انتخابات کے ساتھ احتساب بھی چلے گا، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ انتخابات کے ساتھ احتساب کا عمل بھی چلتا رہے گا ۔

سوال: عام انتخابات میں ایک ماہ باقی ہے ۔ اسوقت ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال آپ کو کیسی نظر آرہی ہے؟

ڈاکٹرشاہد مسعود : ملک میں سیاسی صورتحال تو آپ چھوڑیں ۔ اس وقت حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کسی کو نہیں پتہ کہ پاکستان کا وزیر خارجہ کون ہے ۔ وزیر داخلہ کا بھی اس لیے پتہ چلا کہ زلفی بخاری کا ایشو کھڑا ہوگیا۔ ورنہ کسی کو نہیں پتہ اور نہ کسی کو دلچسپی ہے ۔ صوبوں میں گورنر بیٹھے ہیں ۔ پرانے گورنر بیٹھے ہیں۔ وہاں پر الیکشن کی سرگرمیاں جاری ہیں ، جوڑ توڑ ہو رہا ہے۔ کوئی سر پیر ہے نہیں، سیاسی سفیراپنی جگہ موجود ہیں مختلف ملکوں کے اندر ، گورنرز جو ہیں ، سیاسی گورنرز ان کے آل اولاد، رشتے دار، الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ہم جارہے ہیں انتخابات کی طرف اور ساتھ ہی انتشار کی طرف۔ یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ اب یہ انتشار میں انتخات کس طرح سے ہوگا یہ آنے والے دنوں میں بات کلیئر ہوگی۔ انتخابات ہوں گے وقت پر ۔ لیکن انتشاراتنا بڑھ گیا ہے اور اتنی زیادہ بدعنوانی ہے کہ ایک چور کو ایک جگہ سے اٹھا کر بیوروکریٹ کو دوسری جگہ رکھ دیا ہے ۔اور کھلم کھلا لوٹ مار ہے ۔ الیکشن کمیشن نامی ادارہ کہا ہے ۔ بیلٹ پیپرز کب چھپیں گے ، انتخابی مہم کب چلیں گی ، کہاں چلیں گی۔ کسی کو نہیں پتہ، جوڑ توڑ سیاست ، کسی کو ٹکٹ نہیں ملا۔ وہ رونہ ڈالا ہوا ہے اور ایک مہینے کے بعد اس ملک میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔

سوال : انتخابات میں کیا ہونے جارہا ہے؟

ڈاکٹرشاہد مسعود :  پہلے میں کلثوم نواز صاحبہ کی صحت کے حوالے سے بات کرلوں ۔ اللہ ان کو صحت دے۔ ان کے حوالے سے بہت بری خبریں آرہی ہیں۔ اللہ ان کو بھی اس آزمائش سے نکالے اور ان کے خاندان کو بھی اور ہم سب کی طرف سے دعا ہے کہ اللہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو صحت دے۔ یہاں ایک بہت بڑا سوال ہے جو بہت ساری سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں کہ وہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھائیں گے۔ مظلومیت کریں گے۔ لیکن میں صرف یہاں ایک سوال کروں گا سنجیدگی اور انتہائی ادب کے ساتھ اپنی بہن مریم نواز صاحبہ اور انتہائی محترم نواز شریف صاحب سے اور اسحاق ڈار سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ دس ماہ سے بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو کینسر تھا۔ دس مہینے سے وہ کیمیو تھراپی پر تھیں۔ دنیا کی تمام دولت حدیبیہ وغیرہ دنیا بھر کی چیزیں۔ ایک اشارے پر دنیا کے بہترین ڈاکٹرز موجود تھے۔ آسکتے تھے ۔ پیسے کی کمی نہیں ۔

