ایک بدبودار غلیظ نظام اپنے آپ گر رہا ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ ایک بدبودار غلیظ نظام اپنے آپ گر رہا ہے۔

سوال: آج کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اور آرمی چیف نے بیان دیاکہ شفاف الیکشن کے لیے معاونت کریں گے الیکشن کی اہم ذمہ داری ک ساتھ ملک کے دفاع اور سلامتی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: ایک بڑی فوج الیکشن کی نگرانی کرے گی اور اسی دوران سیکیورٹی کے معاملات ہیں تو ظاہر ہے کہ بات چیت ہوئی ہوگی۔ اور یہی موضوع ہے اس وقت ۔ کہیں معیشت کا بھی ذکر ہوگا اور کہیں سفارتکاری کا بھی ذکر ہو رہا ہوگا۔ ریاست پر بھی سوچ بچار ہوئی ہوگی۔ لیکن جو شاہد خاقاب عباسی کے ساتھ ہوا وہ عجیب و غریب، ہمارا جو یہ پورا کا پورا ڈھانچہ ہے یہ ایک بدبودار غلیظ نظام اپنے آپ گر رہا ہے ۔ شاہد خاقان عباسی کو ایک حلقہ سے تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے۔ اور فیصلہ جو انہوں نے لکھاہے وہ یہ ہواہے کہ 62 اور 63 پر وہ صادق و امین نہیں ہے اور تاحیات نااہل ہیں اور فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ زنگ آلود چہرہ اس کو کوئی حق نہیں کہ وہ حکومت کی ترجمانی کرے ۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ وہ دوسرے سے حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک حلقےسے وہ جھوٹے ہیں اور ایک حلقےسے وہ اچھے ہیں۔ اس نظام کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے۔ یہ عجیب الیکشن کمیشن کی طرف سے اعلان ہواہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ اس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

2015 میں ناصر جنجوعہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے طور پر آئے اس سے پہلے وہ کوئٹہ میں کمانڈر سدرن تھے ۔ انہوں نے آج استعفیٰ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیوں کہ حکومت چلی گئی ہے اور میں سابق وزیراعظم کی کابینہ میں تھا تو یہ مناسب نہیں لگتا ۔ جو جمہوری عمل ہے مجھے اس میں استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کو ڈھڈے مارکر نکالا نہیں جائے گا وہ نہیں ہٹیں گے وہ ہیں گورنرز۔ ابھی ماروی میمن کو برطرف کرنے کے لیے نگراں وزیر اعظم کو سمری بھیجی گئی ہے ۔  ماروی میمن صاحبہ کو خدا کے واسطے کوئی بتائے کہ ماروی میمن صاحبہ آپ عزت سے گھر کیوں نہیں جارہی ہیں۔ ایک سمری تیار ہورہی ہے وہ جائے گی ممنون حسین کے پاس وہ اس پر سائن کریں گے پھر ماروی میمن جائیں گی۔

جو تازہ ترین صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ مریم نواز صاحبہ کے ہاتھ سے پارٹی نکل رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے وزیر نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے یہاں پر قبضہ کرلیا ہے ہماری یہاں مہم کون چلائے گا۔ ہم نے بات کی ہے لندن تو اب یہ ممکن ہے کہ مریم نواز صاحبہ پبلک کے پرزور اصرار پر ملک و قوم کی خدمت سے سرشار وہ کہیں گی کہ میں ملک میں واپس آرہی ہوں۔ یہ مسلم لیگ کے لوگوں کی بات ہے ۔ ادھر کا جو گروپ ہےوہ انتظار کر رہا ہے کہ شہباز شریف صاحب گرفتار ہوجائیں۔ یہ پہلا انتخاب ہے جس کی انتخابی مہم ہے آہ و بکا، چیخیں۔ یہ جو الیکشن ہے اس میں جوتے ، گالیاں ، لوٹے یہ انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں باقاعدہ جوتے اتروادیے گئے کہ کوئی جوتا نہ ماردے۔ جوتے کو سیکیورٹی تھریٹ بنا دیا گیا ہے۔ یہ بھی ہو رہا ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ  نے جہاں جوتے اتر وائے تھے مخالف پارٹی جوتے لیکر بھاگ گئی۔

