مسلم لیگ (ن) کی قیادت انتخابات کے بائیکاٹ کا سوچ رہی ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت انتخابات کے بائیکاٹ کا سوچ رہی ہے۔

سوال: پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی انتخابی مہم جاری ہے ۔ کراچی کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے انتخابی مہم چلتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے ۔ شہباز شریف صاحب نے جوبیانات دیے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو قیادت کرنے سے روک دیا ہے

ڈاکٹر شاہد مسعود: انتشار اور خلفشار میں یہ ساری باتیں کافی دن سے کر رہا ہوں۔ اور زرداری صاحب نے آج یہ بات کی ہے کہ انتخابات کی بعد بھی ان کو ملک میں عدم استحکام نظر آرہا ہے ۔ ساری تردیدوں کو ایک طرف رکھ دیں ، مریم نواز صاحبہ ہماری بہن ہیں اور کلثوم نواز صاحبہ کی آج سالگرہ ہے ۔ سب تردیدیں سائیڈ پر رکھیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس وقت جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں لندن میں انتخابات کے بائیکاٹ کا سوچ رہی ہے۔  ہوسکتا ہے وہ کریں ، ہوسکتا ہے کہ وہ نہ کریں۔ لیکن سوچ بچار ہورہی ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیا جائے۔ اگر انتخابات کا بائیکاٹ کردیا گیا تو نواز شریف اور مریم نواز صاحبہ واپس نہیں آئیں گی۔ اسی فیصد کے قریب یہ سوچ ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ اور 20 فیصد یہ سوچ ہے کہ ہونا چاہیے ۔ یہ نواز شریف صاحب کا ذہن ہے اور یہ بات ہوئی ہے ۔ کوشش ہورہی ہے کہ پاکستان کی پیپلزپارٹی کی قیادت بھی انتخابات کا بائیکاٹ کردے۔

سوال: کیا آصف علی زرداری صاحب یہ ہونے دیں گے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: یہ میں نہیں جانتا کہ آصف علی زرداری صاحب کیا فیصلہ کریں گے ۔ لیکن آصف علی زردار اور میاں صاحب کا کوئی بالواسطہ رابطہ ہے یا ہونے جا رہا ہے جس میں نواز شریف صاحب ، زرداری صاحب سے یہ بات کہیں گے کہ پیپلزپارٹی بھی اس کا بائیکاٹ کردیں۔ تو اس خبر کو بالکل نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا اور یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ واقعی کردیں اعلان ۔ یہ سوچ اسی فیصد تک ہے۔ اور کل یا پرسوں تک یہ بات واضح ہوجائے گی کہ نواز شریف اور مریم نواز صاحبہ وطن واپس آتے ہیں یا نہیں آتے ہیں یا وہ بائیکاٹ کی طرف جاتے ہیں۔

سوال: بائیکاٹ کرتے ہیں تو بائیکاٹ کب کریں گے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: 2، 4 دن میں یہ اعلان ہوجائے گا ۔ کوئی ٹوئٹ آئی گی۔ یہ سوچ ہے ۔ ہوسکتاہے کہ وہ کہیں کہ یہ بلکل غلط بات تھی۔ اور وہ الیکشن میں حصہ بھی لیں اوروطن بھی واپس آجائیں۔ یہ سوچ ہے فیصلہ نہیں کیاہے ۔ اور اس بات پر زرداری صاحب کو قائل کریں۔ زرداری صاحب سے ابھی رابطہ نہیں ہوا کوشش کی جارہی ہے ۔

صورتحال یہ ہے کہ اب زرداری صاحب کا جو بیان آیا کہ عدم استحکام انتخابات کے بعد بھی بڑھے گا۔ انتخابات میں تاخیر کی آئین میں گنجائش نہیں ہے ۔ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں؟ شاہ محمود قریشی بھی کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔   کیا انتخابات میں تاخیر کا کوئی معاملہ چل رہا ہے ؟ نواز شریف نے کل رات کی گفتگومیں بھی عدلیہ اور فوج پر بات کی۔ فوج جو ہے وہ مارشل لاء نہیں لگانا چاہتی اور یہ بات بار بار کہہ رہی ہے ۔ عدالت کسی غیر آئینی چیز کو سپورٹ نہیں کرے گی۔ کل بلاول بھٹو صاحب کی سیکیورٹی بلکل ختم ہوگئی تھی۔ وہ کل چالیس منٹ تک پھنسے رہے ہیں ۔ میں اس بات پر حیران ہوں کہ لایا کیسے گیا ان کو ۔انتظامات کیوں نہیں تھے؟ جب بے نظیر صاحبہ آئی تھیں تو ان کے ساتھ اپنی سیکیورٹی تھی۔ زرداری صاحب کی اپنی سیکیورٹی ہے بات یہ ہے کہ بلاول کو آپ نے کیسے چھوڑ دیا وہاں پر اس طرح سے ۔ وہاں پر لوگ پتھراؤ کر رہے ہیں۔