مجھے یہ بتائیں کہ ای سی ایل میں نام بھی نہیں تھا۔ کچھ بھی نہیں تھا۔ آپ یہاں پر کہتے کہ جہنم میں جائے سب کچھ ، بیگم کلثوم نواز صاحبہ اتنی نفیس خاتون ہیں۔ نواز شریف صاحب اور ان کے آپس کو جو تعلقات ہیں آئیڈیل کپل کی طرح ، بہت اونچ نیچ دیکھا ہے ان لوگوں نے زندگی میں ۔ میاں نواز شریف کہتے کہ جہنم میں جائے جلسے جلوس اور یہ پارلیمانی بورڈ ، اور چودھری نثار کے پیچھے جاسوس لگائے ہوئے ہیں۔ جہنم میں جائے میں اپنی بیوی کے پاس جا رہا ہوں یا وہ یہ کہتے کہ اتنے بڑے بڑے جلسے ہورہے ہیں۔ شیر آیا شیر آیا ۔ یہ سب کچھ چلتا ہے ۔ یہ سب دنیا داری ہے ۔ آپ دعا تو کر سکتے تھے۔ مریم نواز صاحبہ دعا تو کرسکتی تھیں جلسوں میں ، ناچ گانا ہو رہا ہے ۔ ٹھمکے ہو رہے ہیں۔ اس تمام عرصے کے دوران تاریخ کیا لکھے گی؟ میں آپ کو بتاؤں کہ جلسے میں ایک دعا تو ہوسکتی تھی۔

میرے ساتھ نعرہ لگاؤ ووٹ کو عزت دو ، لیکن یہ دعا ایک جلسے میں نہیں ہوسکتی تھی کہ آپ دعا کریں کہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو میری والدہ کو اللہ تعالیٰ صحت دے۔ کہیں آپ نے بیگم کلثوم نواز صاحبہ کا نام سنا؟ کسی جلسے میں یہ نہیں ہوا۔ اب میاں نواز شریف صاحب وہاں پہنچیں ہیں۔ اور وہاں پہنچنے کے بعد میاں نواز شریف صاحب کہہ رہے ہیں کہ مجھے یہاں پر آنےکی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ پہلے نہیں کرسکتے تھے؟ کیا ان کے بچے ان کو وہاں سے نہیں بتا رہے تھے؟ کیا ان کو نہیں پتہ تھا کہ کیمیو تھراپی کے کیا رزلٹ ہوتے ہیں۔؟ کوئی نہیں بتا رہا تھا ان کو؟ کیا اس طرح سے چلتی ہے دنیا؟ میں شکل دیکھ رہا تھا میاں صاحب کی وہ پریشان تھے لیکن مریم نواز صاحبہ گئیں ہیں ان مرحلوں تک۔ وہاں جاتے جلسوں میں دعا کرتے ، ہم سب کرتے ۔ یہ آپ پہلے بات کرتے ۔ ابھی آپ وہاں گئے ہیں اور وہاں جا کر آپ نے استثنیٰ بھیجا ہے۔ آپ وہاں جاتے اپنی بیوی کے پاس بیگم صاحبہ کے پاس اور وہاں پر جا کر استثنی کی درخواست بھیجتے ۔ یہ کیا کیا ہے میاں صاحب نے ۔ ساری سیاست سائیڈ پر ڈالیں ۔ ادھر بلاول اور زرداری صاحب کیا فرما رہے ہیں۔ یعنی ان کی جتنی جائیداد بنی وہ مرحوم میاں شریف صاحب پر ڈال دی۔ ادھر بلاول جو ہیں وہ اپنے باپ سے زیادہ امیر ہیں ان کو بینظیر بھٹو صاحبہ سارے تحفے دے گئیں۔ گھوڑے بھی ، اسلحہ بھی اور دوہزار گز کا ۔ 30 لاکھ کا بلاول ہاؤس تحفہ دے گئیں۔

