برکت رمضان کی ویڈیو نے تین دن میں 4 ملین ویوزحاصل کر کے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

تحریر  :  عنبر حسین سید

برکت رمضان کی ویڈیو نے اپنی ریلیز کے بعد صرف تین دن میں فیس بکُ پر 4 ملین ویوز حاصل کر کے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔

کسی دانا نے کیا خوب کہا ہےکہ وہ آیا ، اس نے دیکھا اورفتح کر لیا واقعی کچھ باتیں اورچیزیں ایسی ہی ہوتی ہیں،جو آتی ہیں اور آتے ہی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیتی ہیں ۔

جی ہاں میڈیا کی دنیا میں ایسا ہی کارنامہ کیا ہے ‘ برکتِ رمضان ‘ کی ویڈیو نے جس نے اپنی ریلیز کے بعد تین دن میں 3سماجی رابطے کی سائٹ فیس بکُ پر 4ملین ویوزحاصل کرلیے ہیں ۔

یہ واقعی برکتِ رمضان کی ایک بڑی کامیابی ہے جس نے لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے اور اگر ناظرین کا ساتھ رہا تو بہت جلد یہ ویڈیو آگے جا کر کامیابی کی نئی تاریخ رقم کرے گی ۔

رمضان کی آمد کی خوشیاں ابھی سے مسلمانوں کے چہروں سے عیاں ہیں تمام عالم اسلام میں آمد رمضان کا انتظار عروج پر ہے ۔ بچے ہوں یا بڑے سب ہی ماہِ صیام کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کے لیے تیار ہیں ۔

نیوزون نے اپنے ناظرین کیلئے ماہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کیلئے خصوصی نشریات کا اہتمام کیا ہے، یہ خصوصی ٹرانسمیشن ’برکت رمضان‘ کے نام سے روزانہ سہہ پہر براہ راست نشر کی جائے گی، جو ہر مسلمان کے جذبہ ایمانی کو اجاگر کرنے کا سبب ہوگی۔

گزشتہ ماہ برکت رمضان کے سلسلے میں شہنشاہ موسیقی کی پرُ اثر آواز میں آڈیو کلام جاری کیا گیا جس نے ریلیز ہوتے ہی سامعین کی سماعتوں میں رس گھول دیا اور اب انتظارِ رمضان کو مزید پر لطف بنانے کے لیے برکت رمضان کی ویڈیو بھی ریلیز کر دی گئی ہے ۔ جس نے ریلیز ہوتے ہی بتا دیا کہ محنت ،لگن اور جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر کوئی کام کیا جائے تو ضرور آسمان کی بلندیوں کا چھو تا ہے ۔

آڈیو جتنی شاندار ہے وڈیو کی عکاسی اور کہانی نے اس میں مزید چار چاند لگا دیئے ہیں ، وڈیو کے آغاز سے ہی اندازاہ ہو جاتا ہے نیوز ون نے سو سنہار کی اور ایک لوہا کی مار دی ہے ابتدا ہی میں ملک کے سب سے بڑے مسئلہ تعلیم اورلڑکیوں کے مساوی حقوق کی طر ف توجہ انتہائی پرُ اثر انداز میں دلائی گئی ہے ۔

ویڈیو کے کرداروں نے کہانی میں ایسا حقیقت کا رنگ بھرا ہے کہ کوئی بے حس ہی ہو گا جو اس ماہِ انوار کو پائے اور ضررت مندوں کی مدد نہ کرے کیونکہ اس ماہ میں ہر نیکی کا ثواب دس گنادیاجاتا ہے ۔

برکتِ رمضان کی ویڈیو کی کہا نی ایک ایسے مجبور باپ کے گرد گھوم رہی ہے جو اپنے بچوں کو ہرخوشی دیناچاہتا ہے مگر اسکی جیب اسے اجازت نہیں دے رہی ہے ۔

ویڈیو کا آغاز ایک تجسس سے ہوتا ہے کہ ایک بچی اپنے بال کاٹ رہی ہے، صرف اس لیے کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے ،مگر چوں کے وہ لڑکا نہیں اس لیے اسکول نہیں جاسکتی۔

مگر اگلے ہی لمحے ایک مجبور باپ دکھایاجاتا جس کے چہرے پر فکر معاش کے ساتھ فکر اولاد عیاں تھی اوراس کے ہلتے لب اور ترستی آنکھیں اس کی مجبوری کی کہانی سنا رہی تھیں اور جیسے ہی کلا م کا آغاز ہو تا گویا زندگی کا پہیہ گھوم سا جاتا ہے اور ماہ رمضان میں ایکمومن کے معاملاتِ کی عکاسی مکمل اور جامع انداز میں کی جاتی ہے ۔

کہانی کا مرکزی کردار ایک ایسا ایماندار شخص ہے جو خالی پیٹ اور خالی ہاتھ ہونے کے باوجود نیکی ،سچائی اور دیانتداری کے اوصاف کو نہیں چھوڑتا ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے لیے غیب سے نصرت کا سامان کر تا ہے اور کہانی کے آخر میں ایسا ہی ہوا کہ ایک نیک دل اور خدا ترس خاتون اس شخص کی ایمانداری اور سچائی سے متاثر ہو کر اس کی مدد کرتی ہے ۔

دیکھا جائے تو ویڈیو مکمل طور پر فرض اور حقوق کی ادائیگی کا ایک حسین امتزاج ہے ،جہاں باپ کا فرض گھر کو چلانا اور محنت کر نا ہے تو وہیں اولاد کو بھی بتایا جا رہا ہےکہ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے ۔

کہانی میں ایمان داری اور صبر کا پیغام دیتے ہو ئے یہ بتایا گیا ہے کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں مگر ایک مومن کا ایمان نہیں ڈمگانا چاہیے جن کے پیٹ خالی ہو تے ہیں ان کے دل ایمان سے بھرے ہو تے ہیں ۔ روزہ کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ انسان اپنا کھانا پینا چھوڑ دے بلکہ روزے کا حق ادا ہی تب ہو تا ہے جب کھانا پینا چھوڑنے کے ساتھ دنیا کی برائی کو بھی چھوڑ دیا جائے ۔

وڈیو کے آخر میں اسکول بیگ ، کاپیاں اور کتابیں ملنے پر بچوں اور ان کے والد کی خوشی دیدنی ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے زندگی کے سارے رنگ اور خوشیاں یہاں سمت آئے ہیں ۔

برکت رمضان کی اس وڈیو میں اسلام کی ایک مکمل تصویر پیش کی گئی ہے تقویٰ ،ایمان، ایثار ،قربانی ہمدردی ، سخاوت اور ایک دوسرے کی دکھ درد کو سمجھنے کا ایک ایسا عالمگیر پیغام دیا گیا ہے ، جس پر عمل کر کے ہر مسلمان برکت رمضان سے فیضیاب ہو کر ایمان کی منزل تک پہنچ سکتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اتنے کم عرصے میں اس وڈیو نے 3 ملین مائیل اسٹون حاصل کر لیے جوکہ عام بات نہیں ہے ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