ملک کا خزانہ ختم ہونے کے قریب، ہر شخص 25 فیصد غریب

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں انکشاف کیا ہے کہ 60 روز میں ملکی خزانہ ختم ہوجائے گا اور اب تک ہر شخص 25 فیصد غریب ہوگیا ہے ۔

 سوال: نگراں وزیر اعظم سے آرمی چیف نے ملاقات کی اور وزیراعظم ناصرالملک صاحب کا کہنا ہے کہ جو مینڈیٹ ملا ہے اس کو وہ پورا کریں گے۔ کیا آرمی چیف نے ان کو کوئی پیغام دیا؟

ڈاکٹرشاہد مسعود: مجھے علم نہیں کہ ناصرالملک کو کونسا مینڈیٹ ملا ہے۔ کیا کرنا ہے انہوں نے مجھے حقیقت میں معلوم نہیں ہے۔ کہ وہ کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ جو ملک میں منی لانڈرنگ ہورہی ہے ۔ ائیرپورٹ پر کسی کو کہہ دیں۔ مجھے نہیں معلوم کے ان کا کیا کام ہے ۔ انتہائی قابل احترام ہیں لیکن وہ بس ہیں۔ ملاقات میں کیا ہوا مجھے علم نہیں ہے اور نہ میں اس میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ میں ایک بات سوچ رہا ہو کہ بدمعاشیہ اور ریاست یہ اس کا آخری راؤنڈ ہے۔ ریاست نے آگے جانا ہے اور بدمعاشیہ پوری جان لگا رہی کہ آخری راؤنڈ میں جیت جائے گا۔ قبر ایک ہے اور مردے دو ہیں ۔

ضیاءالحق کے قریبی ایک جنرل نے انٹریو دیا تھا جس میں کہا تھا کہ ضیا الحق صاحب کا ارادہ نہیں تھا بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا لیکن جب بھٹو صاحب کے بڑے جلسے شروع ہوئے وہ نکلے ضمانت پر تو انہوں نے مری کے کسی ریسٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ اگر میں الیکشن جیت گیا تو اس کے مونچھوں کے تسمے بناؤں گا۔ اس کے اوپر ضیا الحق صاحب کو رپورٹ ہوئی تو اس پر انہوں نے کہا کہ قبر 1 ہے اور  مردے 2 ہیں۔

ایک عجب بات دیکھیں جو میں نے کل بھی کی تھی کہ ملک کا خزانہ خالی ہونے والا ہے 60 دنوں کے اندر ۔ اس میں سے 30 دن نکال دیں الیکشن والے۔ پھر تیس دن رہ گئے اس میں حکومت بنے گی جوڑ توڑ ہوگا۔ اس کے بعد حکومت بن کر جو شکل سامنے آئی گی وہ جا کر آئی ایم ایف کے پیروں میں گر جائےگی۔ کیوں کہ 26 ارب ڈالر چاہیں۔ یہ جہاں چھوڑ کر گئے ہیں معاشی دہشت گرد جو بھاگتا پھر رہا ہے لندن کی سڑکوں پر۔ وہ جو میڈیکل رپورٹ بھیج رہا ہے ۔ 26 ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے ۔ صرف ایک طریقہ ہے۔

اردن میں کیا ہوا؟ انھوں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا 60 ارب ڈالر ۔ جب قرضہ واپس دینے کا ٹائم آیا وہ آئی ایم ایف کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ اپنی کرنسی کو گرا دیں، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا دو۔ انہوں نے بڑھا دیں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اردن کو بچانے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ پہنچے اور انھوں نے ڈھائی ارب ، پانچ ارب ، قطر پہنچ گیا اس  نے  پانچ ارب دیے اس طرح سے اردن بچا اور ان کے وزیراعظم کی چھٹی ہوگئی۔

