پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ۔

سوال: میں مستقل بات کر رہا تھا خلفشار اور انتشار۔ تو لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ بار بار یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں۔ میں نے کئی بار یہ بات کی ملک انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ امریکن ڈپٹی سیکریٹری پاکستان کا دورہ کر کے گئیں ہیں۔ اور دو مختلف بیانات آئے ہیں۔ ان کی ملاقاتیں یہاں عسکری قیادت سے بھی ہوئیں ہیں اور سویلین کے ساتھ بھی ہوئی ہیں۔  دو اسٹیٹمنٹ آرہی ہیں ، آئی ایس پی آر بتا رہا ہے کہ ملاقات ہوئی ہے آرمی چیف سے اور خطے میں سیکیورٹی کے بارے میں بات ہوئی ہے اور جو امریکی سفارتخانے سے بیان آرہا ہے وہ مختلف ہے ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی ملاقات ہوئی آرمی چیف کے ساتھ بھی جنرل بلال اکبر سے بھی ہوئی اور مختلف سفیروں کے ساتھ بھی ہوئی ، تاجروں کے ساتھ بھی ہوئی ۔ اس میں ایک جملہ اضافی ہے جس میں کہا گیاہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں ، دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے ۔

اجلاس ہوا ہے کچھ دیر پہلے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹامی کمیٹی کی زیر صدارت ہواہے اور اس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے ہیں۔ اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ ملکی ، اندرونی ، بیرونی خطرات جو منڈلا رہے ہیں اس کو افواج پاکستان دیکھ رہی ہیں اس پر قابو پائیں گی اور اس کا مقابلہ کریں گی اور کسی بھی حدتک جانے کو افواج پاکستان تیار ہے ۔

اسفندریارولی کہہ رہے ہیں کچھ قوتیں اٹھارویں آئینی ترمیم کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ترمیم کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔ یہ بات سامنے آئی تھی کہ اٹھارویں ترمیم کا جنرل باجوہ نے پوچھا تھا نواز شریف سے  ۔ جنرل باجوہ نے خود کہا تھا کہ نواز شریف صاحب سے میں نے پوچھا تھاکہ اٹھارویں ترمیم جو آپ نے منظور کی ہے اس کو خود آپ نے پڑھا؟ نواز شریف صاحب نے کہا کہ میں نے پڑھا نہیں تھا میں نے بس سائن کردیے تھے۔ بات یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بارے میں بات کون کررہاہے؟

اسفندیارولی نے عمران خان کے لیے سافٹ کارنر اختیار کیاہے ۔ انہوں نے کل انٹرویو میں کہا کہ اگر عمران خان کو زیادہ ووٹ پڑتے ہیں تو بالکل ان کی حکومت بننی چاہیے ۔ اور ساتھ ہی کہا کہ خیریت سے 25 تاریخ کا دن آجائے، خون خرابہ نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے عمران خان کی تعریف بھی کی۔

حساس اداروں نے پاکستان کی پولیٹیکل لیڈر شپ کو بتادیا ہے کہ آپ کی جانوں کو خطرہ ہے ۔ اس میں مسلم لیگ (ن) کی شخصیات بھی ہیں ، تحریک انصاف کی قیادت اور اس میں بھی پیپلزپارٹی کی قیادت بھی ہے خاص طور پر بلاول بھٹو زرداری صاحب ۔ یہ نیکٹا کی طرف سے آج کہا گیا ہے ۔

جب یہاں پر این آر او کے معاملات ہو رہے تھے تو دنیا نے یہاں پر ایک حکومت لا کر بیٹھائی تھی۔ این آر او آیا تھا ۔ مشرف صاحب کا ایک تناؤ پیدا ہوا تھا امریکا کے ساتھ اور تناؤ ان کا پیدا ہوگیا تھا 2006 میں ۔ اور یہ میرا تجزیہ ہے ۔ محمد علی درانی صاحب اس زمانے کے وزیر اطلاعات تھے ۔ وہ گواہی دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں کہ 2006 میں اسلام آباد میں مشرف کے ساتھ گئے تھے دورے پر ، طارق عظیم اور محمد علی درانی دونوں کو میں نے اس وقت کہا تھا کہ مشرف صاحب کے معاملات امریکا کے ساتھ خراب ہونے جارہے ہیں۔ اگر وہ دونوں چاہیں تو اس کی تردید کرسکتے ہیں۔ میں مشرف صاحب سے یہ بات نہیں کہہ سکتا تھا ۔ درانی صاحب نے پوچھا تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں کیوں کہ ہم ابھی دورہ کر کے آئیں ہیں اور بڑے اچھے معاملات ہورہے ہیں۔ میں نے کہا کہ معاملات اچھے ہورہے ہیں لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ معاملات خراب ہونے جا رہے ہیں۔ اور کچھ عرصے کے بعد یہ ہوا کہ مشرف صاحب کا محترمہ کے ساتھ این آر او ہوا ۔ اور مشرف صاحب کو کہا گیا ۔ بات آگے چلی اور تناؤ بڑھتا گیا اور بڑھتے ، بڑھتے محترمہ کی شہادت بھی ہوگئی ۔