مریم نواز صاحبہ پر دباؤ ہے کہ وطن واپس آجائیں۔ فوری طور پر پبلک کے پرزور اصرار پر۔ شہباز شریف پر کچھ نہیں ہوا ہے وہ گانا گا رہے ہیں کراچی میں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا چکر ہے کہ طلال چوہدری کے لیے لوٹے اور ان کے لیے گانا ، یہ کیا چکر ہے۔ مریم نواز کو واپس آنے کا کہا جا رہا ہے، میاں نواز شریف کو وہی چھوڑ دیں۔  اس وقت یہ بات ہورہی ہے۔

جو مریم صاحبہ کا گروپ ہے وہ کہہ رہا ہے کہ وہ واپس آئیں اور ساتھ ہی کہہ رہا ہے کہ شہباز شریف چند دن میں گرفتار ہوجائیں گے۔ شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ میں نیب نہیں جاؤں گا میں الیکشن کے بعد ہی  جاؤں گا۔ ان کے اندر ہی اندر خانہ جنگی شروع ہوگئی ہے ۔ سردار مہتاب عباسی اتنے زبردست آدمی ان کو ٹکٹ ہی نہیں دیا ۔ وہ بھی کہیں آزاد لڑ رہے ہیں۔ فواد چوہدری صاحب بھی نا اہل ہوگئے ہیں۔ دوسرے حلقے سے وہ بھی اہل ہوجائیں گے۔

ملک میں پانی کی قلت ایک دم نہیں ہوئی ہے ۔اور اس کے بعد یو این ڈی پی کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ 2025 تک پاکستان خشک ہوجائے گا۔ اور 2040 تک مکمل طور پر پانی ختم ہوجائے گا۔ اور ہزاروں گیلن پانی سمندر میں جا کر گر جاتا ہے ، باریشیں نہیں ہو رہی ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ہمارے دو ڈیموں میں صرف نوے دن کا پانی ذخیرہ ہوسکتا ہے۔ بھارت میں ایک سو نوے دن کا پانی ذخیرہ ہوسکتاہے ۔اور امریکا میں 900 دن کا پانی ذخیرہ ہوسکتاہے ۔ پانی جا کر گر رہا ہے سمندر کے اندر جس کو آپ ذخیرہ نہیں کر رہے ہیں اس پر چیف جسٹس نے آج ماہرین کو بلایا ہے اور کہا ہے کہ ڈیم بنائیں گے۔

تین قسم کے خیالات اس وقت سیاسی پارٹیوں میں آرہے ہیں۔ ایک تو یہ آرہا ہے کہ الیکشن سے پہلے پتہ نہیں کیا ہوگا۔ خوف ، خطرہ ہے کہ کتنے لوگ بچیں گے اور کتنے لوگ حصہ لیں گے ۔ کون آخری وقت میں نا اہل ہو گا۔ دوسرا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ خراب ہے ۔ ابھی تحریک لبیک نے بھی آنا ہے ان کے امیدواروں نے بھی مہم شروع کرنی ہے ۔ 172 سیٹیں چاہیں اسمبلی میں اکثریت کے لیے ۔ تو الیکشن ہوجائیں گے تو کیا حکومت بن پائے گی۔ فرض کریں اگر حکومت بن گئی اس سے زیادہ کمزور حکومت کوئی نہیں ہوگی۔ یہ کمزور ترین حکومتی ڈھانچہ ہوگا کیوں کہ اس کے اندر کسی کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ الیکشن درمیان میں آگئے ، احتساب کا عمل رکے گا نہیں۔ یہ پھنس گئے ہیں کہ انھوں نے بیان حلفی جمع کرادیے ہیں۔ کمزور حکومتی ڈھانچہ ہوگا تو مسائل کیسے حل کریں گے ، سفارتی پالیسی، خارجی پالیسی ، پانی کے مسائل ، معاشی مسائل ۔ آپ نے پیسے دینے ہیں اور اکنامک ہٹ مین بھاگا ہواہے ۔ کتنی ہزیمت ہے کہ میڈیا پیچھے پڑا ہوا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ میں رپورٹس بھیج رہا ہوں۔

