد کرتی ہے،احسن اقبال

مسلم لیگ نے کے رہنما احسن اقبال کا کہناتھا کہ ہم مقصد کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے،25جولائی کو20کروڑعوام کےحق حکمرانی پرڈاکہ ڈالاگیا۔

انکا کہنا تھا کہ کسی کوعوام کےحق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنےکی اجازت نہیں دیں گے،دھاندلی کی قیادت کو بے نقاب کریں گے،مسلم لیگ ن انتقامی سیاست کومسترد کرتی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں ،قمرزمان کائرہ

پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن جعلی تھا،عوام کا مینڈیٹ چھیناگیا،تمام سیاسی جماعتیں ایک طرح کےنعرےلگارہی ہیں،اس سےپہلےدیر ہوجائےچیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں۔

الیکشن کو مسترد کرتے ہیں،راجاظفرالحق

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفرالحق نے کہا کہ یہ الیکشن ناقابل قبول ہے، اگر الیکشن کے نتائج اسی طرح لائے گئے تو یہ قوم اور ملک کا نقصان ہوگا، اس سے پوری قوم متاثر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ عوام اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، ہم اس کے خلاف یکجان ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے ہیں، ہماری اس معاملے میں کوئی دو رائے نہیں،  ہم قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، جنہوں نے ووٹ کو عزت نہیں دی انہوں نے قوم کا نقصان کیا۔

سیکیورٹی پلان

اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی پلان تیارکرلیاگیا ہے، کسی کارکن کوالیکشن کمیشن جانےیاریڈزون میں داخلےکی اجازت نہیں ہوگی، صرف نومنتخب ارکان کوالیکشن کمیشن تک جانےکی اجازت ہوگی۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن اورریڈزون میں500سےزائدپولیس اہلکارتعینات ہیں، اسپیشل برانچ کےاہلکاربھی سکیورٹی پرمامور ہیں۔

جمعیت علماءاسلام(ف) کا احتجاج

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام ف نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بنوں لنک روڈ پر مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک بلاک کردی جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوگیا۔

دھرنے کے باعث پشاورتاکراچی ٹریفک بری طرح متاثر  ہوگیا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مینڈیٹ چوری کياگیا،جعلی مینڈیٹ،الیکشن قبول نہیں کریں گے۔

جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے کراچی کے مختلف مقامات شیرشاہ،سہراب گوٹھ اوردیگر پر احتجاج کیا جارہا ہے تاہم رہنماؤں نےشیرشاہ میں مظاہرہ ختم کرادیا۔

شیرشاہ اور اطراف کی سڑکوں پرٹریفک کی روانی بحال کردی گئی۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام ف نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بنوں لنک روڈ پر مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک بلاک کردی جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوگیا۔

دھرنے کے باعث پشاورتاکراچی ٹریفک بری طرح متاثر  ہوگیا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مینڈیٹ چوری کياگیا،جعلی مینڈیٹ،الیکشن قبول نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے ویڈیو پیغام میں عوام سے ملک بھر میں احتجاج کی اپیل کی ہے اور کہا کہ تمام پارٹیوں کے قومی اسمبلی کے امیدوار 8 اگست کو الیکشن کمیشن کے سامنے اکٹھے ہوں اور ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

خیال رہے کہ 28 جولائی کو جماعت مسلم لیگ نون کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