پاکستان کے اردگرد خطرات منڈلا رہے ہیں، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ انتخابات کے ساتھ احتساب کا عمل بھی چلتا رہے گا ۔ پاکستان کے اردگرد خطرات منڈلا رہے ہیں جس کا ذکر چوہدری نثار صاحب نے بھی کیاہے۔

سوال: چوہدری نثار نے پریس کانفرنس کی اور بہت سی باتیں واضح کردیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہاں میں ہاں ملانا وفاداری نہیں ہوتی ۔  ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پارٹی کو نقصان پہنچانے کا وہ سوچ نہیں سکتے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: چوہدری نثار صاحب انتہائی قابل احترام ہیں۔ اور اگر طویل بے مقصد کانفرنسز کے اوپر نااہلیت ہونی ہوتی تو میرے خیال سے چوہدری صاحب پچاس، ساٹھ ، سو مرتبہ نا اہل ہو چکے ہوتے۔ ان کی پریس کانفرنس شروع  ہوتی ہے  بسم اللہ کے ساتھ ہی میڈیا کو کوستے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ان کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ اچانک ان کی نظر ٹی وی پر پڑی اور ان کو پتہ چلا ۔ پھر وہ ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ کہ میں بہت دن تک سوچتا رہا کہ ٹی وی پر یہ کیا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ چوہدری نثار سارا دن کیا کرتے ہیں؟ موبائل ان کے پاس ہے نہیں۔ پریس کانفرنس میں میڈیا کو کوسنا ضروری ہوتا ہے انہوں نے ۔

ایک بات انہوں نے کہی مجھے اہم لگی کہ ۔ انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ بتا رہا ہوں کہ پاکستان کے اردگرد خطرات ہیں۔ اور معاشی حوالے سے انہوں نے بات کی اور اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ میں پھر یاد دلا رہا ہوں کہ اس وقت جب میں وزیر خارجہ تھا تو یقینا میاں نواز شریف صاحب کو یاد ہوگا کہ نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس کے اندر پاکستان کے لیے ایک بڑے خطرے کا ذکر ہوا تھا اور مجھے امید ہے کہ نگراں وزیر اعظم کو پتہ ہوگا لیکن انہوں نے کہا کہ موجودہ آرمی چیف کو  یقینا اس بات کا علم ہوگا۔ وہ کیا خطرہ ہے؟ چوہدری صاحب اس کی بات نہیں کرتے ۔ وہ کیا بات تھی جو ڈسکس ہوئی۔ اس پروگرام میں پہلے بلیک سوائن کا ذکر کر چکا ہو۔ کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے خطے میں جس کو پاکستان سے جوڑ دیا جائے ۔ پاکستان کے اندر پیش آسکتا ہے ۔ دنیا میں کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جس کو پاکستان سے جوڑ دیا جائے۔ اب وہ کیا بات ہے؟

عمران خان کوبھی اس وقت خطرات ہیں اور میاں نواز شریف صاحب کو بھی۔ میاں نواز شریف صاحب یہاں پر ڈیرہ میں ایک افطار پارٹی میں جاتے جاتے رک گئے تھے۔ عمران خان نے لاہور کا دورہ کینسل کردیا تھا وہ لاہور سے اسلام آباد آگئے تھے۔ بات یہ ہے کہ لیڈر شپ کو خطرات ہیں۔ اور ایسے موقع پر جب حکومت نہ ہو ۔ جنگ جاری ہو نیشنل ایکشن پلان ہو۔ ایک عجیب صورتحال ، موجودہ جو اس وقت پاکستان کا ڈھانچہ ہے۔ انتظامی ڈھانچہ اس میں ایک عجیب صوتحال ہوجاتی ہے ۔ 2007 میں پراپر انٹیلی جنس تھی کہ محترمہ کے اوپر اٹیک ہوگا۔ محترمہ آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں میں جاؤں گی ۔ کارساز میں دھماکہ ہوا کراچی میں اس میں بے شمار پیپلزپارٹی کے کارکنان شہید ہوئے۔ اس کے بعد انٹیلی جنس آئی اور 27 تاریخ کو یہ واقعہ ہوا ۔ ان چیزوں کو ذہن میں رکھیں کہ ملک میں انتشار ہے۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران کیا کررہے ہیں۔ کوئی ارب پتی ہے ۔ ایک عجیب تماشہ ہے۔