ایک قانون طے کردیا اللہ تعالیٰ نے بلکل واضح طور پر وہ بھی زمانے کی قسم کھا کر ۔ زمانے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں اس میں کہہ دیا کہ انسان خسارے میں ہے ۔ ایک رول بنادیا ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے ہدایت لی ۔ جنہوں نے صبر کیا ، جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ یہ تین آیات پر مشتمل ہے۔ قرآن شریف میں صرف تین سورتیں ایسی ہیں ۔ تین تین آیات پر ہیں۔ سورۃ العصر، سورۃ الکوثر اور سورۃ النصر، یہ رول بن گیا کہ انسان خسارے میں ہے ۔ زمانے کی قسم سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے یہ کام کیے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر جو دولت پڑی ہوئی ہے ، جب بے نظیر کا سوئم تھا ۔ تو میں جب وہاں پر گیا دبئی میں جہاں محترمہ کی رہائش گاہ تھی۔ وہاں ایک ڈیکوریشن پیس رکھا ہوا تھا جو محترمہ کو بہت پسند تھا اور وہ اس کو بہت احتیاط سے وہاں رکھتی تھیں کہ کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگائے۔ بلاول اور باقی بچے انتظام کر رہے تھے وہاں کیوں کہ لوگ آرہے تھے سوئم تھا۔ وہاں آتے جاتے لوگ اس کو پھینک رہے تھے وہ قالین تھا اس سے ہاتھ صاف کر رہے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں رہ جاتے ہیں۔

کلثوم نواز صاحبہ، ساری کی ساری ملز ، ساری کی ساری دنیا کا پیسہ ، طیارے ، اربوں ڈالرز چیزیں معاملات کیا چیز ہے جو نہیں ہوتی ۔ لیکن قدرت دیکھیں اللہ تعالی کی کہ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ میں وہاں پہنچا تو ان سے بات نہیں کرسکا ۔ یعنی چار گھنٹے پہلے بھی آپ نکل جاتے تو آپ بات کرلیتے ۔ قدرت کا ایک اپنا انتظام ہے ۔ یہاں دعا کرا لیتے ، بیگم صاحبہ کا ذکر نہیں آیا کسی جلسے میں ۔ انسان سامنے دیکھتا ہے اپنے ۔ اس مرحلے پر کوئی آدمی دنیا کی ساری دولت لے آئے اور وہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ ۔ مشرف صاحب کے مارشل لاء کے بعد انہوں نے نکالا ہے ۔ نوازشریف صاحب کی وہ گائیڈ رہی ہیں ۔ انہوں نے نکالا ہے ۔ ہر مرحلے پر مدد کی نواز شریف کی ۔ میاں نواز شریف یہاں شیر آیا ، ڈھول ڈھماکا چل رہا ہے ، بیوی آپ کی وہاں پر۔ کوئی جیل میں بھی بند ہوتا ہے تو بھی قیدی بیٹھ کر دعا کر رہے ہوتے ہیں۔ میں بطور انسان عجب محسوس کر رہا ہوں کہ میاں نواز شریف نے یہ کیا کرا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میاں نواز شریف کوئی بوجھ اس بات کا دل میں محسوس کرتے ہوں۔ مجھے لگا وہ کر رہے ہیں لیکن پھر دنیا داری ، لوگ آرہے ہیں، ٹکٹ بک رہے ہیں۔

کون جیتے گا۔ کیا ہوگا، ۔ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ کہ جلسے میں آپ دوسرا گانا لگاؤ، تیسرا گانا لگاؤ، کیا رپورٹس نہیں آرہی تھی آپ کے پاس ؟ کیمیوتھراپی چل رہی ہے بیوی کی۔ کیا بات کر رہے ہیں آپ ، دنیا بھر کے ڈاکٹرز نہیں بتا رہے آپ کو کہ ان کے پلیٹیلیٹس کتنے ہیں، وائٹ بلڈ سیلز کتنے ہیں۔ شیر آیا ، شیر آیا ، ناچو، دوسرا گانا لگاؤ ۔ ووٹ کو عزت دو ، یہ کیا بکواس کرتے ر ہے ہیں یہاں بیٹھ کر ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے ۔ میاں صاحب بھی سوچیں اس بات کو ۔ جہنم میں جائیں ساری چیزیں۔ اس کے اوپر سیاست؟ میں پوچھتا ہوں ان سے کہ دس مہینے تک کیوں اور کیسے ؟ آپ کو نہیں پتہ تھا کہ ڈاؤن جارہی ہے پلیٹیلیٹس ؟ یہ سارے جوابات ان کو دینے ہوں گے آنے والے دنوں میں ۔

سوال: مسلم لیگ (ن) میں بغاوت نظر آرہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں میں گروپنگ ۔ آپ اس معاملے کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟

ڈاکٹرشاہد مسعود :  سیاسی بٹیریں ہیں ان کو چھوڑ دیں آپ ایک طرف۔ باقی مسئلہ یہ ہے کہ رواداری نہیں رہی سیاست میں ۔ چوہدری نثار صاحب پرانے وقتوں کے دوست ہیں۔ ادھر سے زعیم قادری پڑ گئے ہیں حمزہ شہباز کو ۔ وہ ان کو کہتے ہیں کہ کیا تم اور تمھارے باپ کا ہے لاہور؟ اور میں کل پرویز رشید صاحب کو سن رہا تھا کہ وہ ہنس رہے تھے کہ چودھری نثار وہ ، چودھری نثار وہ، میاں سعد رفیق کہہ رہے زعیم قادری وہ۔  آپ یہاں دعا کیوں نہیں کراتے ہیں بیگم کلثوم نواز صاحبہ کے لیے؟ کسی ٹی وی چینل پرآکر کیوں نہیں کہتے کہ بیگم کلثوم نواز کے لیے دعا کریں؟ ان سارے لوگوں کو شرم نہیں آتی ۔ ہم لوگوں کو بطور قوم شرم نہیں آتی ؟ کہ ہم بات کیا کر رہے ہیں۔ ہم پوچھتے بھی نہیں سوال کہ براہ کرم آپ دعا تو کرالیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ  ان کو صحت دے ان کی مشکلات آسان فرمائے ، بیٹھے ہوئے ہیں۔ گالم گلوچ ، ہنسی مزاق ، ٹکٹ ہوگیا۔ اگلی حکومت ہماری بنے گی۔

سوال: چوہدری نثار کا جانا مسلم لیگ ن کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے یا ان کے لیے؟

ڈاکٹرشاہد مسعود :  پلان یہ ہے کہ عمران خان کو انگیج کردیا گیاہے ۔ عمران خان کو پھنسا دیا گیاہے ۔ بے شمار لوگ جو عمران خان کی پارٹی میں گئے ہیں ۔ وہ مسلسل پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے رابطے میں ہیں۔ اور بے شمار وہ لوگ آگے آگئے ہیں الیکٹیبلز کی صورت کارکن پیچھے ہیں۔ حقیقتا ناراضگیاں ہیں۔ لیکن اس میں ہی دوسرے قسم کےلوگوں نے آکر کہا کہ عمران خان کو ٹارگٹ کرلو، اور میں جو بات تین سال سے کہہ رہا ہوں ۔ وہ بات دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اور مسلم لیگ ن کی قیادت بلکل رابطے میں ہیں اور ٹارگٹ ہے عمران خان۔ ایک تو یہ کہ عمران خان کو زیادہ اکثریت سے آگے نہیں آنے دینا ہے ۔اور اگر عمران خان زیادہ اکثریت سے آگے آگئے تو عمران خان کے ساتھ بھی جو الیکٹبلز آرہے ہیں آگے ان کو بھی نا اہل ہونا ہے ۔ اگر وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس پارٹی سے دوسری پارٹی میں جاکر وہ ڈرائے کلین ہوجائیں گے تو بھول جائیں اس بات کو یہ جو بیان حلفیہ ہے ۔ یہ جو جمع کرا رہے ہیں سارے ۔ اس میں توہین عدالت بھی لگے گی ۔ آگے جاکر جب یہ چیک ہوں گے۔ وہ جو مقررہ وقت پر کھولے گا کہ کس کی کہاں پراپرٹی ہے ۔ اور کس نے کیا دو نمبریاں کی ہوئیں ہیں اور کس کے نام کیا کیا ہواہے۔ تحفہ میں دے دیں گئیں ۔ وصیت بھی ڈسکس ہوگئیں۔

