انتشار اور خلفشار کی طرف ملک جا رہا ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ انتخابات کے ساتھ احتساب کا عمل بھی چلتا رہے گا ۔ انتشار اور خلفشار کی طرف ملک جا رہا ہے ۔

سوال: تحریک انصاف ، ایم ایم اے اور اے این پی نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا لیکن اس مرحلے پر بڑی جماعتوں میں ٹکٹوں پر اختلافات موجود ہیں۔ الیکشن کا معاملہ کس طرف جا رہا ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : انتشار اور خلفشار کی طرف ملک جا رہا ہے ۔ اور یہ الفاظ میں کافی عرصے سے استعمال کر رہا ہو ۔ الیکشن مکمل ایریلیونٹ ہے ۔ ملک آگے جارہا ہے ۔ شگاگو کے گینگنسٹر کے جوا خانے تھے ، قتل وہ کرواتا تھا۔ نظام تھا۔ اٹلی کا سسلین مافیا وہی سے نکلا ۔ طاقت اس کے پاس تھی اور کمال کی بات یہ تھی کہ اس کا بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔ اور پھر وہ جیل کے اندر مر گیا۔

بیان حلفی میں دو کالم ہے اس میں سے ایک میں ہے کہ جب آپ نے جائیداد خریدی تو اس کی قیمت تھی اور اب موجودہ قیمت کیا ہے ۔ انہوں نے اور آر اوز نے موجودہ قیمت والا کالم چھوڑ دیا۔ اور جو دوسرا کالم تھا وہ خالی چھوڑ دیا۔ پرانی قیمتیں لکھ کر دیا اور وہ قبول ہوگیا۔  29 تاریخ کے بعد ایف بی آر اور الیکشن ٹریبیونل اس پر ایکشن لیں گے۔ اور آر اوز پر بھی کارروائی شروع ہوگی۔ بدمعاشیہ نے اپنے ڈیتھ وارنٹ سائن کردیے ہیں ۔ ساری بدمعاشیہ نے ۔ بدمعاشیہ ذہن میں رکھے کہ ایک حکومت میں بیٹھا ہوا وزیر اعظم میاں نواز شریف جس کی ساری وازرتیں سارے ادارے سب کچھ اس کے ماتحت ہے وہ اگر ایک منٹ میں دبڑ دوس ہوسکتے ہیں ۔ ان کی پارٹی بھی وزیر بھی بیٹھے ہوئے ہیں چیخ پکار ہے تو یہ بدمعاشیہ تو ابھی آئی نہیں ہے پسے گی ساری۔

یہ الیکشن ایسے ہورہے جیسے ایک تقریب ہوتی ہے شادی کی ۔ گھوڑے پر دولہا آرہا تھا اور گھوڑا دوسری طرف بھاگ گیا۔ شادی ہورہی ہے دولہاں نکل کر بھاگ گیا۔ اس کےدوست گاڑیوں میں پیچھے نکلے کے دولہا کو پکڑ کر لائیں۔ ان کو اوور اسپیڈ پر موٹروے پر پکڑلیا گیا۔ موٹروے پولیس اب دیکھ رہی ہے کہ اوور اسپیڈ کاکوئی قانون گھوڑے پر لاگو نہیں ہوتا ہے ۔ تو وہ ادھر پکڑے گئے۔ قاضی صاحب بھی آگئے اور مدرسے کے بچے بھی ساتھ لے آئے وہ کھانا کھا گئے، شادی ہورہی ہے ۔ شادی اور انتخاب ہورہے ہیں جیسے یہ شادی کی تقریب ہورہی ہے۔

اب یہ بیان حلفیاں اپنے اوپر ہی ریفرنس فائل کردیے ۔ اپنے اوپر ہی ریفرنس نیب کی طرح فائل کرکے آگے دے دیں۔ معاملات سپریم کورٹ میں اٹھیں گے۔ کہیں پر کوئی لڑائی ہو لیکن جب سامنے والے سے جھگڑا ہوتا ہے تو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ادھر ٹکٹ جاری ہوگئے کیوں کہ مریم نواز صاحبہ کا گروپ حاوی آگیا، چوہدری نثار کے خلاف ٹکٹ جاری ہوگئے وہ آزاد گروپ بن گیا۔