ساتھ ساتھ جو علاقے اور خطے کی بات ہے اس کو ذہن میں رکھیں۔ عمران خان کو پراپر تھیریٹس ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جانا بھی ہے۔ عمران کو میانوالی سے اپنی انتخابی مہم چلانی ہے۔ میاں صاحب ، بلاول ، زرداری صاحب سب کو ہیں۔ ساری پولیٹیکل لیڈرشپ کو ہے۔ عمران کا جو اسٹانٹ ہے افغانستان کے حوالے سے ، یا ڈرونز پر ، عمران کا جو پوائنٹ آف ویو ہے وہ دنیا کی بڑی جو اسٹیبلشمنٹ ہے ان کو قبول نہیں ہے ۔ اور ان کو اس بات اندازہ ہے کہ عمران خان اگر آتے ہیں تو وہ آکر ایک نئی بات کریں گے۔ اور اس کے بعد وہ معاملہ نہیں ہوگا کہ میرے ساتھ آپ ڈیل کر لیں۔

اصل بات یہ ہے کہ خطے کے اندر کا سارا معاملہ ہے ۔ امریکا نے پھر کہا ہے کہ ڈومور۔ وہ ڈومور کیا ناصرالمک صاحب کو کہہ رہے ہیں؟ اس وقت میں جب ملک میں انتشار کی کیفیت ہے اور وہاں پر افغانستان میں سیز فائر ہوتا ہے اور اس دوران افغان آرمی اور طالبان ملتے ہیں اور بیچ میں انگلش بولتی ہیلی کاپٹر میں آئی داعش جو ہے وہ بم دھماکے کردیتی ہے ۔ ملا فضل اللہ کو مارا ہے یا نہیں مارا یہ مجھے نہیں پتہ۔ میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرسکتا مجھے نہیں پتہ کیسے تصدیق ہوئی اس کے مارے جانے کی۔ میں اس بارے میں خاموش ہوں کیوں کہ جس علاقے میں مارا گیا ہے وہ افغان آرمی کےکنٹرول میں علاقہ ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مارا گیا ہو ، ہوسکتا ہے نہیں مارا گیا ہو ، مجھے نہیں پتہ۔ 2005 میں سوات میں اور ان علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا تھا ۔

پی سی پشاور میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاں آگئے تھے بیپر کے لیے تو میں نے چھوٹی سی ریکارڈینگ کرائی کہ آپ بڑا اچھا کام کررہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ وہ ملا فضل اللہ کے ریڈیو پر چل رہا ہے ۔ اور مجھے کور ہیڈ کوارٹر سے فوجی کہہ رہے ہیں کہ آپ کا تو بیان چل رہا ہے۔ میں نہ کہا کہ اس کو رکوائیں، مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا ۔

میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آخر وہ کیا چیز ہے کہ وہ وہاں سے ڈومور کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ انتشار بڑھ رہا ہے ہر روز۔ فاٹا میں آج ایک مظاہرہ ہو اہے ۔ وہاں سے بہت سارے لوگ قبائل کے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے قومی اسمبلی کا الیکشن آپ کرا رہے ہیں تو صوبائی کا کیوں نہیں کر ارہے ۔ یہ الیکشن ایک ایسے ماحول میں ہورہا ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے ۔

کوئی سرپیر نہیں ہے اور ایک آدمی کو اٹھا کر آپ نے ادھر سے اٹھا کر ادھر بیٹھا دیا ہے ۔ سیاسی بحران بڑھ رہا ہے ۔ کوئی انتخابی مہم نہیں ہے ۔ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کے حوالے سے دو خبریں ہیں کہ ایک تو ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے ۔ دوسری کہ حسن نواز سنسنی پھیلا گئے کہ وہ غیر معینہ مدت تک کے لیے وینٹیلیٹر پر ہیں۔ میں شریف فیملی سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ ، بیگم کلثوم نواز صاحبہ کے حوالے سے ایک ان کا ہیلتھ بولیٹن آپ جاری کردیں اور لوگوں کو بتادیں کیوں کہ اتنی افواہیں اور فضول باتیں ہو رہی ہیں۔  طویل المدت وینٹیلیٹر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ حلق کے اندر سے ٹیوب ڈالتے ہیں اور اس کے اپنے پرابلم ہیں۔ یہ کینسر باڈی کے اندر پھیلا ہوا ہے ۔ ایک ہیلتھ بولیٹن جاری کریں ، لوگوں کو پتہ چلے کہ کیا معاملہ ہے۔