سوال: حمزہ شہباز کے شہباز شریف سے زیادہ اثاثہ جات ہیں۔

ڈاکٹرشاہد مسعود :  9 ستمبر کو صدرممنون حسین بھی جارہے ہیں۔ مجھے پیپلزپارٹی کے ایک رہنما نے اور مسلم لیگ کے ایک رہنما نے اور دونوں سابق وزرا ہیں ، میں نے پوچھا صدر کون بنے گا کیوں صدر پر مقدمات قائم نہیں ہوں گے۔ اس وقت جو سب سے اہم جگہ ہے وہ صدر کی ہے۔ آج سے دوسال پہلے میں نے یہ بات کی تھی کہ میاں نواز شریف صاحب صدر بننے کا سوچ رہے ہیں۔ اگر وہ صدر بن جاتے تو پاناما نہیں آتا ، پروگرام میں بات ہوگئی ایسی کوئی بات نہیں۔ وہ صدر بن جاتے تو ان کو استثنیٰ حاصل ہوجاتا ۔ ایک بات کی جارہی ہے کہ زرداری صاحب تو انہوں نے ایم این اے کے پیپر جمع کرادیے ہیں۔ وہ ایم این اے کے پیپر ود ڈرا کرسکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ 2008 نہیں ہے ۔ 2008 میں بھی یہ ہوا تھا کہ زرداری صاحب نے لاڑکانہ سے پیپر جمع کرادیے تھے۔ اور پھر پیپر واپس لے لیے تھے۔

مشرف صاحب نے کہا تھا کہ صحیح ہے کہ پیپر واپس لے لیے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ آپ مجلس شوریٰ کے پیپر جمع کراتے ہیں اور واپس بھی لے لیتے ہیں تو صدر بننے کے لیے اہل ہوجاتے ہیں۔ لیکن اب انھوں نے اثاثے ڈکلیئر کردیے ہیں اور معاملات الگ ہیں۔ اب معاملہ یہ ہے کہ صدر کون بنے گا۔ تو مسلم لیگ ن کی طرف سے ان کے ایک رہنما نے کہاکہ ممنون حسین کے بعد ہم سپورٹ کریں گے افتخار چودھری صاحب کو ۔ میں نے کہا کہ میاں صاحب اور افتخار چودھری صاحب کی لڑائی ہوگئی تھی۔  افتخار چودھری صاحب سے پوچھوں گا پھر کل کے پروگرام میں اس کی تصدیق یا تردید کروں گا۔ لیکن ادھر سے یہ بات ہوئی ہے کہ ان کو صدر بنادیں گے۔

سوال: پنجاب میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس پر مختلف سیاسی شخصیات اتفاق کرچکی ہیں۔ کیا کوئی بڑا الائنس اور سیاسی اتحاد بننے جارہا ہے؟

ڈاکٹرشاہد مسعود : دو باتیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان یہ کہہ چکی ہے کہ ایک ماہ کے اندر اندر۔ دو تین معاملات کے ایک ماہ میں فیصلہ سنائے جائیں۔ اب کیا اس کا فیصلہ سنایا جاتا ہے ؟ نہیں سنایا جاتا ہے؟ ۔ یہ سوال اٹھے گا کہ کیا سیاست اتنی بے رحم ہوتی ہے کہ آپ یہاں پر جلسے جلوس میں ہو۔ اس تمام صورتحال میں ایک چیز بہت اہم ہے ۔ جو میں بار بار سالہاں سال سے کہہ رہا ہوں یہ بات کہ آپ نے اہم ترین مسئلہ سائیڈ پر رکھ دیا ہے اور وہ ہے ملک کی سیکیورٹی ۔ ریاست نے اپنے آپ کو آٹو کریکٹ کیا ہے ۔ فاٹا کا انضمام ہوا ستر سال کے اندر اہم ڈیویلپمنٹ ہے۔ اور ایسے وقت میں ہوا ہے جب وہاں حکومت گرنے والی ہے ۔ ٹوٹی پھوٹی حکومت ہے اور وہ طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ سترہ سال بعد اگر آپ نے یہ کرنا تھا تو لاکھوں زندگیاں گئیں۔ ادھر بھی گئیں۔ اربوں ڈالر آپ نے جھوکے اور اب طالبان سے آپ کے ٹاک شو ہو رہے ہیں۔  تین دن طالبان بھی اتر کر آگئے اور افغان نیشنل آرمی کے لوگ بھی آگئے ۔