میاں نواز شریف کو ڈر ہے کہ اگر یہ آدمی واپس گیا تو اس کو صرف جوتا سونگھوائیں گے اور یہ سارا اگل دے گا۔ یہ پہلے بھی وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے اور یہ پہلے بھی بن چکے ہیں۔ یہ بھاگے نہیں ہیں ان کو نکالا گیا ہے۔ یہاں پر گروپنگ شروع ہوگئی ۔ شک پر سیاست کی دنیا قائم ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کیا چکر ہے کہ یہ گانے کیوں گارہا ہے۔ شہباز شریف وہ بات ہی نہیں کر رہے جو بھائی کی ہے کہ مجھے کیوں نکالا ، میرے بھائی کو کیوں نکالا۔ جس دن شہباز شریف گرفتار ہوگئے اس دن مشاہد حسین کہاں جائیں گے۔  میں نے شہباز شریف صاحب کے قریبی رفقا سے پوچھا کہ آپ اتنے خوش کیوں ہیں۔ ؟ آپ کی ساری بیوروکریسی اندر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ مشاہد ہے وہ ساری سیٹنگ کرادے گا۔ مشاہد ویل کنیکٹ آدمی ہے۔ مشاہد صاحب نے جگہ لے لی چوہدری نثار کی اور پل بن گئے۔ اگر وہ اندر ہوگئے تو مریم نواز صاحبہ اتریں گی میدان میں اور مریم نواز صاحبہ کو حلقے گھومائے جا رہے ہیں اور کیوں گھمارہے ہیں کسی کو نہیں پتہ۔

تحریک انصاف میں بھی گڑ بڑ چل رہی ہے۔ تحریک انصاف کے اہم مرکزی رہنما وہ آپس میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ عمران خان نااہل تو نہیں ہورہے ۔ نا اہل کیوں نہیں ہو رہے کیوں کہ ان کو یہ اندازہ تھا کہ دو لوگوں نے مجھے کہا کہ اگر ہم وزیراعظم بن جاتے تو اچھا تھا وزیر بھی بن جائیں تو خیر ہے لیکن کئی اشخاص ایسے جو وفاقی وزیر رہ چکے ہیں وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ عمران خان نا اہل ہوجائیں۔

دوتین مرکزی شخصیات کے ذہن میں یہ ہے ۔ اور جو انٹرنل جھگڑے ہو رہے ہیں ان میں یہ فیکٹر بھی ہے ۔ کہ عمران خان اگر نااہل ہوجاتے ہیں تو ان کی جگہ وزیر اعظم بننے کے لیے یہ ان کی پارٹی کا اور عمران خان کا مسئلہ ہے کہ وہ ان کو دیکھیں کہ وہ کونسے لوگ ہیں۔ لیکن اہم شخصیات ہیں جو سمجھ رہی ہیں کہ ہم زیادہ مناسب ہیں ۔

2013 میں عوام سو رہی تھی جیت گئے تھے سارے ۔ 2018 میں جاگ رہی ہے جبھی پھڈا پڑا ہواہے۔ شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ میرے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ ان کو کہا گیا ہے زنگ آلود چہرہ ۔ یہ جتنے مسائل ہیں یہ آپ کو 2018 میں کیوں مل رہے ہیں ۔ پانی کا مسئلہ ۔ 145 ایکڑ ملین پانی پاکستان میں آتا ہے اور کوئی 13 ملین ایکڑ خرچ ہوتا ہے اور باقی چالیس سمندر میں گرجاتا ہے۔ جہاں ڈیم کا مسئلہ آتا ہے اس کو سیاسی بنا دیتے ہیں ۔ بڑا اچھا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ بس ڈیم ہوگا۔

مشرف صاحب کے دور میں بھی ڈیم بنانے کی بات ہوئی تھی۔ پرابلم کیا ہوئی اس وقت ۔ مشرف صاحب نے اس وقت پبلک میں پوچھنا شروع کردیا کہ آپ بتائیں کہ ہونا چاہیے یا نہیں ۔ ان کا خیال تھا کہ میں ایک اس پر کنسیسز پیدا کروں گا۔ کبھی اس طرح کے معاملات پر کنسینسیز نہیں ہوتے ہیں۔ جو ریاست کا مسئلہ ہوتا ہے وہ کرتے ہیں آپ، آپ ایک ریفرنڈم کروائیں کہ کیا ہمارے پاس نیوکلئیرویپن ہونے چاہیں۔ کچھ چیزوں میں نہیں ہوتے ہیں۔ آپ کہتے کہ یہ ہماری ضرورت ہے ۔ ڈیم ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں لوگ مرجائیں گے ۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ ڈیم بنے گا۔ جو ڈیم کی مخالفت کرے وہ جہنم میں جائے۔ دنیا کہہ رہی ہے کہ اس ملک میں پانی کے ذخیرے کے اوپر سیاست شروع ہوجاتی ہے۔ یہ سیاسی ایشو نہیں قوم کا ریاست کا ایشو ہے۔