ساتھ ہی ایک عجیب بات ہورہی ہے کہ جو ٹکٹس ہیں میاں صاحب کے واپسی کے تو سیٹ آج بک تھی وہ ختم ہوگئی پھر ایک اتوار کی ہے وہ ختم ہوگئی ۔ اگر طویل المدت ہی رکھا ہوا ہے تو سیٹ میاں صاحب کی اور باقی فیملی کے ناموں کی تبدیل ہورہی ہیں۔ ابھی تک بیگم کلثوم نواز کے لیے کوئی دعا نہیں ہوئی سوائے ٹوئٹر کے۔  آپ بتائیں تو طبیعت کیا ہے ؟

عمران خان قبول نہیں ہے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو اور ان کا بیانیہ قبول نہیں ہے ۔ پیپلز پارٹی کی اپنی سیٹیں ہیں ۔ پیپلز پارٹی کو ڈاؤن بھی کردیں تو بھی اس کی سیٹیں موجود ہیں۔ سندھ میں جی ڈی اے اٹھ رہی ہے اوپر اور اس ہفتے واضح ہوگا کہ جی ڈی اے کتنا کھل کر سامنے آتی ہے۔ میری اتفاق سے پیر صاحب پگارا سے ملاقات ہوگئی کل ان کے ساتھ غوث علی شاہ صاحب بھی تھے۔ اب بات یہ ہے کہ جی ڈی اے کے رہنما کہہ رہ ےہیں کہ ہم 25 تاریخ تک ہم اپنی واضح حکمت عملی بتائیں گے کہ ہم نے کیا کرنا ہے ۔ جی ڈی اے کھلے گی اور سامنے آئی گی تو پتہ چلے گا کہ ان کے پاس کیا ہے ۔ کیا شیرازی برادارن بھی اس طرف جا رہے ہیں ، اندرون سندھ میں کیا ہوگا۔ لیکن یہ ان کو ضرور ہے کہ اتنی سیٹیں ہم پیپلزپارٹی کی کم کردیں گے۔ پیپلزپارٹی کہہ رہی ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کل چیف جسٹس صاحب کی لاڑکانہ آمد ہے اور وہاں پر کوئی احتجاج وغیرہ بھی پلان کردیاہے ۔

سوال: ذوالفقار مرزا صاحب کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : 25 کے بعد سارا سلسلہ بنے گا۔ لیکن اگر آپ موجودہ صورتحال دیکھیں تو ۔ فرض کریں اگر عمران خان کی حکومت بنتی ہے ۔ عمران خان کی حکومت کیا 2/3 میجیورٹی لیکر جائے گی؟ یا نہیں لیکر جائے گی، کیوں کہ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو ادھر سے ادھر آئے ہیں اور ادھر بھی رابطے میں ہیں اور کچھ نے نا اہل ہونا ہے ۔ عمران خان اگر اکثریت لیکر جاتے ہیں مثال کے طور پر 70 سیٹیں لے گئے ، 100 سیٹیں لے گئے عمران خان ، تو پھر آپ کو ضرورت ہے کسی اتحادی کی ۔ یا آزاد اراکین کی جو ہوا میں رہیں گے۔ عمران خان سیٹیں لے گئے تو اس صورت میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن پھر اپوزیشن میں ساتھ بیٹھیں گے دونوں۔ اور اگر اپوزیشن میں بیٹھتے ہیں ۔ تو ان میں لیڈر آف دی اپوزیشن کون ہوگا؟ اگر زرداری صاحب پہنچتے ہیں تو کیا زرداری صاحب ہوں گے؟ بلاول ہوں گے؟ یا مریم نواز ہوں گی؟