لیکن اب وہاں داعش نامی مخلوق بھی ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر آگئی ہے ۔ یہ وہ داعش نہیں ہے شام والی ۔ یہ انگلش بولنے والی داعش ہے۔ اس پوری صورتحال میں وہاں کی سیکیورٹی ، افغانستان کی صورتحال اور اس کے ساتھ ایک اور اہم واقعہ ۔ اس کو پاکستان کے ساتھ جوڑیں بھی کیوں کہ آنے والے دنوں میں یہ بات بہت اہم ہوگی کہ اتوار کے روز یعنی 24 تاریخ کو ترکی میں الیکشن ہونے جارہے ہیں۔ الیکشن یہ ہونے جا رہے ہیں کہ وہاں پر جو صدر ہیں طیب اردگان وہ اگر جیت گئے تو اس کے بعد وہاں پر صدارتی نظام آجائے گا۔ پارلیمانی نظام ختم ہوجائے گا۔ یعنی روس کی طرح کا ایک سیٹ اپ آجائے گا۔ جہاں صدر کے پاس پاوورز ہوں گی۔ وزیراعظم فارغ ان کی پوسٹ گئی۔ ابھی جو صدر کی پوسٹ پاوور فل ہے وہ اس لیے ہے کہ ابھی وہاں پر ایمرجنسی لگی ہوئی ہے۔ ایمرجنسی اٹھ جائی گی تو پاوور صدر کے پاس آجائیں گی 2023 تک ۔ وہاں پر طیب اردگان کی پوزیشن مضبوط ہے اور وہاں پر نظام تبدیل ہو رہا ہے۔ جمہوریت اپنی جگہ ہے لیکن ترکی کا نظام تبدیل ہونے جارہا ہے۔ ترکی جارہا ہے پارلیمانی نظام صدارتی نظام کی طرف ۔

اب آپ کو مضبوط وزیر خزانہ ، وزیر خارجہ اور وزیر اعظم ، زبردست قسم کا صدر اور سفارتکار فوری طور پر چاہیے۔ اس وقت دنیا کی عجیب صورتحال ہے پاکستان کے پالیسی میکرز کو اس کا اندازہ نہیں ہے ۔ آٹوکریکشن ریاست کر رہی ہے ۔ معاشی دہشت گردی سب سے بڑا ایشو ہے۔ خارجہ پالیسی سب سے بڑا ایشو ہے ۔ خارجی محاذ پر افغانستان سے بات کون کر رہا ہے آرمی چیف۔ مجھے نہیں پتہ کہ حقیقتا وزیر خارجہ کون ہے ؟ اس وقت وہاں پر حکومت گر رہی ہے ، اب یہ جھگڑا ہے کہ داعش آئی گی یا طالبان قبضہ کریں گے۔ اشرف غنی فارغ ہوگئے ہیں۔

میں پچھلے دنوں ایک جگہ گیا وہاں پر ایک ریسرچ ہورہی ہے اور مغرب کی بڑی یونیورسٹی جس کا میں نام نہیں لوں گا۔ وہاں لوگ بیٹھ کر ریسرچ یہ کر رہے ہیں پچاس۔، ساٹھ کروڑ آدمی دنیا میں مرجانے چاہیں۔ ایک صاحب تھیسیس لکھ رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا پیپر ہے؟ ریسرچ یہ ہورہی ہے کہ دنیا کی اس وقت جو آبادی ہے وہ ہے 7 اعشاریہ 6 ارب ۔ یعنی دنیا کی پوری تاریخ میں اتنے لوگ کبھی نہیں تھے۔ دنیا میں دس ارب لوگوں کی گنجائش ہے ۔ 10 ارب لوگوں کا بوجھ زمین برداشت کرسکتی ہے ۔ دس ارب سے زیادہ لوگ نہیں آسکتے۔ ہر ایک منٹ میں جتنے بچے پیدا ہو رہے ہیں پوری دنیا میں اس کے نصف لوگ مر رہے ہیں۔ وہاں ریسرچ اس بات پر ہورہی ہے کہ آبادی کس طرح سے کم کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ جو بات کر رہے ہیں اس میں وزن ہے لیکن یہ کیا بات کر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اسلام آباد ائیرپورٹ کا افتتاح آپ نے پہلے کیوں کردیا تھا ۔ آپریشن یہاں تک تو آگیا کہ یہ سارے چہرے بے نقاب ہوگئے، جمہوریت ملک چاہتی ہے ۔ پاکستان کے لوگ جمہوریت چاہتے ہیں۔ مگر یہ کونسی جمہوریت ہے ؟ ایک طرف افغانستان میں بھی طالبان ہیں اور دوسری طرف انگلش بولتی داعش ہے ۔ بات یہ ہے کہ دہشت گردی وہ ہوتی ہے کہ گولیاں مار دیں۔ بم پھٹنے کے پیچھے ایک پروکسی ہوتی ہے۔ برین واش کر کے ادھر بھیج دیا۔ یہ ایک جنگ ہوتی ہے ۔ یہ جنگ ہوتی ہے کہ لوگوں کے ذہن بھٹکا کر لوگوں کو آگے کردیا۔ لوگ لڑ رہے ہیں اور آپ پیچھے بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں۔ دہشت گردی دوسری چیز ہے ۔