ایک تو یہ کہ وہاں سے بائیکاٹ کے اوپر کام ہو رہا ہے اور بتایا نہیں جا رہا ہے۔ یہ بائیکاٹ پر غور ہو رہا ہے۔ اس لیے جو رات میں میاں نواز شریف صاحب نے گفتگو کی وہ بہت تلخ تھی۔ یہ دیکھیں کہ اب بلاول اندرون سندھ نکل گئے ہیں جہاں ان کو گھوما کر اب پنجاب میں لایا جائے گا۔ ایک عجیب سا معاملہ یہاں پر کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہورہی ہے یہاں پر۔ انتشار کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

امیدوار جہاں نکل کر جارہے ہیں امیدوار ان کو گھیر رہے ہیں۔ ایک طرح سے اسکو عوامی انقلاب کہا جارہا ہے لیکن ایک طرف یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ لاء اینڈ آرڈر اپنی جگہ موجود ہے ۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ افغانستان کے حالات پر نظر رکھیں ۔ اشرف غنی صاحب کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے تین دنوں تک تو وہاں پر خاموشی رہی سیز فائر جیسے ہی ختم ہوا۔ کل جلال آباد میں ایک خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 19 افراد جس میں 10 سکھ کمیونٹی کے تھے اور یہ وفد اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا وہ وہی موجود تھے۔ اور یہ اس وقت واقعہ پیش آتا ہے جب کابل میں ڈپٹی سیکریٹری موجود ہیں ساوتھ ایشیا کی ۔ انہوں نے کابل میں بات کی کہ پاکستان کو مزید اپنی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے۔ مجھے نہیں پتہ کے آج وہ پاکستان میں ہیں تو سیکریٹری خارجہ سے تو ان کی ملاقات ہورہی ہے ۔ لیکن آخر میں کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کا۔ پاکستان کی طرف سے ڈیمانڈ یہ ہے کہ ملافضل اللہ کا معاملہ نہیں ہے ۔ بارڑ لگانے پر اعتراض آرہا ہے ۔

برطانیہ کا اخبار ہے ٹائمز وہ کہہ رہا ہے کہ طالبان سب سے زیادہ ایران میں تربیت لے رہے ہیں۔ اب اس میں میری بات ہوئی کچھ لوگوں سے ۔ 18 اکتوبر 2007 کا دن ، محترمہ بینظیر بھٹو کراچی پہنچی اور دھماکہ ہوا جس میں پیپلز پارٹی کےلوگ شہید ہوئے ۔ اسلام آباد میں آیا ۔ یہاں آنے کے بعد ایک لفظ سنا جو تھا ایمرجنسی پلس ،۔ میں نے اس وقت یہ بات کی کہ ایمرجنسی پلس کے امکانات ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ایمرجنسی پلس جس دن لگی وہ تھی 3 نومبر۔ جس تاریخ کو لگنی تھی وہ تھی 29 اکتوبر ۔ اس کے بعد عدالت نے اس کو مارشل لاء اس لیےکہا کیوں کہ ایمرجنسی یونیفارم میں لگائی گئی تھی۔ فوج اس وقت مارشل لاء لگانا نہیں چاہ رہی ، ملک انتشار اور بائیکاٹ کی طرف جا رہا ہے ۔

حالات اگر قابو سے باہر ہوگئے تو پاکستان میں غیر آئینی اقدامات کا کوئی امکان نہیں ہے اسوقت تک لیکن ایمرجنسی یا ہنگامی حالات آسکتے ہیں اگر انتشار پھیلا ، ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے ۔ ایمرجنسی اس طرح سے ڈکلیئر ہوسکتی ہے ۔ کہ اس میں فوج بھی نہیں ہے اور اس میں آئین بھی اوپر نیچے نہیں ہورہا ہے۔ ایمرجنسی صدر مملکت لگاتے ہیں اور وہ لگاتے ہیں وزیراعظم کے مشورے پر ، اور وزیر اعظم کے مشورے پر ایمرجنسی لگادی جاتی اور اس کو چالیس روز کے اندر اندر پارلیمنٹ سے اس کا منظور ہونا ضروری ہے۔ کیا نگراں وزیر اعظم کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں؟ آئین پاکستان میں نگراں وزیراعظم کے پاس بھی جتنا میں سمجھتا ہوں اختیارات موجود ہیں۔ کہ اگر بیرونی جارحیت یا ملک کے اندر کسی بھی قسم کے ایسے حالات پیدا ہوجائیں جہاں پر لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہو ، ہنگامہ آرائی ہو، انتشار ہو، تو آئین میں رہتے ہوئے ایمرجنسی کا فیصلہ نگراں وزیر اعظم کرسکتا ہے۔ اور پارلیمنٹ اگر نہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟ اس صورت میں سینیٹ بھی اس ایمرجنسی کو توسیع دے سکتے ہیں ۔ چالیس دن کے بعد شاید غیر معینہ مدت تک۔