ڈالر 125 روپے کا ہوگیا کسی کو پتہ نہیں چل رہا کہ کیا ہواہے ۔ آج کے دن ہر پاکستانی کا گھر ، گاڑی ، اس کی دکان ، اس کا مکان ہر چیز 25 فیصد وہ غریب ہوگیا ہے ۔ ابھی ہمیں پتہ نہیں چل رہا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہے اس کی 25 فیصد قیمتیں گر گئیں ہیں۔ یہ جوڈالر کے مقابلے میں روپیہ ہوا ہے ۔ یہ جب 135 پر جائے گا تو کیا ہوگا؟

ملک کو کیسے کھوکھلا کیا گیا اس کو سمجھیں۔ سعودی عرب دے گا آپ کو 26 ارب،۔ کون دیگا؟ انہوں نے سارے راستے بند کردیے مودی نے ساری ریٹنگ گرادی پہلے سے ۔ آپ آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے تو وہ کہے گا کہ آپ سی پیک کے معاملات اور چائنہ کے ساتھ جو آپ کا چل چل رہا ہے وہ بتادیں۔ تاکہ آپ پھر چین سے سے اٹھ کر ان کے قدموں میں گرجائیں۔ ملک کو مکمل طور پر کھوکھلا کر کے وہ جو کام تھا بدمعاشیہ کا وہ اپنا دکھا کر چلی گئی۔

سوال: اگر ایسی صورتحال ہوگئی تو عوام کا ردعمل کیا ہوگا؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: عوام سڑکوں پر ہوگی ۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا ہے ابھی ہو کیا رہا ، لوگ پچیس فیصد غریب ہوگئے ہیں۔ دوسرا کمال یہ ہوا ہے کہ نیب چئیرمین کارروائی کس کے خلاف کر رہے ہیں؟ طالبان کے خلاف کر رہے ہیں کیا؟ کارروائی تو بدمعاشیہ کے خلاف کر رہے ہیں۔ بدمعاشیہ ہی اڑائی گی ۔ کارروائی طالبان کے خلاف نہیں کر رہے ہیں۔ یہ آخری راؤنڈ شروع ہوگیا ہے ۔

یہ انتخاب ملک کے اندر انتشار ہے ۔ ووٹرز کی جولسٹ آئی ہے ۔ 2013 میں ساڑھے 8 کروڑ ووٹرز تھے پاکستان میں ۔ 2018 میں ساڑھے 10 کروڑ ہوگئے۔ الیکشن کمیشن دوسری کمال کی بات کر رہا ہے کہ 80 لاکھ لوگ ووٹر انتقال کر گئے ۔  لیکن ان کا نام ووٹر لسٹ میں ہے۔ یہ ووٹر لسٹ میں ہے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ جو ملک سے باہر ہیں وہ ملک میں آکر ووٹ دیں۔ ملک میں مکمل انتشار ۔

ابھی تو یہ نہیں پتہ کہ کون کس کے خلاف لڑ رہا ہے ابھی تو ٹکٹیں جاری نہیں ہورہے ، یہ سارے کے سارے ڈرے سہمے لوگ ہیں ۔ یہاں قبائلی بیٹھے ہوئے ہیں فاٹا کے لوگ سارے اور وہاں پر سارے لوگ موجود ہیں۔ صوبائی آپ بعد میں کرائیں گےقومی آپ پہلے کرائیں گے۔ عمران خان کے جلسے کے علاوہ مہم شروع کہا ہوئی ہے؟ ہر آدمی اس وقت ڈرا سہما ہوا ہے ۔ وہ سڑکوں پر نکل رہے ہیں لوگ ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔ لوگوں کا شعور بیدار ہورہا ہے۔ اب وہ منشور سارے جہنم میں گئے۔ کونسی نگراں حکومت ؟ الیکشن کون سے شفاف ، پارٹیوں میں اندر لڑائیاں ہورہی ہیں۔ مار کٹائی ہو رہی ہے ۔ ووٹر لسٹ میں 80 لاکھ دنیا سے کوچ کیے ہوئے لوگ شامل ہیں۔