سوال: کیا مسلم لیگ (ن) اس وقت بھی اتنی طاقتور ہے جو بغاوت کا سلسلہ چل رہا ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: مسلم لیگ (ن) ختم تھوڑی ہوگئی ہے ۔ سیٹیں کم بھی ہوگئیں تو اپوزیشن تو کریں گے ۔ فرض کریں عمران خان وزیر اعظم ہیں تو اپوزیشن لیڈر مریم نواز، آصف زرداری یا بلاول ہوں گے ۔ اور اگر پیپلزپارٹی سوئپ کرتی ہے تو کیا مریم نواز اور عمران خان اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔ یعنی ایک بے ڈھنگی ملکی سیاست کھڑی ہونے جارہی ہے ۔ اور اگر مریم نواز آجاتی ہیں ادھر لیڈر آف دی اپوزیشن زرداری یا بلاول صاحب ہوں گے اور ساتھ ان کے عمران ۔ تین عمل ہیں ، الیکشن ، احتساب اور یہ نیشنل ایکشن پلان جس کا بیڑہ غرق ہوگیاہے۔ اور ساتھ اس کے بیان حلفیہ  ۔

بہت ساری شخصیات ہیں میں ان کی عقل پر ماتم کروں کیا کروں انہوں نے جھوٹ بولا ، انہوں نے چالاکی کی تھی کہ کالم میں سے وہ حصہ نکال لیا تھا کہ جس میں مارکیٹ ریٹ جس میں عمارت جو آج دس کروڑ کی ہے لیکن اس کو بیس سال پہلے خریدا گیا تھا پانچ لاکھ میں یا دس لاکھ میں آپ اس کی جو بھی قیمت لکھ دیں کوئی چیک نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے خط لکھا ان سب لوگوں کو انہوں نے کہا کہ آپ ان کی پرائز تو بتادیں۔ ان میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر سپریم کورٹ نے بیان حلفیہ جمع کرایا ۔ بیان حلفیہ کا مطلب ہے کہ توہین عدالت اور جیل ۔ اور انہوں نے اگر اس میں ایک روپیہ بھی لکھا ہے ۔ تو اب وہ ایک روپیہ کہا سے آیا ؟ بار ثبوت کے بتائیں تو کہ ایک روپیہ کہا سے آیا ؟ اور انہوں نے تسلیم کرلیا ۔ نواز شریف کے ساتھ جو ہوا تھا کہ ان کی منی ٹریل ڈھونڈنی پڑی تھی ۔

یہاں آپ نےخود کہہ دیا کہ ہاں ہمارے پاس ہے ۔ سب نے بیان حلفیہ دیکر مان لیا کہ ہمارے پاس یہ کچھ ہے ۔ اب یہ قصہ نہیں ہے کہ آپ منی ٹریل ڈھونڈیں گے ۔ ستائیس سو امیدوار ایسے ہیں پارٹیوں کے سربراہان سمیت جن کے اوپر قتل ، اغوا، منی لانڈرنگ ، تشدد نجی جیلیں اور سنگین جرائم ہیں اور آٹھ سو ارب روپے کا قرضہ انہوں نے معاف کرایا ہے ۔ ان امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ بچ جائیں گے۔ ان کی مات ماری گئی ہے ۔ اب پیپر واپس بھی لیں گے تب بھی بیان حلفیہ تو ہے ۔

سوال: آپ کا یہ کہناہے کہ جیسے ہی انتخابات قریب ہوں گے انتشار بڑھے گا؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: انتشار بڑھ رہا ہے ۔ پیوٹن 7 سال اور رہے گا۔ اردگان کا پورا سسٹم تبدیل ہورہا ہے ، صرف حکومت تبدیل نہیں ہورہی ۔ نظام چینج ہو رہا ہے ۔ پارلیمانی سے صدارتی ہورہا ہے ۔ افغانستان کے اندر لڑائی یہ ہورہی ہے کہ وہاں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں تو انگلش بولتی ہوئی داعش آگئی ہے وہاں۔ اس پوری صورتحال میں اس خطے کو آپ الگ نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے اندر حکومت کیسے بنی تھی ۔ پاکستان کی عوام جمہوریت پسند ہیں تو یہ حکومت آئی کیسے تھی۔ یہ باہر سے آئی تھی ہر ایک کو پتہ ہے کیسے آئی تھی۔ بات یہ ہے اس وقت جو ہے وہ ڈائیلاگ ہوا اور ایک ایونٹ ہوگیا۔