ہنگامی حالات میں کیا ہوگا کہ بنیادی حقوق معطل ہوجائیں گے۔ بنیادی حقوق ہوتے ہیں آزادی اظہار رائے ۔ یہ ختم ہوجائے گی۔ اجلاس کر رہا ہوں ختم ، ۔ بنیادی حقوق معطل ہوجاتے ہیں ۔

سوال: ملک میں جو حالات چل رہے ہیں تو کیا ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے آئین میں رہتے ہوئے؟

سابق اٹارنی جنرل شاہ خاور ایڈوکیٹ: آئین میں ایمرجسنی کی صورت موجود ہے لیکن اس کے کچھ لوازمات ہیں۔ جو آرٹیکل 232 ہے اس میں صدر کو اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ دیکھے کہ اگر پاکستان میں اگر بیرونی کوئی ایگریشن ہونے والا ہے یا سیکیورٹی خدشات ہیں، یا اندرونی معاملات ایسے ہوں جو کہ صوبائی حکومتوں کے کنٹرول سے باہر ہو تو پھر صدر پاکستان ایمرجنسی لگاسکتے ہیں۔ وہ جوائنٹ ہاوس اورسینیٹ میں پیش ہوگا اور وہ اس کی منظوری دیں گے تو وہ ایک پھر ایک ایمرجنسی ڈکلئیر ہوجائے گی۔ نیشنل اسمبلی اگر موجود نہیں ہے تو اس کے بارے میں بھی آرٹیکل 232 کا جوذیلی آرٹیکل 8 ہے وہ اس کو ریفر کردیتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ جب نیشنل اسمبلی تحلیل ہو تو ایمرجنسی کا نوٹیفکیشن چار مہینے کے لیے ویلڈ ہے۔ اور اگر وہ الیکشن اپنی مدت میں نہ ہو تو وہ آرڈر ختم ہوجائے گا۔ اگر اس کو سینیٹ آف پاکستان میں پیش کردیا جائے ۔ ایک قرارداد کے ذریعے اس کو منظور کردے تو وہ ایک ویلڈ ایمرجنسی ہوگی۔

سوال: چارماہ کے لیے ایمرجنسی لگا سکتے ہیں تو پھر اس کو توسیع پارلیمنٹ دے سکتی ہے ۔

شاہ خاور ایڈوکیٹ: اگر سینیٹ اس کو ایک قرارداد کے ذریعے منظور کرلے تو مزید اس کی مدت ایمرجنسی کی بڑھ سکتی ہے ۔ جو صوبائی حکومتیں ہیں ان کا اختیار جو ہے وہ سیدھا فیڈرل حکومت کے پاس آجاتا ہے۔ اور اس کے بعد اگر صدرممکت محسوس کرے تو ان کے پاس ایڈیشنل پاوور بھی ہے آرٹیکل 233 کے تحت کے وہ جو بنیادی حقوق ہیں جو آئین پاکستان میں دیے گئے ہیں ان کو معطل کرسکتے ہیں۔

1985 میں پیپلز پارٹی نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا ۔ اس کو بینظیر ، بیگم نصرت بھٹو، زردار تمام پیپلزپارٹی اس کو بڑی غلطی سمجھتی ہے ۔ اسی طرح بلدیاتی الیکشن ہونے تھے کراچی میں 2002 میں تو اسوقت ایم کیو ایم بائیکاٹ کر گئی تھی تو نعمت اللہ خان مئیرآگئے تھے تو ایک بڑی غلطی تھی۔

اندرونی خدشات اس وقت موجود ہیں ، نیشنل ایکشن پلان دفن ہوچکاہے۔ یہ جو دنیا بھر میں بم دھماکے ہوتے ہیں اس میں سامنے کوئی اور ہوتا ہے اور پیچھے کوئی اور لوگ ہوتے ہیں۔

سوال : اگر مسلم لیگ (ن) حالات کو اس طرف لے جاتے ہیں تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: مسلم لیگ (ن) کو اس کا نقصان ہوگا۔ میاں نواز شریف کو ایک انتہا سے آگے نہیں جانا چاہیے ۔ تلخیاں اس سے زیادہ نہ بڑھائیں ۔ میری اطلاع یہ ہے کہ اب تک ان کا زرداری صاحب سے رابطہ نہیں ہواہے ۔ لیکن بالواسطہ رابطے ہیں۔ اگر اس آئیڈیا پر میاں صاحب مانتے ہیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ زرداری صاحب بھی مان جائیں۔ زرداری صاحب کسی پر اعتماد نہیں کرتے ہیں۔ اور یہ وہ صحیح کرتے ہیں کیوں کہ ان کے جو زندگی کے تجربات ہیں اس میں وہ کسی سے کچھ نہیں کہتے ۔ زرداری صاحب کو بہت کم ان کے قریبی لوگ ہیں جو نام سے پکارتے ہیں باقی سب ان کو صاحب کہتے ہیں۔ کل زرداری صاحب نے بات کی کہ میں بلاول کو وزیراعظم دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر بلاول وزیراعظم ہوں گے تو زرداری اور ادی کیا کریں گی اسمبلی میں؟ باقی لوگ کیا کریں گے۔