اگلی حکومت جیسے ہی بنے گی اس نے آئی ایم ایف کے سامنے گرجانا ہے ۔ پیسے ہیں ہی نہیں ۔ سارا کا سارا کھا گئے۔ 26 ارب ڈالر ریاست چلانے کے لیے چاہیں۔ وہ کہہ رہے ساڑھے تین لاکھ فوج دے دو الیکشن کرانے کے لیے ۔ فوج آئی گی تو اس کو اندر کھینچ لیں گے کہ فوج نے دھاندلی کرائی ہے ۔ یہ ساری بدمعاشیہ کا آخری معرکہ ہے ۔ مجھے ایک بندہ ملا وہ کہتا ہے کہ جو پاناما کا معاملہ چل رہا ہے وہ ہمیں تو لگ رہا ہے کہ یہ تو مسلم لیگ ن کو اور نواز شریف صاحب کو ہیرو بنانے کے لیے سارا مقدمہ چل رہا ہے ۔ یہ اتنا لمبا تو نہیں چلتا ۔ لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ لوگ سارے پاگل ہوگئے ہیں کہ ایک مقدمے کا فیصلہ ہی نہیں ہو پارہا ہے ۔ کب ہوگا فیصلہ ؟ انتشار پھیلے گا۔

سوال: تین روز کا استثنیٰ مل گیا ہے کیا اس کے بعد بھی استثنیٰ مل سکتا ہے ؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: تین روز ،چار روز، مہینہ اور چاہیے ہے عدالت کو تو یہ ایسے نہیں ہوتاہے ۔ ترکی میں دیکھیں کیا ہوا ۔ ریاستیں قدم اٹھاتی ہیں وہ فیصلے کرتے ہیں جو قیادتیں ہوتیں ہیں وہ فیصلہ کرتی ہیں۔ بات کرتی ہیں۔ انھوں نے اٹھا کر وہ پھینکا ہے ۔ ترکی میں الیکشن ہوئے اور پارلیمانی نظام ختم ہوگیا۔ طیب اردگان 2028 تک صدر ، وزیراعظم کی سیٹ اڑا دی۔ جج وہ خود اپائنٹ کریں گے ، کابینہ کو الیکٹ کریں گے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فرانس اور امریکا کی طرح کا ملا جلا سسٹم ہے جو ترکی میں آگیا ہے ۔ وہ بھی جنگ میں ہیں اور آپ بھی حالت جنگ میں ہیں۔

مارے تو جانا ہے بدمعاشیہ نے ، سوال تو یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے مارے جانا ہے یا اس وقت جب خزانہ خالی ہوکر آپ جا کر گرے پڑےہوں گے آئی ایم ایف کے سامنے ۔ آپ نے سنا کبھی کسی اجلاس میں ماہر معاشیات بیٹھے ہوں اور کرپشن کی روک تھام کے لیے بیٹھے ہوں۔  جو اصل معاملہ ہے اس کو ڈسکس نہیں کرتے ۔ اس ملک میں اتنی بے غیرتی ہے کہ جب تک جوتے مار کر نہیں نکالو بندہ یہاں سے جاتا ہی نہیں ہے۔ گورنر بیٹھے ہیں اپنی جگہ۔ سفیر استعفی دے دیتے ہیں وہ بھی باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیاسی سفیر بیٹھے ہیں ، سیاسی گورنرز بیٹھے ہیں۔ بیوروکریسی ویسی کی ویسی بیٹھی ہے ۔ کرپٹ سیکریٹری کا تبادلہ کرکے دوسری جگہ پر بیٹھا دیا۔

سوال: کیا الیکشن کے قریب تصادم بڑھے گا؟

ڈاکٹر شاہد مسعود : پبلک ہے تیسرا فریق ، بدمعاشیہ ، ادارے اس میں عوام بھی تو ہے جس کے پچیس فیصد قیمتیں گرادیں اور عوام میں شعور آگیا ۔ عوام جوتے مارنے کو تیار ہے ان کو ۔ کہہ رہے ہیں ان کو کہ بکواس نہ کرو ، دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔ احتساب کے دو طریقے ہیں یا تو ادارے کریں یا عوام کریں ۔ کرنا اداروں کو چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے جو سڑکوں پر شروع ہوگیا ہے اس وقت ۔