اور ایونٹ کریٹ کسی بھی صورت میں کریٹ ہوسکتا ہے ۔ افتخار چوہدری کو ہٹایا تو بات چلتے چلتے کہاں تک چلی گئی۔ ایونٹ تو ہوجاتا ہے لیکن وہ کوئی اور شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ یہ صورتحال ہے کیوں کہ کوئی نیشنل ایکشن پلان نہیں ہے۔ ایک چور اچکے کو اٹھا کر آپ نے ایک جگہ سے دوسری جگہ بیٹھا دیا ہے ۔ یہ متنازعہ ترین انتخابات ہیں پاکستان کے ، اربوں ، کھربوں روپیہ لگاکر چور اچکے دوبارہ آنے کی تاک میں ہیں ۔ تو انتشار کی طرف ملک بڑھ رہا ہے ساتھ ساتھ انتخاب کی طرف بھی بڑھ رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں کیا معامہ سیٹل ڈاؤن ہوجائے گا۔؟ اس پورے عرصے کی جو سب سے بڑی غلط خبر تھی اور فیک نیوز تھی وہ یہ تھی جس پر آپ کی ڈالر خور مافیا 2002 میں گالیاں دے رہے ڈاکٹر شاہد ۔ وہ کیا فیک نیوز تھی کہ عراق میں کیمیکل ویپن ہیں۔ یہ کیمیائی ہتھیار نکال کر لے آئے تھے اور بش وغیرہ کنوینس تھے کہ واقعی ایسا ہی ہے ۔ ان کی اسٹیبلشمنٹ کا پلان کچھ اور تھا ۔ وہ مان گئے کہ وہاں ویپنز ہیں اور اعلان بھی کردیا۔ بش صاحب اترے اور انہوں نے اعلان بھی کردیا کہ ہم نے عراق فتح کرلیا۔ آپ نے داعش کو وہاں بیٹھانا تھا۔ کہہ رہے ہیں داعش ختم ہوگئی ؟ داعش کی لاشیں دیکھی ہیں آپ نے ؟ داعش فرار ہوگئی؟ کسی اور شکل میں ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ وسائل کی جنگ ہے ۔

یہ سارا وسائل کا کھیل ہے ۔ پاکستان کو چاروں طرف سے پہلے کھوکھلا کیا ہے ۔ اپنے پاپیٹس لاکر بیٹھا دیے ہیں جو کام آپ کے کرتے تھے ، آپ کے نوکر تھے آپ کے پاس جائیدادیں تھیں۔ کمزور تھے ۔ کرپٹ تھے ۔ آپ کے نوکر تھے ، آپ کے ملزم تھے ۔ ان کو آپ نے لاکر بیٹھا دیا بڑی بڑی جگہوں پر۔ اس کے بعد آپ نے یہ کیا کیا کہ ملک کو معاشی طور پر کھوکھلا کردیا۔ اب بھی خوش نہیں ہیں کہ ڈومور۔  اب اس صورتحال میں پاکستان کے اندر اگلی حکومت باہر کی مرضی کے بغیر بننے جارہی ہے۔ ایسا ہورہا ہے کہ باہر سے لوگ کہیں کہ فلاں نے کو بنا  دو؟ برے بھی حالات ہیں اور اس میں اچھائی بھی نکل کر آرہی ہے ۔  میں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان آگے جا رہا ہے ۔ آگے ایسے جارہا ہے کہ اب کسی کے باپ کی ہمت نہیں ہے کہ وہ کہے کہ پاکستان کے اندر یہ وزیر اعظم لگے گا۔

