چکن گو نیا : علامات ، علاج اور احتیاط

Joint-pain

تحریر:عنبر حسین سید

درد چاہے جو بھی ہو ہوتا بہت خطر ناک ہے کان میں درد ہو تو لگتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی درد نہیں دانت میں تکلیف ہو تو ایسا لگتا ہے اس سے بڑی کوئی تکلیف نہیں لیکن ایک ایسا مرض بھی ہے جس سے جسم میں  اس قدر شدید درد ہوتا ہے  کہ متاثرہ شخص کو نہ لیٹ کر سکون ملتا ہے نا بیٹھ کر چین۔

جسم میں اس حد تک درد ہوتاہے کی ہلنا جلنا بھی دشوار ہوتا ہے۔

 انسان کے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں کرئے اور اس بیماری کا نام  چکن گونیا ہے۔

چکن گونیا بھی ڈینگی اور ملیریا کی طرح مچھر کے کا نٹنے سے ہوتا ہے ۔

 مرض کی علامات

چکن گونیا کا مرض ایک د م سے  شدت اختیار کرتا ہے مگر اس کی چند ابتدائی علامت ہیں جن پر غور کیا جائے تو ابتدا میں ہی اس بیماری کا سدباب کیا جا سکتا ہے جیسے جسم میں خصوصا” ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کا محسوس ہونا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن گونیا وائرس کی علامات 3 سے 7 دن کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں۔

اس مرض کی ابتدائی علامات میں کام میں جی نہ لگنا ، اکتاہت ، بیزاری اور ہلکا بخار اور درد شامل ہیں ۔

جیسے جیسے یہ وائرس اثر انداز ہوتا  ہےگھٹنوں، ہتھیلیوں اور ٹخنوں سمیت جسم کے دیگر جوڑوں میں درد اور تیز بخار شدت اختیار کرتا جاتا ہے ۔

دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، جوڑوں کا سوج جانا یا جلد پر خراشیں پڑجانا شامل ہیں۔

احتیاط علاج دورانیہ
چکن گونیا سے متاثرہ شخص کو بہت احتیاط اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اگر ابتدا ہی میں اچھے ڈاکٹر یا اسپشلسٹ سے رجوع کر لیا جائے تو اس مرض کی شدت پر جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔

لہذااگر گھرکا کوئی فرد اس مرض میں مبتلا ہو گیا ہے تو کوشش کرنی چاہئے کہ گھریلو ٹوٹکے اور ترکیبوں کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے اور اس کی دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کی جائے۔

وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ سے زیادہ  آرام کریں۔

خوب پانی پیا  جائے۔

تازہ  پھل ،جوس اور دودھ کا استعمال وافر مقدار میں کریں ۔

 اگر طبی ماہر سے رجوع کیا جائےتو اس مرض کی شدت کا دورانیہ 3 سے 5  دن ہے۔  اس مرض کے اثرات 5 تا 6 ماہ تک رہتے ہیں جس کے لیے آرام سب سے زیادہ ضروری ہے ۔

اس مرض کا شکار ہونے والے  ملازمت پیشہ افراد ہوں یا گھریلوں خواتین  دونوں کو اپنے کام میں وقفہ دے دے کر کام چایئے۔

یہ مرض چونکہ مچھر کے کانٹنے سے ہو تاہے اس لیے گھر میں مچھر سے بچاو کے تمام اقدامات کئے جانا ضروری ہیں ۔

جیسے مغرب سے پہلے دروازے بند کر دیئے جائیں ۔

مچھر دانی اور کوائل کا استعمال کیا جائے ۔

گھر سے نکلتے وقت جسم میں مچھر سے بچاو کی دوا لگا ئی جائے۔

خیال رہے اگر کوئی عام مچھر چکن گونیا سے متاثرہ کسی شخص کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی اس وائرس کے مچھر میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کے بعد وہ بھی اس کے پھیلاؤ میں حصہ دار بن جاتا ہے۔

