خاتون صحافی گل بخاری کی اغوا کے چند گھنٹوں بعد گھر واپسی

لاہور: خاتون صحافی اور سماجی کارکن گل بخاری جنہیں منگل کی رات اپنے گھر سے ٹی وی شو کے لیے اسٹوڈیو جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے زبردستی اغوا کر لیا تھا، اپنے گھر واپس پہنچ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں نجی ٹی وی چینل خاتون اینکر کو تین گاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا تھا، بدھ کی صبح ان کے خاندان والوں نے بتایا کہ گل بخاری گھر واپس آ گئی ہیں اور وہ خیریت سے ہیں۔

گل بخاری کے مبینہ اغوا کی اطلاع سب سے پہلے سوشل میڈیا پر ان کے پروگرام کے پروڈیوسر محمد گل شیر نے دی جس میں ان کا کہنا تھا کہ گل بخاری کو شو کے لیے آتے وقت دفتر کی گاڑی سے اتارا گیا اور نامعلوم افراد انہیں ساتھ لے گئے، اس دوران دفتر کی گاڑی کے ڈرائیور پر تشدد بھی کیا گیا۔

گل بخاری کے اغوا کی اطلاع سوشل میڈیا پر آنے کے بعد کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا پر فری گل بخاری ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

گل بخاری کے اغوا پر مختلف حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مریم نواز نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ٹوئیٹر پر اپنے پیغام مین انہوں نے کہا کہ گل بخاری کا اغوا بدترین قسم کا ظلم ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ امید ہے کہ معاملہ فہمی سے کام لیا جائے گا اور گل بخاری سلامت واپس آجائیں گی۔

ان کا مزید کہنا کہ گل بخاری کے ساتھ ہونے والا معاملہ ناقابل قبول ہے۔

دوسری جانب لاهور میں ہی صحافی اسد کھرل پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور انہیں زخمی کردیا۔ اسد کھرل کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ لاهور میں ایئرپورٹ کے قریب نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

اسد کھرل کو سروسز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