فرانس میں اس لیے انقلاب آیا تھا کہ وہ ذلیل کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ روٹی نہیں ہے تو کیک کھاؤ، تضحیک ہورہی تھی ۔ یہاں بھی لوگوں کی تضحیک کر رہے ہیں۔ لوگوں کے دلوں سے ڈر ، خوف نکل گیا ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بڑی بڑی گاڑیاں۔ اور اب کسی وقت کوئی خوفناک واقعہ پیش نہ آجائے۔

نئی شکلوں میں جنگوں کا آغاز ہورہا ہے ۔ اور آپ بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کو نیب نے کہا ہے کہ اب آپ الیکشن کے بعد آئیں گے ۔ اب جو ان کے نیچے کے لوگ ہیں وہ نیب کے اندر بند ہیں۔ وہ نیب نے گرفتار کر کے ڈالے ہوئے ہیں۔ یا تو ان کو بھی چھوڑ دیں الیکشن کے بعد کریں ۔ انتخابات کے بعد یہی بدمعاشیہ واپس آئی گی۔ مرنا تو اس نے ہے کچھ بھاگ جائیں گے ، کچھ پکڑے جائیں گے یہ نظام گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ ریاست کو مزید برباد کرکے جائیں گے اور ریاست اس جگہ پر پہنچ جائی گی جہاں سے وہ واپس نہ آسکے۔ پہلے ان کو پکڑکر ان کا احتساب ہوگا۔

سوال: یہ انتشار اور یہ احتساب اور یہ کیا ہورہا ہے پاکستان میں آپ کیسا دیکھ رہے ہیں اس کو؟

سینیر تجزیہ کارشاہین صہبانی : ڈاکٹر صاحب میں تو ایسے دیکھ رہا ہوں کہ بدمعاشیہ کو جیسے آپ نے کہا کہ یہ آخری جنگ ہے اور ان کے مقابلے میں ہے پوری اسٹیٹ۔ یہ ان کی آخری جنگ ہے ۔ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیوں ایکسٹینشن دیے جارہے ہیں۔ عام لوگ جو ہیں وہ جیلوں میں پڑے ہیں ۔ لاڈلے کی طرح کا ٹریٹمنٹ ہورہا ہے ۔ کیوں ہورہاہے یہ نہیں پتہ۔ لیکن اگر یہ جنگ بدمعاشیہ نے جیت لی تو میں آپ کو کلیئر بات کردوں کہ یہ جو انتظامیہ اور اسٹیٹ کے ڈیفینڈر ہیں ان کا یہ اتنا برا حشر کریں گے سڑکوں پر تو یہ سارے کے سارے بھول جائیں گے کے انہوں نے کونسی جنگ لڑی ہے۔ یہ آخری جنگ اسٹیٹ کے لیے ہے۔ یہ بہت خراب سیچویشن ہے ۔ اگر فیصلے نہیں ہوئے۔ لاڈلہ کا گیم ختم ہونا چاہیے ۔

ابھی ٹکر چل رہا تھا کہ پیپلزپارٹی نے دسویں مرتبہ اپنا منشور پیش کردیا ہے ۔ یعنی چالیس سال سے جو منشور وہ عوام کے لیے پیش کرتے آج انہوں نے نیا منشور پیش کردیاہے۔اور اس کی کاپی عوام کو پکڑا دیں گے اور کہیں گے کہ پانچ سال کے بعد گیارہواں منشور پیش کریں گے۔ یہی ہوتا رہا تو پاکستان کو گھٹنے ٹیک نے پڑیں گے آئی ایم ایف کے سامنے اور سی پیک کو چھوڑنا پڑے گا۔