سوال: کیا اسوقت پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں؟

ڈاکٹرشاہد مسعود: پاکستان اور امریکا کے درمیان اس وقت تعلقات کشیدہ ہیں۔ اور اس وقت امریکا اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو ڈکٹیٹ کراسکے دنیا میں ، کسی بھی ملک کو یہ کہہ سکے بشمول مشرقی وسطیٰ کے ممالک کے کہ آپ اس حکومت کو لائیں اور اس کو نہ لائیں۔

بشارالاسد کو امریکا رکھنا چاہ رہا ہے اس کو نہیں کہہ رہا ہے کہ ہٹ جاؤ وہ کہہ رہا ہے کہ جو ممالک بشارالاسد کے خلاف لڑائی لڑ رہے تھے ان کو کہا کہ بشار الاسد کو ساتھ رکھو شرط یہ رکھی ہے کہ ایران کو نکال دو۔ بشارالاسد امریکا کو قبول ہوگیا ہے اور عرب ممالک کو بھی قبول ہونے جا رہا ہے ۔ پاکستان کے اندر امریکا اس پوزیشن میں نہیں ہے ، افغانستان میں بھی نہیں ہے وہاں بھی اپنی مرضی کی حکومت لا کر بیٹھا دے۔ پچھلی دفعہ وہاں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی آپس میں لڑائی ہوگئی تھی۔ خانہ جنگی ہوجاتی۔ عجیب قسم کی وہاں حکومت آئی۔ وہاں ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں اٹھ گئیں تھیں۔ 20 اکتوبر کو افغانستان کے الیکشن ہیں۔ وہاں کشیدگی ہے ۔ میں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ جو یہ میثاق جمہوریت ہے ۔ اس سے ہٹ کر ایک خاموش نقطہ بھی ہے جس کو لکھا نہیں گیا وہ یہ ہے کہ جو پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اس کو یہ جو سارا سیٹ اپ لایا جا رہا ہے پاکستان میں وہ اس کو ہدف بنائے گا۔ اور اس کی پہلی علامت آگئی تھی ، جب آئی ایس آئی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ پھر اس کے بعد واپس لینا پڑا ۔ ایم کیو ایم کیسے آگئی پیپلزپارٹی کے ساتھ ۔ ایم کیو ایم کےساتھ ایک کنڈیشن تھی ۔ اور وہ بہت تکلیف دہ تھی۔ سب سے تکلیف دہ چیز تھی جو نقطہ اٹھایا گیا تھا ایم کیو ایم کی طرف سے وہ یہ اٹھایا گیا تھا کہ جنرل نصراللہ بابر کو پیپلز پارٹی سے ہٹائیں۔ اور وہ بڑا مشکل فیصلہ تھا۔

سوال: سنگین خطرات موجود ہیں امیدواروں کو ۔ کیا مریم نواز میاں صاحب وطن واپس آئیں گے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: زرداری اور میاں صاحب کے رابطے بحال ہورہے ہیں۔ مکمل رابطے بحال ہیں ۔ براہ راست زرداری اور میاں صاحب کے رابطے  بحال ہوگئے ہیں۔ بلاول بھٹو نے ایک اور اہم بات کی ہے کہ وہ کون ہیں جو عدالتوں سے کہہ رہے ہیں کہ ڈیم بناؤ؟ اس وقت آپ دیکھیں تو نواز شریف اور زرداری صاحب کا بیانیہ آپ کو ایک نظر آئے گا۔

سوال: بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ احتساب ہو مگر انصاف ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: ہو یہ رہا ہے کہ زرداری صاحب کا اور نواز شریف صاحب کا رابطہ ہوگیا ہے اور بات یہ ہورہی ہے بائیکاٹ ۔ لیکن بائیکاٹ کے لیے رہ گئے ہیں اب 48 گھنٹے کیوں کہ جمعہ کو فیصلہ آناہے ۔ اگر سزا ہوتی ہے تو کم از کم سزا 7 سال اور  زیادہ سے زیادہ 14 سال، تمام جائیداد ضبط ، بیرون ملک بھی تمام جائیداد ضبط کرنے کی پابند ہیں باقی حکومتیں۔ اور اس میں یہاں پر بائیکاٹ کی بات چل رہی ہے ۔ دونوں پارٹیوں کی سربراہان کے درمیان ۔ اگر بائیکاٹ ہوگا تو 24 گھنٹے میں بات سامنے آجائے گی۔ رابطے ہورہے ہیں ، اجلاس ہورہے ہیں۔ انور مجید صاحب پاکستان چھوڑ گئے ہیں جو زرداری صاحب کے قریبی دوست تھے۔ زرداری صاحب کو لگا کہ ان کے معاملات طے ہوگئے ہیں اور کسی طرح کا این آر او ہوگیا ہے۔ زرداری صاحب نے مسلم لیگ ن کی حکومت دبڑدوس کی اور وہاں پر اپنی حکومت لانے کی کوشش کی اب وہ کہہ رہے ہیں کہ وہاں پر صادق سنجرانی آجائے گا ۔