اگر آپ چکن گونیا کے متاثرہ مریض سے ملے ہیں، یا کسی ایسے علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں یہ وائرس پھیلا ہوا ہے تو محتاط رہیں اور اوپر بتائی گئی علامتوں کے معمولی طور پر ظاہر ہوتے ہی فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

 چکن گونیا سے متاثر افراد کا اظہار خیال

مس بشریٰ شیروانی اسکول ٹیچر

مس بشریٰ شیروانی  4 ماہ قبل چکن گونیامیں  مبتلا ہوئیں تھیں ان کا کہنا ہے کہ باقی سب ٹھیک ہے مگر ابھی اب بھی  کبھی کبھی جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے جس کی وجہ سے بس میں سفر کرنا دشوار ہو جاتا ہے ۔

تسلیم اختر  ریٹائر بینکر 

تسلیم اختر کی عمر   70 سال ہے  اور وہ بھی چکن گونیا سے متا ثر ہو چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ  ریٹائر لائف ویسے ہی دشوار ہوتی ہے مگر جب سے چکن گونیا ہوا ہے  صبح کم  سے کم سے ایک گھنٹہ ان کی اہلیہ ان کے پاوں دباتی ہیں تب جا کر وہ ان کی مدد سے اُٹھ پاتے ہیں  ۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وہ عمر کے جس حصہ میں ہیں اس میں ویسے ہی  10 بیماریوں نے  انھیں گھیرا ہوا ہے مگر جب سے اس مرض میں  شکار ہوئے ہیں بہت محتاجی ہو گئی ہے ۔ انھوں نے حکومت سے شکوہ کر تے ہوئے کہا کہ خدارا  ہنگامی بنیادوں  پر  اس مسئلے کا حل نکا لیں  ، شہر کو صاف ستھرا کریں کیونکہ گندگی بیماریوں کی  آماجگاہ ہوتی ہے ۔

مسسز ثمینہ آفتاب   ہاوس وائف

ثمینہ آفتاب ایک ہاوس وائف ہیں انھوں نے بتایا کہ  انھیں ایک برس قبل چکن گونیا ہوا تھا جس کے اثرات ابھی تک ہیں ابھی تک  چلنے اور اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے  ۔

انھوں نے بتا یا کہ ابتدا میں ڈاکٹر اسے موسمی اور عمومی بخار اور درد سمجھ کر اس کا علاج کرتے رہے مگر جب کو ئی افاقہ نہیں ہوا درد کی شدت میں کمی نہیں آئی تو ٹیسٹ کروانے پر معلوم ہوا  کہ چکن گونیا ہوا ہے ۔انھوں نے ساتھ ہی تاکید بھی  کی کہ  جس کو بھی اس مرض میں مبتلا ہونے  کے اثرات محسوس ہوں برائے مہربانی اپنے معالج سے جلد از جلد رجوع کریں ۔

رفیع منور کلرک

 رفیع منور کا تجربہ تمام لوگوں سے مختلف ہے ان کا کہنا تھا کہ ان کا چکن گونیا صرف ایک ماہ میں رفو چکر ہو گیا  کیونکہ انھوں نے باقائدگی سے دوا لی ،آرام کیااور پرہیز کیا ۔  ان کا کہنا تھا کہ پرہیز ہر چیز سے بہتر ہے۔

ڈاکٹر انیلا تبسم

   ڈاکٹر انیلا تبسم نے بتایا کہ اس مرض میں شدید جسم میں درد ہوتا  ان کو 2 ماہ قبل چکن گونیا ہو گیا تھا جس کے اثرات اب تک موجود ہیں ۔کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں بلکل ٹھیک ہوں اورکبھی ایسا لگتا ہے جیسے پہلے دن جیسے ہی کیفیت ہے ۔

اس وقت ضرورت ہے کہ شہر میں صحت اور صفائی کے اصولوں پر سختی سے عمل کیاجائے ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