سوال: چوہدری نثار صاحب نے کہا ہے کہ وہ بتائیں گے آنے والے دنوں میں کہ وہ آزاد کیوں ہوئے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ قید تھے پہلے ۔ پہلے یہ الیکشن قید ہوکر لڑتے رہے تھے؟ پہلے قیدی تھے اب آزاد ہوکر لڑیں گے۔ چوہدری شجاعت نے آج کہا ہے کہ موجودہ سیکریٹری الیکشن کا بیان آیا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ بین الاقوامی قوتیں پاکستان کے انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ سازش تیار کی جارہی ہے کہ اس الیکشن پر کوئی خوفناک معاملہ پیش آجائے اور میں تیار ہو ان کیمرہ بریفنگ پر خاموشی سے سینیٹ کے اراکین کو وہ سازش بتانے کےلیے کہ کیا ہونے جا رہا ہے الیکشن کے دوران پاکستان میں۔ چوہدری شجاعت نے سوال اٹھایا وہ کہہ رہے ہیں کہ سو موٹو لیں عدالت یا آرمی چیف یا بتایا جائے قوم کو ۔ اس بات کو ملائیں اس بات سے جو چوہدری نثار کہہ رہے ہیں۔  وہ بتاتے کیوں نہیں ہیں چوہدری نثار صاحب کے وہ کونسا خطرہ تھا۔ اب تو آزاد ہوگئے ہیں۔ اب وہ کسی دن کا انتظار کر رہے ہیں جو ایک میٹنگ میں ڈسکس ہوا جس کا موجودہ اور سابقہ آرمی چیف بھی جانتے ہیں۔

نگراں سیٹ اپ کہہ رہاہے کہ ہمارا کوئی مینڈیٹ ہی نہیں ہے ۔ مینڈیٹ نہیں ہے تو بیٹھے کیوں ہو؟ گھر جاؤ اپنے۔ کوئی کام دھندہ نہیں کرنا تو گھر جاؤ۔ اتنے بڑے بڑے کیبنیٹ بیٹھی ہوئی ہے صوبے میں بھی اور مرکز میں بھی ۔ یہ سب کے سب پھنس گئے ہیں ملک کو جانا ہے آگے ۔ نقاب اتر کر ان کے چہرے سامنے آنا ضروری تھے۔ بدمعاشیہ دیمک ہے ۔ اب یہ کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔ اپنےحلقوں میں جا رہے ہیں گالیاں پڑ رہی ہیں۔ اس میں ایک اہم بات کہ 1 سو 72 سیٹیں چاہیں آپ کو حکومت بنانے کے لیے ۔ کوئی الائنس نہیں بن رہا آپس میں ٹوٹ پھوٹ ہے ۔ نوازشریف پوری حکومت دینے کو تیار ہوجائیں گے پیپلز پارٹی کو اگر وہ تین بل ختم ہوجائیں۔ احتساب والا ،فوج والا اور عدالتوں والا۔ تین بل تیار تھے جو پاس ہوتے ہوتے رہ گئے۔

سوال: کیا یہ الیکشن پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ متنازعہ ہوسکتا ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : یہ متنازعہ ترین ہے ۔ اس کا ملک کے مسائل سے کیا تعلق ہے؟ ۔ میں آج پڑھ رہا تھا کہ ایک سو پانچ روپے کا ڈالر تھا دسمبر میں اس وقت ہوگیا ہے ایک سو 24 ایک 25 اور اگلے چند ہفتوں میں ہوجائے گا 135 کا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چھیاسٹھ ہزار روپے کا قرضہ ہر پاکستانی پر بڑھ گیا ہے خاموشی سے۔ کیوں کہ قرضہ چکانا ہے اس کے لیے 26 ارب ڈالر چاہیں۔ آپ آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے وہ کہے گا مزید روپے کو نیچے کرو۔ اس کا اثر یہ ہو رہا ہے کہ ہر خاندان کے اوپر قرضہ بھی بڑھ رہا ہے ۔ تنخواہیں نہیں بڑھ  رہی قیمتیں چیزوں کی بڑھ رہیں ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہو رہا ہے اس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان منی لانڈرنگ ختم کرے سخت قوانین بنائے۔ ساتھ یہ رپورٹ جارہی ہے کہ پچھلے ایک سال میں 15 ارب ڈالر بینکو ں کے ذریعے باہر گئے ہیں۔ سرکاری رپورٹ ہے ۔ اس پر وہ گرے لسٹ پر ڈال رہے ہیں۔  ان سے کہو کہ آپ کچھ کرو تو کہتے ہمارا تو مینڈیٹ نہیں ہے،۔ پاکستان کے مسائل میں یہ الیکشن کیوں ہو رہے ہیں۔ کوئی مقصد ہوتا ہے ۔