مجھے آثار نظر نہیں آرہے کہ الیکشن سے پہلے پکڑیں جائیں گے بدمعاشیہ ۔ شہباز شریف کو انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد آپ آئیے گا۔ جن کیسز کے فیصلے آجانا چاہیے تھے ان کے فیصلے نہیں آرہے ۔ جو ریاست کے لوگ ہیں جن کی ذمہ داری ہے وہ بھی اپنا سر نوچ رہے ہوں گے ۔ کہ یہ ہم نے کیا کرا ہے ۔ یہ ایسا موقع ہے کہ اس میں سے آپ نے کلین اپ کرنا ہے تو یہ جو سپریم کورٹ نے آرڈر دیاہے اس سے آپ 50 فیصد گندے لوگوں کو نکال سکتے ہیں۔ یہ بھی ڈکلیئر کیا گیا کہ دس سال پہلے ان کی ماں نے ان کو کتے دیے وصیت میں جو چوری ڈکلیئر کردی تو کیا وہ وائٹ ہوگئی اور اگر کوئی پکڑنے والا نہیں ہے تو چیف جسٹس نے جو فرمایا تھا کہ ایسیڈ بتائے جائیں تو وہ سب تو آگئے اب ان کا کرنا کیاہے وہ کسی کو نہیں پتہ۔ صفائی کرنے کے لیے محنت اور ہمت چاہیے۔ اگر نہیں کریں گے تو سارے کے سارے لوگ آجائیں گے۔

چئیرمین نیب کو دھمکی ملی ہے ۔ اگر یہ طالبان دیتے تو ڈرون اٹیک کردیتے آپ ان کے اوپر اور ابھی یہ دھمکی کس نے دی ہے چئیرمین نیب بتائیں آکر ۔ نیب کے آفس کو اڑانے کی دھمکی کوئی چھوٹی بات ہے ؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ سپریم کورٹ کو آپ کہیں کہ میں کل یہاں آکر بم ماروں گا اگر آپ نے میرے خلاف کسی کیس کی سماعت شروع کی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ چئیرمین نیب کو دھمکی مل رہی ہے کہ نیب کی عمارت کو اڑا دیں گے۔ کبھی کہتے ہیں کہ نیب کے پر کاٹ دیں گے ۔ کتنے بے گناہوں کو پکڑ کر اندر کیا ہوا ہے۔ میگاکرپشن کیسزبعد میں کھلیں گے۔ بعد میں جس وقت کھلیں گے وہ منتحب اراکین ہوں گے۔ آخری دو مہینوں میں خواجہ آصف کا فیصلہ ہواہے۔ آسان ترین راستہ یہ ہے کہ پیسے واپس لائے جائیں۔ ان کو آپ پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیں اور کہیں کہ چیک سائن کرو۔ پیسہ منگوائیں تو پھر یہ چھوٹیں گے۔  ورنہ جوتے ماریں ان لوگوں کو پکڑ کے۔  اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اور آپ اس صورتحال میں انتخاب میں چلے گئے ۔ یہ جو نئی تصویر سامنے آگئی ہے کہ ملک کا خزانہ ختم ہورہا ہے۔ ان کی جیبیں بھری ہوئیں ہیں اور ملک کا خزانہ خالی ہے۔ یعنی آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے کہ آپ باہر سے کچھ منگوائیں، ملک میں پیسہ ہی نہیں ہے۔

ایمرجنسی کی ضرورت نہیں ہے ان کو آپ جیل میں ڈال دیں۔ سزائیں بعد میں پہلے چیک سائن کروائیں۔ ریاستیں قدم اٹھاتی ہیں۔ بیان یہ آنا چاہیے کہ اس کو ہم نے پکڑ لیا۔ اس کو جوتے مارے ۔ اس سے چیک سائن کروالیے ۔ یہ ہوتا ہے احتساب ۔ یہ کہیں نہیں ہوتا دنیا میں کہ ہم پکڑیں گے ، احتساب کریں گے۔ دو ڈھائی ہزار لوگوں نے 22 کروڑ عوام کو یرغمال بناکر رکھا ہواہے۔ پینتیس ارب ڈالر اس ملک میں دو شخصیات کے پاس ہیں۔ یہاں پر آکر بات رکتی ہے ، بدمعاشیہ یا ریاست ۔ اور ریاست نے ہی جیتنا ہے ۔ ڈرے سہمے ہوئے ہیں لوگوں کے سامنے نہیں نکل رہے ۔ اب جس کا جو کام ہے وہ کرے اور تیزی کے ساتھ کرے ۔ اب ریاست کا مسئلہ ہے ۔ اور ریاست بچانی ہے ۔ الیکشن ٹائم پر ہوں ۔