مودی نے پاکستان کی رینکینگ اور گرادی ہے ۔ کروڑوں روپیہ اثاثوں کا شو کر رہے ہیں ۔ سارا پیسہ باہر لے گئے ہیں۔ ایک صاحب کے بارے میں بات ہوئی ۔ ان کے پاس اتنا پیسہ ہے اگر ان کی ایک سو دس سال بھی عمر ہو تو روز پانچ لاکھ ڈالر خرچ کریں گے تو ختم ہوں گے۔ اتنی دولت ہے ۔ بات یہ ہے کہ اتنا پیسہ کیا کرنا ہے۔ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ انسان خسارے میں ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ زمانے کو بنا رہا ہے۔ گزرتے ہوئے زمانے کو ۔ اس زمانے کو اللہ گواہ بنا کر کہہ رہا ہے کہ انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے ۔ اور یہ وہ 37 صورتیں ہیں آخر کیں جو مکہ میں نازل ہوئیں تھیں اور یہ چھوٹی چھوٹی صورتیں ہیں لیکن اپنا ایک مضمون رکھتی ہیں۔

اللہ کی پکڑ میں یہ بدمعاشیہ آئی ہوئی ہے ۔ اس لیے آپ دیکھیں جو آدمی ٹی وی پر بیٹھا ہوتا ہے کہہ رہا ہوتا ہے کہ ہم جیتیں گے۔ ان کی شکلیں دیکھیں رنگ اڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی جان نکلی ہوئی ہے ۔ چور اچکے کہاں سے جیتیں گے۔ انہوں نےجیلوں میں جانا ہے سب نے۔ کچھ مارے جائیں گے کچھ بھاگتے ہوئے پکڑے جائیں گے۔ کچھ پکڑ کر واپس لائیں گے۔

سوال: ترکی کے انتخابات کے پاکستان پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ کیا پاکستان میں بھی ترکی کی طرح صدارتی نظام آنا چاہیے؟

ڈاکٹرشاہد مسعود :  میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ترکی پر نظر رکھیں ۔ کردوں کے ساتھ ان کی جنگ چل رہی ہے ۔ اس پارلیمانی نظام میں آپ نے آٹو کریکٹ کرنا ہے تو کرکے دکھائیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ یہ سیاپا ان لوگون نے پورے ملک میں مچادیا ہے ۔ اثاثے غلط ہیں اور آراوز اس کو او کے کرتے جار ہے ہیں۔ ایک صاحب نے آر او کو گھر بلایا ہوا تھا ۔ گورنرز اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ بچے باپ سے زیادہ امیر نکل رہے ہیں۔ امیروں کو سارے کے سارے تحفے دیے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کو سائیڈ میں چھوڑ دیا ہے ۔ سب سے اہم چیز تھی ملک کا امن و امان ۔ پڑوس میں آپ کے آگ لگی ہوئی ہے ۔ طالبان ان کے سامنے کم تھے جو داعش بن بنا کر آرہی ہے باہر سے ہیلی کاپٹرز میں آرہی ہے ۔