ایف بی آرنے کہا ہے کہ جیسے ہی 29 تاریخ کو ختم ہوگی تو ہم اپنے چھان بین شروع کردیں گے ۔ سارے کے سارے ہاتھ میں آگئے ۔ اور وہاں سے نکل گئے تو بھی سپریم کورٹ ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل وہ کہہ رہا ہے کہ بہت بڑی سلطنت کا چھوٹا سا حصہ ہے ۔ اور کہہ رہا ہے کہ برطانوی حکومت نے جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کیا ہے میاں نواز شریف کی بہت ساری پراپرٹی جس کا چھوٹا ساحصہ سامنے آیا تھا ۔ 3 کروڑ 30 لاکھ پاونڈ کے مالک ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ جو آیا ہے یہ ایک چھوٹا ساحصہ ہے۔

بیگم کلثوم وینٹی لیٹر پر ہیں اصل صورتحال مجھے نہیں پتہ کیا ہے ۔ ان کو سنگین بیماری ہے ۔ اس میں مریض رسپانڈ کرتا ہے کبھی کبھی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب کو ملک واپس آنا ہے اور مہم چلانی ہے ۔ آج متحدہ مجلس عمل نے بھی شروع کردی ہے ۔ لیکن آج کوئی سرپیر ہی نہیں انتخاب کا ۔ اس ملک کا سے بڑا مسئلہ کیا ہے کہ آپ معاشی طور پر دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ اسحاق بھاگ گیا ملک سے میں کہتا تھا کہ یہ معاشی دہشت گرد ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے جہاز میں بھاگایا ۔ یہ سہولت کار ہے ان کے ۔

سوال : جو کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں ان پر بھی اعتراضات اٹھ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : بیان حلفیہ ان کا پھند ابن گیا ہے۔ لوگوں میں شعور آگیا ہے کہ ان کے نعروں میں نہیں آنا۔ کونسی جمہوریت ؟ کانڈیلا رائس اتنی ہمدرد کہ وہ پاکستان میں جمہوریت لائیں تھیں۔ جارج بش ان میں پاکستان کی عوام کے لیے کتنا درد تھا جو این آر او  کرایا پاکستان کی عوام کے لیے ہی کروایا ۔ پاکستان ایک معجزہ ہے کہ جو مردود قسم کی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے اس سے پاکستان بچ کر نکل گیا۔ شیعہ سنی جھگڑا یہاں نہیں ہوا۔ مسالک کا جھگڑا، پھر انھوں بلوچی ، سندھی ، کا جھگڑا چاہا وہ بھی  نہیں ہوا ۔ انھوں نے اربوں روپے لاگا دیا۔

صوفی کونسلر بنا رہا ہے امریکا پاکستان میں جہاں ناچ گانا ہورہا ہے ۔ جو کچھ ہو اہے پچھلے کئی سالوں میں پاکستان ایک معجزہ ہے ۔ بڑی بڑی سلطنتیں اڑ گئیں۔ مشرق وسطی دیکھ لیں بربادی وہ کھڑے نہیں ہو پارہے ۔ یہاں جمہوریت کا نام لیکر بدمعاشیہ آگئی اور اب لوگوں میں گھس رہے ہیں تو لوگ جوتے مار رہے ہیں۔ فاٹا کا ایشو آیا ہے  ۔ جنرل حبیب صاحب کے صاحب زادے اس میں باقی بھی قبائلی عمائدین اور جنوبی پنجاب سے لوگ وہ تحریک نوجوان پاکستان ۔ وہ یہ کہہ رہ ہیں کہ آپ نے فاٹا کے ساتھ انضمام کردیا۔ تو قومی اسمبلی کا الیکشن آپ کرا رہے ہیں صوبائی کا کیوں نہیں کرا رہے ۔ 25 جولائی کو آپ ملتان کا پنجاب کا چکر لگائیں دیکھیں کیا درجہ حرارت ہوگا وہاں کا۔ یہ کیسے ہورہا ہے ہماری بات سنیں وہ دھرنا دیکر بیٹھ گئے ہیں۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ فضل الرحمن نے کسی پلاٹ پر قبضہ کیا تھا ۔ تو ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھاکہ یہ آدمی کسی عوامی عہدے پر نہیں رہ سکتا ہے ۔ کل ان کی پٹیشن لگی ہوئی ہے  ۔