سپریم کورٹ کا آرڈر آگیا ہے اب ڈیم پر کام شروع ہوجائے گا۔ جمہوریت اپنی جگہ لیکن بنیادی ایشوز پر پھڈا۔ ایک فساد کھڑا کردیتے ہیں اب نہیں ہوگا فساد جو کھڑا کرے گا وہ دبڑ دھوس۔ ہمارے جو سیاست دان اور بیوروکریسی ہے ان کو اب تک اس بات کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آہستہ آہستہ ان کے گرد پھندے کسے جارہے ہیں۔

شرجیل میمن صاحب بیٹھے ہوئے تھے اچانک سے ان کو مشورہ دیا کسی اور وہ آگئے اب ایک ہی طرح کی گاڑیوں پر ان کے تصویریں بنی ہوئی ہیں اور وہ اب اس طرح سے انتخابی مہم چلائیں گے۔ تھوڑی دن میں موبائل بھی سیکیورٹی تھریٹ بننے والے ہیں۔

سوال: جو اس وقت صورتحال ہے اس میں مسلم لیگ (ن) فرنٹ پر نظر آرہی ہے؟ تحریک انصاف فرنٹ پر نظر آرہی ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: اللہ کا شکر ہے کہ لوگوں کا شعور جاگ اٹھا ہے ۔ اب لوگ منشور کے پیچھے نہیں جا رہے ۔ لوگوں میں تبدیلی آرہی ہے ۔ لوگ جھانسے میں نہیں آرہے ہیں۔ لوگوں کا مسئلہ ہے پانی ۔ لوگوں کا مسئلہ ہے آپ کا پاسپورٹ گر رہا ہے دو نمبر سفیر آپ نے باہر بیٹھا دیے ہیں۔ریاست کا مسئلہ ہے کہ اردگرد جنگیں چھڑی ہوئی ہیں اور آپ یہاں پر اللے تللے ختم نہیں ہورہے۔ جو پاکستان سے محبت کرنے والے ملک سے باہر ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا کا واسطہ وہ دن آجائے کہ ہم پاکستان میں جاکر رہ سکیں ان کو اتنی محبت ہے ۔ لیکن یہاں پر ٹھگ ہیں ان کی زمینوں پر قبضہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں تبدیلی آئے ہم واپس آئیں۔ مصیبت یہ ہے کہ وہاں پر وہ پاسپورٹ اپنا کبھی بلیو دیکھاتے ہیں کبھی لال دکھاتے ہیں گرین دیکھاتے ہوئے بے عزتی ہوتی ہے ۔ اس وقت تک ہوتی رہے گی جب تک آپ کی بدمعاشیہ باہر کے ملکوں میں ٹرک ڈرائیور ہے اقامہ لیکر، کوئی مالی بنا ہوا ہے۔ ان کے ملکوں میں پیسے رکھے ہوئے ہیں آپ نے ۔

ہمارا پاکستان سے کیا تعلق ہے ہمارے ابو کا تعلق ہے ہمارے کیا تعلق ہے؟ یہ کس قسم کے لوگ ہیں ۔ جتنے یہاں کام ہوئے جندال آیا ہوا تھا اس میں یہ موجود تھے۔ اب اس پوری صورتحال میں اب عوام کا شعور تو بیدار ہوگیا ہے ۔ کچھ ہونا ہو ریاست کیا ہوتی ہے اور بدمعاشیہ کیا ہوتی  اور ریاست کو برباد کرنے میں پیچھے ہٹانے میں ۔ 60 دن رہ گئے اثاثے ختم ہونے میں یہ سارا کام کس نے کیا ہے ؟ مسئلہ یہ ہے کہ اربوں روپیہ ان کا باہر پڑا ہے۔ دو شخصیات ہیں 35 ارب ڈالر ہیں ان کے پاس ۔ دو شخصیات ملک کی اور وہ بظاہر آپس میں  مقابلہ کرتے ہیں وہ دونوں اندر سے ایک ہیں۔ 26 ارب چاہیں آپ کو اس وقت دو لوگوں کو پکڑیں چیک سائن کروائیں آپ کے پیسوں کا مسئلہ حل ہے۔