عدالت نےمسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سےمتعلق فیصلہ محفوظ کرلیا

Christian-Marriages

سپریم کورٹ میں مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن سےمتعلق کیس کی سماعت میں عدالت نےمسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سےمتعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

نمائندہ برادری نے عدالت کو بایا کہ یونین کونسل پیدائش،اموات،شادیوں کی رجسٹریشن کی مجازاتھارٹی ہے،یونین کونسل عیسائیوں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہیں کرتی ۔
جس پر عدالت نے ریماکس دیئے کہ شادی رجسٹریشن کےلیےایک فردکویونین کونسل میں مختص کیاجاسکتاہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بتائیں شادیوں کی رجسٹریشن میں کیارکاوٹ ہے،؟ جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرلنے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک مسیحی برادری نےضابطےکےمطابق اپلائی نہیں کیا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ آپ کومتعدد بارکہاہےاپنے لوگوں کوسہولیات فراہم کرنی ہیں،نظام کوآسان کیوں نہیں بناتے،چیف جسٹس کےریمارکسایک سرکلرجاری کریں،جومسلمانوں کی شادی رجسٹرڈکرتاہےوہی مسیحی برادری کی رجسٹرڈکرے ۔

چیئرمین نادرا نے جواب دیا کہ یونین کونسل مسیحی برادری کی شادیوں کورجسٹرڈنہیں کررہا،چیف جسٹس نے کہاکہ ہم یونین کونسل سےمتعلق حکم دےدیتےہیں ۔

عدالت نےمسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سےمتعلق فیصلہ محفوظ کرلیا اور چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ فیصلہ مناسب وقت پرسنائیں گے،سپریم کورٹ کےحکم نامےکےمطابق عیسائیوں کومسیحی لکھاجائے۔