الیکشن کو پہلے ہی متنازعہ بنایا جارہا ہے ، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ الیکشن کو پہلے ہی متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔

سوال: لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بحال کردیا ہے ۔ کیا الیکشن ٹریبونل کو اختیار ہے یا نہیں نااہل قرار دینے کا؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: یہ ارریلیونٹ الیکشن ہے اس کا ریاست کے مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بدمعاشیہ کا تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر مارے جانا لازم ہے ، لکھا جا چکا ہے اس نے مارے جانا ہے آگے جا کر ۔ بدمعاشیہ ایک الگ چیز ہے لوگوں کی سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ بدمعاشیہ کیا چیز ہے ۔ اس میں کاروباری شخصیات ، بیوروکریٹس ، پولیس والے ، پٹواری اور ہر قسم کے لوگ ملتے ہیں تو بدمعاشیہ بنتا ہے ۔ وہ بدمعاشیہ انتشار چاہ رہا ہے اور اس کے گلے پر قانون کا ہاتھ پڑ گیا ہے اور یہ اللہ کی پکڑ میں آگئے ہیں۔ اور یہ انتخاب نہیں انتشار چاہ رہے ہیں۔ جو الیکشن سے پہلے ہی کہہ دے کہ دھاندلی ہورہی ہے اور متنازعہ بنادیں ۔

تین ، چار سال پہلے میں نے بات کی تھی معاشی دہشت گردی ہے اور آج کوئی ٹی وی چینل کسی پارٹی کا منشور ڈسکس کر رہا ہے ؟ سب جگہ ڈسکس ہورہا ہے معاشی دہشت گردی۔ لوگوں کا شعور بیدار ہوگیا ہے ، لوگوں کو سمجھ آگیا ہے کہ جمہوریت کیا چیزہے ۔ بدمعاشیہ کی بدمعاشی ائیرپورٹس تک چلتی ہے یا پی آئی اے میں۔ اگر یہ ایمریٹس میں یا دوسری ائیرلائن میں بیٹھ جائیں تو وہ ان کو جوتے مار کر پھینک دیں۔ جہاں ان کی جائیدادیں ہیں اگر یہ وہاں کہیں کہ مجھے کیوں نکالا ، اور ججز کو گالیاں دیں تو ان کو پتہ ہی نہ چلے کہ یہ گئے کدھر ، ان کی بدمعاشی چلتی ہے اپنے محلوں میں ۔ ہر شہر میں بدمعاشیہ ہے ۔ اگلے ہفتے ساڑھے 5 روپے پیٹرول پھر بڑھایا جارہا ہے ۔

اگلے ہفتے اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس ویلس ہیں وہ پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں اور یہ دورہ اس لیے اہم ہے کہ وہ فضل اللہ کے ماے جانے کے بعد ہو رہا ہے اور وہ دورے کے دوران کیا بات کریں گی پاکستان سے؟ ساتھ ہی ایک اور تبدیلی آرہی ہے کہ افغانستان میں جو کمانڈر ڈیل کر رہے تھے جنرل نیکلسن وہ وہاں سے تبدیل ہو کر ان کی جگہ جنرل اسٹن میلر ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ یہ افغانستان میں ، عراق اور صومالیہ میں رہے ان کا ملٹری کیرئیر بہت زبردست ہے اور یہ کہاں سے آرہے ہیں یہ بات بھی اہم ہے ۔ اس سے پہلے بھی جوائنٹ اسپیشل اوپ کے کمانڈ تھے جس کے اندر وہ سکس نیوی سیل بھی آتی ہے جنہوں نے اسامہ والا آپریشن اسلام آباد میں کیا تھا ۔

وہ جو کمانڈ ہے امریکا کی جو خاموش آپریشن کرتے ہیں یہ اس کے انچارج ہیں ۔ اس کے انچارج کے طور پر اپنا عہدہ چھوڑ کر وہ افغانستان آرہے ہیں۔ افغانستان میں بھی پہلے رہ کر جا چکے ہیں تو یہ وہاں سے پھر آرہے ہیں یہ بات اہم ہے۔ یہ پاکستان اور ریاست کے ایشوز ہیں۔

نواز شریف کو یاد آرہا ہے مشرقی پاکستان  ۔ ستر ہزار جانیں ہم نے دی ہیں ، ڈیڑھ سو بچے اور کتنے سویلین، میں مظلوم ہوں میرا مقدمہ ہے اور میرا وکیل دشمنوں کے ساتھ مل گیا ہے۔ مشرقی پاکستان کی یہ بات کرتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کے بعد ہم اتنے تنہا نہیں تھے ۔ ہم انتظار کررہے تھے کہ ساتواں بیڑہ آئے گا ۔ ہم الائنس میں تھے اس کے باوجود مشرقی پاکستان ہوگیا تھا۔ نام نہاد ہی صحیح تھے۔

