شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی آج 65 ویں سالگرہ

تحریر غانیہ خالد احمد، ایمن محمود

اسلامی دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی 65 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے۔ انکے قاتل آج بھی نامعلوم اور انجان ، لواحقین پانچ سال حکومت کرکے آج بھی انصاف ہی کے منتظر ہیں۔

بےنظیر بھٹو نے 21 جون 1953ء کو کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو کے ہاں آنکھیں کھولیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور 1973 سے لیکر 1977 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم کراچی میں جیننگز نرسری اسکول اور کونونٹ آف جیسز اینڈ میری اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال راولپنڈی پریزنٹیشن کونونٹ میں تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے جیسس اینڈ میری میں داخلہ دلوایا گیا۔

بینظیر نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969ء میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ریڈکلف کالج میں داخلہ لیا۔

بے نظیر بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی سے 1973ء میں پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

بینظیر بھٹو 1977 میں اس وقت پاکستان لوٹیں جب ان کے والد کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے 6 فروری 1979ء کو نواب محمد احمد خان قتل کیس میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی جس پر 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی جس کے بعد پارٹی کی باگ ڈور محترمہ بینظیر بھٹو نے سنھبال لی۔

16 نومبر، 1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ بے نظیر بھٹو نے2 دسمبر1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا لیکن 20 مہینوں کے مختصر عرصے کے بعد ہی اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بد عنوانی کے الزامات کے باعث بینظیر کو برطرف کردیا۔

سنہ 1993ء نواز شریف کی نااہلی کے بعد ماہ اکتوبرمیں ایک بار پھر ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے ملک بھر سے سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں اور اقتدار میں آئی ۔

بے نظیر بھٹونے  ایک مرتبہ پھر وزارت عظمیٰ کے عہدہ کا حلف اٹھایا ۔ لیکن 1996ء میں پی پی پی کے اپنے ہی منتخب صدر فاروق احمد خان لغاری نے ایک بار پھر  بد عنوانی،کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے الزامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بے نظیر بھٹو دو بار لیڈر آف اپوزیشن بھی رہیں۔

سنہ 1998ء میں جلاوطنی کے باعث بینظیر بھٹو  دبئی چلی گئیں اور 18 اکتوبر 2007 کو  پاکستان واپس آئیں۔ بینظیر جلاوطنی کے بعد واپس وطن پہنچیں تو ان کے استقبالی قافلے کو کارساز کے مقام پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں محترمہ محفوظ رہیں لیکن 180 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

محترمہ بینظیر بھٹو27 دسمبر 2007 کی شام راولپنڈی لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے واپس اپنی رہائش گاہ جانے کے لیے گاڑی میں سوار ہوئیں اور اپنے کارکنان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گاڑی سے باہر جھانکا ۔

اسی دوران تاک میں بیٹھے قاتل نے محترمہ پر گولی چلادی جو ان کے گردن میں پیوست ہوئی۔ قاتل گولی نے پہلی خاتون وزیر اعظم کا اعزاز پانے والی عظیم لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو کو ابدی نیند سلادیا۔ محترمہ کی تدفین ان کے آبائی گاؤں گڑھی خدا بخش میں کی گئی۔


ان کے سوگواروں میں شوہر آصف علی زرداری، صاجزادے بلاول بھٹو، بیٹی آصفہ اور بختاور بھٹو زرداری شامل ہیں۔

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم 

محترمہ کے لخت جگر بلاول بھٹو زرداری آج بھی سابق صدر پرویز مشرف کو بینظیر کا قاتل قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں تاہم آج دس سال گزرجانے کے باوجود بی بی کے قاتل نامعلوم ہی ہیں اور ان کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں ۔ حالاں کہ پیپلز پارٹی 2008ء سے 2013ء تک پانچ سال اقتدار میں رہی لیکن پیپلزپارٹی کے قائد کے قاتل سلاخوں کی پیچھے نہیں پہنچ سکے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