بات یہ ہے کہ جمہوریت بھی چلانی ہے ۔ یہ جو سیاپا ہے اس کو کس طرح سے لپیٹ کر کوڑے دان میں ڈال کر کس طرح لیڈر شپ نکل کر آگے آئی گی الیکشن میں تو یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ اس انتشار کے اندر اس الیکشن کو نہ تو کوئی قبول کرے گا ۔ پارٹیاں بھی قبول نہیں کریں گی ، لوگ بھی قبول نہیں کریں گے ۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ چور کیسے کلئیر ہوگیا۔ اس میں سے وہ آگے جا کر وقت کے ساتھ ہوگا۔

اب بدمعاشیہ بھی سب کے سامنے آگئی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو الیکشن کی طرف کس طرح لیکر جاتی ہیں سیاسی جماعتیں۔ اگر انہوں نے اس انتشار کو بڑھا یا ، ان کا خیال ہے کہ ہم سب ملکر اتنا ہنگامہ کریں گے ۔ یہ جمہوریت کو ادھر ادھر نہ ہونے دیں۔ یہ الیکشن اپنے وقت پر کریں لیکن گند نہ کریں کہ لوگوں کی چیخیں نکل جائیں اور وہ یہ نہ کہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ یہ کیسے آگیا؟ تیس لاکھ روپے کا گھر ، تحفے میں گھوڑے ۔ اونٹ ، ہاتھی ، مطلب کتا محترمہ تحفے میں دیکر گئی ہوں گی دو سال کا ۔ انتخاب اور انتشار ساتھ ساتھ ۔ مسلم لیگ کے لوگوں سے پیپلزپارٹی کے لوگوں سے ۔ آئیڈیا یہی ہے کہ عمران خان سادہ اکثریت نہ لے پائیں۔ ان کے ساتھ موجود ایسے کئی لوگ ہیں جو اپنی پارٹیوں کی قیادت سے رابطے میں ہیں وہ آگے عمران خان کو الجھائیں گے مختلف ایشوز میں۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ عوام کو قبول نہیں ہوگا۔ عوام کا شعور اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ پاکستان جمہوریت چاہتا ہے ۔ لیکن یہ جو جمہوریت ہے یہ تو 2007 اور اس کے بعد ہونے والے الیکشن سے بدتر الیکشن ہو رہا ہے۔ لیکن اس میں بیان حلفیہ ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ جتنے شیر ہیں ، یہ اچکے بدمعاشیہ اتنے چوڑے ہوگئے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ جو کرنا ہے کرلو۔ ڈالو کیا ہوگا۔

سوال: کیا انتخابات سے پہلے بہت سی نااہلیاں متوقع ہیں؟

ڈاکٹرشاہد مسعود :  انتخابات سے پہلے بھی ہوئیں بعد میں بھی ہوتی رہیں گی ۔ یہ پراسس ہے ۔ یہ احتساب کا عمل ہے ۔ الیکشن تو بیچ میں آگیا ہے۔ احتساب کا عمل پہلے سے چل رہا ہے۔ اب انتخاب آگیا ۔ کچھ لوگ کراس کر جائیں گے آگے جاکر پکڑے جائیں گے۔ کچھ پہلے پکڑیں جائیں گے کچھ درمیان میں پکڑے جائیں گے۔ اور ہوگا سب کا ۔ یہ برساں برس کا گند ہے ۔ بدمعاشیہ گند ہے اس نے سیاست کو بدنام کردیا ہے۔ پہلے بات چلتی تھی کہ سب کچھ چلتا ہے ادھر ۔ پہلی دفعہ پاکستان اس مرحلے پر آگیا ہے کہ سب کچھ ایسے نہیں چلتا ۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ لیڈر ہمیں صاف آدمی چاہیے ۔ پیسہ واپس دو اور پیسہ واپس لیکر آؤ۔ بیان حلفی، توہین عدالت بھی لگے گی اور نااہل بھی ہوں گے اور یہ ڈرے ہوئے ہیں اور پچھلے الیکشن کی بنسبت اس دفعہ لوگ کم ہیں اور لوگوں کو گن پوائنٹ پر کہا جا رہا ہے کہ ٹکٹ لینے جا۔ آنے والے دنوں میں یہ عمل تیز ہوجائے گا۔