عمران خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر مجھے اکثریت نہ ملی تو میں کسی اتحادی کے ساتھ حکومت نہیں بناؤں گا۔ میں اپوزیشن بیٹھ جاوں گا تو حکومت کون بنائے گا۔ انتشار ہے ۔ وہ تیار بیٹھے ہیں کہ اگر ان کا ایک بندہ بھی ہار جاتا ہے یا فیصلہ ان کے خلاف آجاتا ہے تو وہ ٹی وی پر آکر گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں اداروں کو بھی نیب کو بھی۔ انڈیا کا میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستانی میڈیا مان رہا ہے جو ان کا لفافہ ہے وہ کہہ رہا ہے کہ ہم گرے لسٹ میں اسلیے ہیں کہ دہشت گردوں کو سپورٹ کرتےہیں۔ ہم اس لیے گرے لسٹ میں ہیں کہ منی لانڈرنگ پر بدمعاشوں نے اصول نہیں بنائے ہیں۔ اور تاثر بدمعاشیہ یہ دے رہی ہے کہ ہم دہشت گردوں کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہیں۔ ان کا علاج ہے کہ تیزاب کا ڈرم اور اس میں بدمعاشیہ۔

تین ہفتے سے بھی کم الیکشن میں ٹائم رہ گیاہے اور کہا ہیں الیکشن ۔ عوام میں جارہے ہیں جوتے پڑ رہے ہیں۔ عذاب آگیا ہے بدمعاشیہ کے سرپر۔  کراچی دنیا کا چوتھا بڑا شہر آبادی کے لحاظ سے ۔ ایشو وہاں یہ ہے کہ کچرا کون اٹھائے گا۔ سندھ کا اربوں روپیہ کھایا گیا۔ اب کچرا نہیں اٹھایا۔ الیکشن کے بعد کیا ہوگا؟ حکومت سازی کیسے ہوگی ۔ اتنی ان لوگوں میں آپس میں اتنی خانہ جنگی ہوگئی ہے کہ جائیں گے کہاں۔ میری دعا ہے کہ آئینی طور پر بدمعاشیہ پکڑی جائے۔غیر آئینی طور پر پکڑے گئے تو پتہ نہیں کیا ہوگا۔

ملک انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے ۔ الیکشن کے لیے ہوگی جوڑتوڑ، ایک طرف ریاست ہے اور دوسری طرف خطے کے معاملات ہیں اور ایک طرف یہ بدمعاشیہ ہے جو کہہ رہی ہے کہ ہمیں نہیں جیتایا ۔ یہ ایک معجزہ ہے کہ بدمعاشیہ کے ہاتھوں ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔ بیان حلفیہ انھوں نے جمع کرادیا ہے ۔

دوچیزیں ہوتی ہیں ایک آزاد معیشت اور ایک آزادی رائے جس پر جمہوریت کھڑی ہوتی ہے پورے ملک میں ۔ مغربی جمہوریت سے مراد ہے آزاد کارپوریشن ، 146 کارپوریشنز نے ملکر امریکا کا صدر بنایا ہے ۔ اس کے نتیجے میں کیا ہورہا ہے کہ افراد مضبوط ہوتے جارہے ہیں اور ریاستیں کمزور ہوتی جارہی ہیں۔ یونان میں بھی یہی ہوا کہ افراد مضبوط ہوگئے اور ان کی ریاست ختم ہوگئی یہی پاکستان میں بھی ہونے جا رہا ہے ۔ وہی بدمعاشیہ جمہوریت کے نام پر مضبوط ہوگئی ہے ۔  دو لوگوں کے پاس پورے ملک کے خسارے سے زیادہ پیسہ آگیا ہے اور ریاست کمزور ہوگئی ہے۔

امریکا بیس کھرب ڈالر کا مقروض ہے چین کا ۔ کنٹرول اکانومی ہے چین کی ۔ جہاں اوپن اکانومی ہے وہاں پر اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ چین نے ملا جلا بنا دیاہے ، کمپنیاں بھی ہیں جیسے علی بابا ، لیکن پیچھے ریاست ہے ۔ مغرب کی طرح نہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹر نہیں ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چائنہ نے بیلجئیم میں جا کر ایک بندرگاہ خرید لی ہے ایک یونان میں خرید لی ہے۔ اسٹریٹیجک بندرگاہ۔ پاکستان کے اندر آپ کو خود بہ خود ایک نیا نظام بنتا نظر آئے گا۔ پارلیمنٹرین اریلیوینٹ ہوگئے ہیں۔ کوئی ان کا منشور سننے کو تیار نہیں۔ جن کا پیسہ باہر رکھا ہوا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پاکستان میں پیسے لیکر آئیں گے۔