معروف ماہر قانون عاصمہ جہانگیر سپردِ خاک

لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن اور وومنز ایکشن فورم کی بنیاد رکھنے والی عاصمہ جہانگیر کو سپرد خاک کردیا گیا۔ انکی تدفین بیدیاں روڈ پر واقع فارم ہاؤس میں کی گئی۔

اس سے قبل عاصمہ جہانگیرکی نماز جنازہ قذافی اسٹیڈیم میں ادا کی گئی تھی۔ ان کی نماز جنازہ فاروق حیدرمودودی نے پڑھائی۔

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس یاورعلی سینئرجج جسٹس انوارالحق،جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس صداقت علی خان،جسٹس فیصل زمان، اٹارنی جنرل اشتراوصاف اور وکلاء برادری سمیت مختلف شعبہ ہائے ذندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی شرکت کی۔

مرحومہ کی وصیت کے مطابق تدفین لاہور کے علاقے بیدیاں روڈ پر واقع ان کے فارم ہاؤس میں کی گئی ہے۔

جمہوریت کی دلیل اور وکیل عاصمہ جہانگیر

غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی 1980 میں لاہور کورٹ اور 1982 میں سپریم کورٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر بنیں عاصمہ جہانگیر کو جنرل ضیاالحق کی حکومت کے خلاف احتجاج اور بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بننے کے پاداش میں 1983 میں جیل بھیجا گیا2007 میں پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک میں سرگرم عمل بننے پر نظر بند کیا گیا۔

انھوں نے مشترکہ طور پر ہیومن رائٹس کمیشن اور وومنز ایکشن فورم کی بنیاد رکھی پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے خدمات پر انھیں 2010 میں ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز دیا گیا ۔

عاصمہ جہانگیر کو 2014 رائٹس لائیولی ہوڈ ایوارڈ اور 2010 فریڈم ایوارڈ کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارے یونسیکو کی جانب سے بھی ایوارڈ سے بھی نواز گیا قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کرنے والی جمہوریت کی دلیل اور وکیل ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں ۔

قانون و انصاف، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گیں ۔