ہم چاہتےہیں کام بھی سستاہواورمعیار بھی اچھاہو،چیف جسٹس

SC

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم چاہتےہیں کام بھی سستاہواورمعیار بھی اچھاہو ۔

سپریم کورٹ میں پرائیویٹ میڈیکل کالجزمیں اصلاحات کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کی ,سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ سپریم کورٹ کی خواہش ہےآنےوالےڈاکٹرزاعلیٰ تربیت یافتہ ہوں،کل میں یامیرےبچےنے بیماری میں انہی ڈاکٹرزسےعلاج کراناہے،میڈیکل طالب علموں کوبخاراوربلڈپریشرتک چیک نہیں کرناآتا ۔

انھوں نے مزید کہاکہ ریگولیٹرکااختیارپی ایم ڈی سی کوہوناچاہیے پرائیویٹ اینڈمیڈیکل انسٹی ٹیوشن کاپرائیویٹ سیکٹرمیں اہم کردارہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ہم چاہتےہیں کام بھی سستاہواورمعیار بھی اچھاہو،ایڈہاک کمیٹی کامقصدمیڈیکل کالجزکی مشکلات دورکرناہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت ڈاکٹرزکےمعیارکوبہتر بناناچاہتی ہے۔

جس پر وکیل پامی مے معزز عدالت کو بتایاکہ مفاہمتی یاداشت میں اضافہ کی گئی شقوں سےمتعلق ہم سےپوچھا نہیں گیا،امیدہےقانون سازی کرنےسےقبل ہم سےرائےلی جائےگی

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اصلاحات سےمتعلق9ریگولیشن منظورہوئیں،6ابھی ٹیبل پرہیں،مجموعی طورر15ریگولیشنزہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ میڈیکل کالجزکےطالب علموں کےلیے9لاکھ50ہزارفیس طےکی گئی،بابےکی درخواست پرپامی50ہزار روپےکم کردے جس پر چیئرمین پامی نے باتا 100سے105نمبرزحاصل کرنےوالےطالب علموں کاداخلہ نہیں ہورہا سپریم کورٹ نظرثانی کرےہمیں نقصان ہورہاہے۔
چیئرمین پامی نے مزید کہاکہ ہم50ہزارروپےفیس کم کرنےکےلیےتیارہیں۔

چیئرمین پامی نے ریماکس دیئے کہ پامی نےبہت تعاون کیاہےہم مطمئن ہیں،اگرکالجزکےمعیار میں کمی ہےتوانہیں بندکرنےسےبہتروقت دیاجائے
755بلین روپےزائدفیسوں کی مدمیں میڈیکل کالجزسےریکورکیے، میڈیکل کالجزکےمالکان سےبیان حلفی لوں گا،غلط بیان حلفی دینےپرکالجزکوبند کرنےکےساتھ جرمانہ بھی ہوگامیڈیکل کالجزکےمعیارکاتعین کسی انفرادی شخص کی محنت کارنگ نہیں ۔

عدالت نے مزید کہاکہ پامی نےبتایاریگولیشنزمیں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں،پامی،پی ایم ڈی سی ایڈہاک کمیٹی اورحکومت مل رمیٹنگ کرے،تمام فریقین مشاورت کرکےقابل عمل حل تلاش کری۔

عدالت نے کیس کی سماعت 17ستمبر تک ملتوی کردی ۔