زرداری صاحب کے ذہن میں یہ تھا کہ سندھ تو میرا ہے اور سندھ میرے پاس رہے گا۔ اب ان کو احساس ہورہا ہے کہ سندھ کے بڑے شہروں میں پی ایس پی اور ایم کیو ایم آپس میں کبھی بھی جڑ جائیں گے ۔ دوسری جگہ پی ٹی آئی اور تیسری جگہ جماعت اسلامی اور دوسری جماعتیں آگئیں ہیں اور جو اندرون سندھ ہے وہاں جی ڈی اے ، وہاں پیر صاحب پگارا ، اور جو پرانے لوگ سندھ میں پیپلزپارٹی کے پرانے لوگ موجود ہیں وہ ناراض ہیں۔ زرداری صاحب کو اندازہ ہے کہ ان کو پورا سندھ نہیں ملنے جارہا ۔ جنوبی پنجاب کا ان کو تھا لیکن وہ جنوبی محاذ بن کر چلا گیا پی ٹی آئی کی طرف۔ اگر آپ کسی سیٹ اپ میں بارگین کریں گے تو کم از کم آپ کے پاس پچاس ، ساٹھ سیٹیں تو ہوں۔ اگر بائیکاٹ ہوتا ہے سب سے بری پوزیشن میں جو فیصلہ کرنا ہے وہ نواز شریف صاحب کو کرنا ہے ۔ دوسرا یہ کہ بائیکاٹ کے نتیجے میں اور زیادہ دشواری زرداری صاحب کو تو ہوگی لیکن شہبازشریف کیا کریں گے؟ چوہدری نثار کے دل میں یہ بات رہے گی کہ ان کے پیٹھ میں چھرا مارا ہے تو وہ نواز شریف نے نہیں شہباز شریف نے مارا ہے  ۔ جب وقت تھا ساتھ کھڑے ہونے کا تو کہا تم آگے بڑھو اور وقت مقررہ پر وہ بھائی کے ساتھ جا کر کھڑے ہوگئے۔

سوال: اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اگر الیکشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو صورتحال کیا ہوگی۔ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ نواز شریف نے میرے ساتھ بے وفائی نہیں کی دشمنی کی ہے ۔

ڈاکٹرشاہد مسعود: لاہور میں آج گاڑیاں ڈوب رہی تھیں اور کشتیاں چل رہی تھیں۔ لوگ بھی ڈوب رہے تھے اور یہ انتہائی خوبصورت شاہکار شہباز شریف نے بنایا ۔ اس سے زیادہ کیا ترقی ہوگی کہ بیچ لاہور کے اندر انہوں نے نیاگرہ فال بنادیا ۔ دونوں پارٹیوں کو بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ بائیکاٹ کا مطلب ہے کہ آپ سیاست سے گئے ۔ بلاول اپنی جگہ رہیں گے ۔ فیصلہ انہوں نے جلد کرنا ہے 6 تاریخ سے پہلے یہ فیصلہ بھی کرناہے کہ انہوں نے ملک میں آنا ہے یا نہیں ۔ مریم نواز صاحبہ ، نواز شریف آتے ہیں یا نہیں۔ زرداری صاحب کو بھی فیصلہ کرناہے کہ انہوں نے بائیکاٹ کے حق میں جانا ہے یا نہیں جانا ہے۔ مریم صاحبہ کو اس سارے معاملات میں 7 سال سزا ہوسکتی ہے لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ اس سے نواز شریف کو فائدہ نہیں ہوگا۔

الیکشن ان کی غیر حاضری میں ہو بھی سکتے ہیں اورنہیں بھی۔ فرض کریں نواز شریف اور زرداری صاحب بائیکاٹ کر گئے تو شہباز شریف صاحب کیا کریں گے۔ انہوں نے چوہدری نثار کو دھوکا دیا ہے ۔ چوہدری نثار اکیلے نہیں تھے شہباز شریف ساتھ تھے آخری موقعے پر وہ الگ ہوئے۔ شہباز شریف اس وقت درمیان میں کہیں ہیں۔ اسوقت بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ۔ بہت سارے لوگ ٹوٹ کر چلے جائیں گے۔ غیر حاضری میں بھی سزا ہوسکتی ہے کیوں کہ ساری پیشیوں میں دونوں آئیں ہیں۔ اگر دونوں پارٹیاں باہر ہوجاتی ہیں تو اسمبلی کے اندر دو کیمپس بن رہے ہیں۔ ایک کیمپ بن رہاہے جس میں عمران خان ، پی ٹی آئی ہے اور دوسرا کیمپ بن رہا ہے جس میں چوہدری نثار ہیں آزاد امیدوار ۔ بہت سے لوگ مسلم لیگ (ن) کے ہوسکتا ہے کہ وہ عمران خان کی طرف نہیں جائیں چوہدری نثار کی طرف چلے جائیں۔