ڈی پی اوپاک پتن رضوان گوندل کیس: خاورمانیکا اوراحسن جمیل گجر طلب

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ڈی پی اوپاک پتن رضوان گوندل سےمتعلق کیس میں خاورمانیکا اوراحسن جمیل گجرکوطلب کرلیا۔

اسلام آباد سپریم کورٹ میں ڈی پی اوپاک پتن رضوان گوندل سےمتعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہوئی۔

سماعت میں آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی ، آرپی اوساہیوال اور رضوان گوندل عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا یہ کیا قصہ ہے؟ 5دن سے پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے،ایک بات باربار کہہ رہاہوں پولیس کوآزاداور بااختیار بنانا چاہتے ہیں،اگروزیراعلیٰ یا اسکےپاس بیٹھےشخص کےکہنےپرتبادلہ ہواتویہ درست نہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا کہاں ہے؟جمیل گجر کہاں ہے؟ڈیرے پر بلا کر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا؟ رات کو ایک بجے تبادلہ کیا گیا،کیاصبح نہیں ہونی تھی؟

اس پر آئی جی پنجاب کلیم امام نے عدالت کو بتایا کہ مجھ پر تبادلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے، محکمانہ طور پر ڈی پی او کا تبادلہ کیا گیا،اسپیشل برانچ اوردیگرذرائع سےپتہ چلارضوان گوندل درست معلومات نہیں دےرہے،تبادلہ سزا نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں اونچی آواز میں بات نہ کریں۔

جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہےہیں میں نےفلاں بات کی آپ کون ہوتےہیں؟آئی جی پنجاب نے کہا کہ بطور کمانڈر ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی اورضوان گوندل کو بلایا۔

آئی جی پنجاب کے بعد سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او حیدر کی کال آئی کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملوں، 23 اور 24 اگست والے واقعے کا قائم مقام آر پی او کو بتایا اور پورے واقعہ کا آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پیغام بھیجا۔

رضوان گوندل نے کہا کہ واقعے والے دن 4 بجے فون آیا آپ رات دس بجے سے پہلے وزیراعلیٰ ہاوس پہنچ جائیں جس کے بعد رات 10 بجے وہاں پہنچا تو احسن جمیل کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بطور بھائی متعارف کرایا۔

سابق ڈی پی او پاکپتن نے مزید کہا کہ احسن جمیل نے ان سے پوچھا کہ مانیکا فیملی کا بتائیں، لگتا ہے ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔

جس کے بعد عدالت نےخاورمانیکااوراحسن جمیل گجرکوطلب کرلیا ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 4بجے سے قبل عدالت میں پیش ہوں۔

واضح رہےکہ چند روز قبل ڈی پی او پاکپتن کی جانب سے خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے کا معاملے سامنے آیا تھا جس کے بعد آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا تھا۔