ریشماں کی خوبصورت آواز کو خاموش ہوئے 4 برس بیت گئے

reshman

پاکستان اس دنیا کے نقشہ پر ایک ایسا ملک ہے جیسے پروردگار نے ہر نعمت سے نوازا ہے ۔بلند و بالا پہاڑ ، لہلہاتے کھیت ،گیت گاتے دریا اور بل کھاتے جھرنے ، خوبصورت دیہات ،جگماتے شہر اور تنھائی کی کہانی سناتے صحرا ۔ ان ہی صحراؤں میں گونجتی ایک لا زوال آواز ۔ جس کی آوازکے سرُریگستانوں میں ایسے گونجے کے  وہ گونج شہروں تک سنی گئی ۔ جی ہاں بات ہو رہی ہے پاکستان کی لوک اورلیجنڈری گلوکارہ ریشماں کی جنھوں نے نا صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے فن کا لوہا منوایا ۔اپنی آواز سے دنیا بھر میں یہ ثابت کر دیا کے فن کسی چیز کا محتاج نہیں ہے ۔ لاز می نہیں کے موسیقی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اور شہری زندگی کے طور طریقے سیکھ کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

ریشماں کی گائیکی نے یہ بات ثابت کر دی کے موسیقی کا تعلق دل اورروح سے ہے۔ آواز وہ ہی اثر کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے اور دل تک جاتی یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے گائے نغمات زندہ جاوید ہیں اور دلوں کو گر مارہے ہیں ۔ بات لمبی جدائی کی ہو یا میرے چن پر دیسی کی ہر گاناہر نغمہ کسی نہ کسی کے دل کی آواز بن کر اسکے لبوں پر ضرور رقص کر تا ہے ۔
عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والی اور بلبلِ صحرا کا لقب پانے والی ریشماں 1947میں راجھستان کے علاقے بیکانیز میں پیدا ہوئیں ۔تقسیمِ ہندوستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا۔ کہتے ہیں کے ہیرے کی قدر ایک جوہری ہی جان سکتا ہے تو اس ہیرے کو دریافت کرنے والے ہیں ریڈیو پاکستان کے ڈائیریکٹر جنرل سلیم گیلانی ہیں۔ جنھوں نے اس صحرا کی بلبل کو حضرت لال شہباز قلندر کے مزارپر گاتے سنا تھا انھوں نے ریشماں کو ریڈیو پاکستان پر گانے کا موقع دیا اور اس وقت انھوں نے “لال میری” گیت گایا جو بہت مشھور ہوا ۔آہستہ آہستہ ریشماں بحثیت پاکستان کی لوک گلوکارہ کے طور پر مقبول ہوگئیں ۔ 1960میں جب پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیا د پڑی تو ریشماں نے ٹیلی وژن کے لیے گانا شروع کیا اور فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگا یا۔
جادوئی اور سحر انگیز آواز کی ملکہ ریشماں کی آواز کا جادو ایسا سر چڑھ کر بولا کہ معروف بھارتی ہدایتکار  سبھاش گھئی نے راج کپور کی پارٹی میں ریشماں کو پہلی بار “انکھیاں نو رہنے دے انکھیاں دے کو ل کول” گاتے سنا تو انھیں ریشماں کی آواز کے سحر نے ایسا جکڑا کے انھوں نے اپنی فلم “ہیرو”کے لیے گانا” لمبی جدائی”گانے کے لیے منتخب کیا ۔1983میں ریشماں کا گایا یہ گیت نا صرف اس فلم کی پہچان بنا بلکہ دنیا بھر میں بے مقبول بھی ہوا ۔
ریشماں کو ستارہ امتیاز اور لیجنڈ آف پاکستان کا ایوارڈ سمیت متعدد ایواڈز سے نوازا گیا ۔یہ خوبصورت آواز3نومبر 2013کو دنیا سے رخصت ہو گئی مگر اس کی آواز آج بھی صحرا سے جنگل اور دیس  سے پردیس تک گونج رہی ہے ۔
ریشماں کے ساتھی فنکاروں کا کہنا ہے کہ آزاد صوفی گلوکارہ ریشماں بہت سادہ مزاج اور خاک نشین شخصیت کی مالک تھیں ۔ وہ ایک خانہ بدوش دل سے بنجارن فنکارہ تھیں، ہمیشہ شائستہ اور اپنے دیہاتی لہجے میں بات کرتی تھیں ۔ وہ مادی دنیا سے نا واقف ایک معصوم اور سادہ ایسی گلوکارہ تھیں جیسے جیتنے یا ہارنے سے کو ئی غرض نہیں تھی۔

 واقعی ریشماں اپنی آواز سے سرحدوں کی دوری کو ختم کر نے والی ایک ایسی گلوکارہ تھی جو رنگ و نسل مذہب ہر بات سے بالا تر ہوکے جب اپنی آواز کا جادو جگاتی تو وہ لوگ بھی جھومنے پر مجبور ہو جاتے جو اس کی زبان نہیں سمجھتے تھے یہ اس گلوکارہ کی کامیابی ہی ہے کے اب تک اس کے جیسا فوک گلوکار نہ ہی آیا ہے شاید نہ ہی آئے گا ۔