ایک نظام قدرت ہے ظلم سے ظلم کو ختم کرنے والی بات ہے ۔ ایک قوم کے اوپر عذاب کیسے آیا کہ سیلاب آگیا ۔ ، زلزلہ آگیا ، وہ قوم بھی بری تھی ، زلزلہ بھی برا ہے ۔ باہر کے لوگوں نے انویسٹمنٹ کی ہوئیں ہیں۔ یہاں چھوٹا سا پٹاخہ چلتا ہے تو باہر کے اخبارات میں ، باہر کے چینل کیسے چلاتے ہیں۔  وسائل کا کھیل ہے کہ وسائل پر قبضہ کرو۔

دنیا میں اتنے لوگ ہیں جتنے تاریخ میں کبھی نہیں تھے۔ ہر ایک گھنٹے میں پوری دنیا میں پندرہ ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں اور چھ ہزار افراد کا انتقال ہوتا ہے ۔ آبادی بڑھ  رہی ہے ۔ اور اتنے لوگ کبھی بھی نہیں تھے۔ اور 7 اعشاریہ 6 ارب ہے اور 10 ارب سے زیادہ آبادی ہو نہیں سکتی ۔ یہ دھرتی برداشت نہیں کرسکتی ۔ پانی ، فضلاء یہ ماحولیاتی تبدیلی ۔ ایسی صورتحال میں ریاستیں مضبوط لیڈر شپ چاہ رہی ہیں۔ آپ کے ہاں یہ انتخاب متنازعہ ترین ، کرپٹ ترین سیٹ اپ کے اندر ۔ 2013 کو بھی شاید لوگ کہیں کہ واہ واہ کیا الیکشن ہوئے تھے ۔ اس سے زیادہ انتشار پھیلا کر یہ لوگ ہمارے ملک کی جو بدمعاشیہ ہے انتخابات کی طرف جا رہا ہے ۔ ان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ باہر کی قوتیں ہیں۔ کونسا واقعہ جس کا ذکر چوہدری نثار صاحب بار بار کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں  بتا رہے میاں نواز شریف صاحب آخر سیٹ اپ کیسے بنے گا؟ کیا الیکشن ہوگا؟ الیکشن کے بعد حکومت سازی کے دن بھی ہوتے ہیں۔ انتخابی مہم کیسے چلے گی۔

ملا فضل اللہ کو اگر انہوں نے مارا ہے تو وہ کیا چاہ رہے تھے ۔ کیا کوئی کنفرمیشن ہے ہمارے پاس یا باہر کے ملا فضل اللہ کو ماراہے ۔ اور جواب میں وہ کیا چاہ رہے ہیں اور اس سیٹ اپ میں وہ کیا چاہ رہے ہیں۔ یا تو نئی حکومت کو کہیں وہ ۔ اگر عمران خان جیت جائیں ، مریم نواز جیت جائیں ۔ لیکن اس حکومت سے کیوں کہہ رہے ہیں اس دور میں وہ کیا چاہ رہے ہیں۔ ابھی وہ فوری طور پر کیا چاہ رہے ہیں ، ڈومور کس سے  ؟

ڈرے سہمے بیٹھیں ہیں سب کہہ رہے کہ اگلی حکومت ہماری ہوگی ۔ سب کے چہروں سے نقاب اتر رہے ہیں۔  اتنی ارب کی جائیدادیں کہاں سے آئیں ؟

سوال : انتشار سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : انتشار سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ، یہ آپ کے بچھائے ہوئے کانٹیں ہیں۔ سیاسی پولیس بنادی آپ نے، آپ لڑتے رہے کہ میرا ڈی ایس پی کون ہوگا۔ وہ نشے دھت پڑے رہے ۔

شہباز شریف آئے زعیم قادری کو منانے ۔ انہوں نے ان کو ہی تو کہا کہ بوٹ پالش نہیں کروں گا ۔ اور سارے شک کر رہے ہیں خواجہ سعد رفیق پر کہ وہ جاوید ہاشمی کو منانے جاتے ہیں وہ چلے جاتے ہیں ۔ با ت شروع ہوگئی ہے کہ سعد رفیق اور رانا مشہور کس کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ وہ منانے جاتے ہیں یا گلے ملکر کہتے ہیں کہ جا یار۔ باقاعدہ شک ہورہا ہے سعد رفیق صاحب پر ۔ چوہدری نثار صاحب کیا کہہ رہے ہیں کہ میرا انٹرویو کریں گے ۔