اگرمیرامواخذہ ہواتوامریکی معیشت تباہ ہوجائےگی ، ڈونلڈ ٹرمپ

Donald-Trump

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ اگرمیرامواخذہ ہواتوامریکی معیشت تباہ ہوجائےگی۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی چینل کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرےمواخذےسےامریکی مارکیٹ بیٹھ جائےگی،لوگ غریب ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مواخذے کے سائے منڈلا رہے ہیں ،دو سابق ساتھیوں کےا عترافی بیان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن نے نیویارک میں وفاقی پراسیکیوٹرز کے ساتھ ایک پلی بارگین پر اتفاق میں اعتراف کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کی مالیاتی بے ضابطگیوں، بینک فراڈ اور ٹیکس چوری میں ملوث تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا ’انتخابی امیدوار‘ کی ایماء پر کیا اور اس کا بنیادی مقصد انتخاب کے نتائج پر اثر انداز ہونا تھا۔ مائیکل کوہن کا یہ اعتراف ان رقوم سے متعلق ہے جو صدر ٹرمپ نے اپنی مبینہ محبوباؤں کو خاموش رہنے کے لیے ادا کی تھی۔ اکیاون سالہ مائیکل کوہن نے استغاثہ کے ساتھ ایک معاہدے میں ٹیکس اور بینک فراڈ سمیت آٹھ جرائم کا اعتراف کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن نے نیویارک میں وفاقی پراسیکیوٹرز کے ساتھ ایک پلی بارگین پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کی مالیاتی بے ضابطگیوں، بینک فراڈ اور ٹیکس چوری میں ملوث تھے۔ انھوں نے خود کو ایف بی آئی کے حوالے کر دیا۔ سی این این کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وہ منگل کے روز مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہو گئے۔

خبروں کے مطابق منگل کی صبح تفتیشی عہدے داروں اور کوہن کے درمیان عدالت سے باہر ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا تھا۔ عدالت سے باہر ہونے والا یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کے لیے قانونی خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، کیونکہ اب یہ امکان موجود ہے کہ کوہن امریکی اسپیشل کونسل رابرٹ ملر کو ان تحقیقات کے لیے معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو وہ 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کئی بار اپنی انتخابی مہم میں روسی تعاون کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ وہ ملر کی تحقیقات پر بھی شدید نکتہ چینی کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ کوہن ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک ٹرمپ کے اندرونی حلقے میں شامل رہے ہیں اور  وہ ٹرمپ آرگنائزیشن کے وکیل بھی رہ چکے ہیں اور انتخابات کے بعد بھی صدر ٹرمپ ان سے مسلسل مشاورت کرتے رہے ہیں۔ لیکن حالیہ مہینوں میں ان دونوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا۔

ملر نے اپنی تحقیقات گزشتہ سال مئی میں شروع کی تھیں، جس کے نتیجے میں 30 سے زیادہ افراد پر فرد جرم عائد ہوا، اور 5 نے اپنے جرم کا إقرار کیا۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منیجر پال منافرٹ کے خلاف ریاست ورجینیا کے شہر الیکزینڈیا میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ان کے خلاف ملر کی تحقیقات کے نتیجے میں 18 مالیاتی جرائم کے الزامات ہیں۔ جن میں 8 مقدمات میں جیوری نے انہیں مجرم قرار دے دیا ہے۔

سیاسی کارکن پال مینافرٹ کو، جنہوں نے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا تھا. منگل کے روز آٹھ مالیاتی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ جسے صدر کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کرنے والے اسپیشل کونسل کی پہلی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک دوسری بری خبر ثابت ہوئی ہے کیونکہ نیویارک میں صدر کے سابق وکیل مائیکل کوہن نے اپنے اس جرم کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ان دو عورتوں کو خاموش کرانے کے لیے رقم ادا کی تھی جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ان کے ٹرمپ کے ساتھ جنسی تعلقات تھے۔