کوئی مستحکم حکومت بننے نہیں جارہی، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں کہا ہے کہ الیکشن کے بعد بھی کوئی مستحکم حکومت بننے نہیں جارہی ۔

سوال: نہال ہاشمی کے بعد آج دانیال عزیز صاحب کو بھی نا اہل قرار دے دیا گیا ہے لیکن دانیال عزیز صاحب کہتے ہیں کہ جن کا ذکر ججمنٹ میں کیا گیا ہے انھوں نے وہ الفاظ استعمال نہیں کیے ہیں۔ اور میں نے سپریم کورٹ کے آرڈرز کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: میں چند باتیں بار بار دہراتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں جب ایک بات بیٹھ جاتی ہے تو وہ پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کیوں دہرا رہے ہیں ایک بات بار بار۔ میں پھر یہ بات دہرا رہا ہوں کہ انتخابات ایرریلیونٹ ہیں۔ اور ان کا ریاست پاکستان کے ساتھ جو مسائل ہیں جو ایشوز ہیں ۔ بلکہ یہ جو انتشار اور خلفشار ہیں اس میں یہ اور اضافہ کر رہے ہیں۔ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے ۔ لیکن جیسے جیسے یہ دن بڑھیں گے، جیسے جیسے معاملات آگے جائیں گے توآپ کو انتشار اور خلفشار بڑھتا ہوا نظر آئے گا۔ آج آپ دیکھیں کہ کوئی انتخابی مہم نہیں ہے ۔ عمران آج لاہور گئے ہیں لیکن جیسے انتخابی مہم چلتی ہے 2 ڈھائی مہینے پہلے وہ نہیں ہے ۔ انتخابات کی وجہ سے ملک میں موجود پہلے سے انتشار اور خلفشار میں اضافہ ہوگا۔ کوئی مستحکم حکومت بننے نہیں جارہی انتخابات کے بعد ۔ کوئی مضبوط خارجہ پالیسی نہیں۔

اب دانیال عزیز کی بات لے لیں ۔ عدالت اپنے سامنے جو قاعدے و قوانین ہیں جو اصول ہیں ان کے حساب سے فیصلہ کیا ہے ۔ مگر دانیال عزیز صاحب کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے ۔ وہ نا اہل ہوگئے ہیں ۔ اگر وہ الیکشن لڑتے تو ان کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ ہار بھی سکتے تھے۔ ان کے والد بہت ہی معتبر شخص ہیں۔ وہ وزیر دفاع بھی رہے ہیں وہ وزیر ریلوے بھی رہے ہیں ، وزیر قانون بھی رہے ہیں ۔ ان کی جگہ ان کے والد لڑ رہے ہیں جن کا حلقہ بھی بہت بڑا ہے ۔ وہاں سے جیتنا ان کا پکا ہے۔ قمر الاسلام صاحب پیچھے رہ گئے ہیں اور اسکے نتیجے میں بچہ آگے آگیا ہے ۔ ریاست کے ایشوز کچھ اور ہیں۔

یہ گرے لسٹ کیا بلا ہے ؟ گرے لسٹ یہ ہے کہ شاید 1984 میں بہت سارے ملکوں نے ملکر یہ بنا لی اور اس میں انہو نے دو چیزیں مین رکھی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اینٹی ملی لانڈرنگ اور اور کاؤنٹر ٹیررزم ، دو چیزیں ۔ دہشت گردی کے خلاف قانون سازی ۔ اب کیا ہوا کہ قانون سازی تو ہوگئی ۔ اب جو پاکستان گرے لسٹ میں جا رہا ہے تو یہ جو موم بتی مافیا ڈالرخور ہیں انہوں نے شور مچایا ہوا ہے ۔ اصل میں آپ اس لیے جارہے ہیں کہ منی لانڈرنگ ۔ امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ آئی ہے کہ پاکستان سے 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے ۔ آپ کو گرے لسٹ میں ڈالا جارہا ہے منی لانڈرنگ کی وجہ سے ۔

سوال: منی لانڈرنگ کے مقدمات چل رہے ہیں۔ گرے لسٹ میں نام پھر شامل کیا گیا۔

 ڈاکٹر شاہد مسعود: یہ سسٹم کام نہیں کر رہا ہے ۔ یہ اسٹیٹس کو نہیں ٹوٹ رہا ۔ اسٹیٹس کو جب ٹوٹتا ہے تو ہتھوڑے سے ٹوٹتا ہے۔ اور میں بار بار یہ بات کہتا ہوں کہ اگر یہ آئین میں رہتے ہوئے ٹوٹ جائے تو زیادہ اچھا ہوگا۔ ورنہ ٹوٹنا ہے اس کو ۔ نیب اور جو عدالتیں ہیں ان کے خلاف جو بھی بیانیہ ہے ۔ وہ جو جاری کرے گی مسلم لیگ (ن) سرکاری طور پر یہ ذمہ داری دی گئی ہے پرویز رشید صاحب کو ۔ کہ نیب کے اوپر اور عدالتوں کے معاملے پر کیا لب و لہجہ استعمال کرنا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ قمر الاسلام پر کوئی معاملہ نہیں تھا۔ آج نیب وضاحت دے رہی  ہے کہ ان کے اوپر تو یہ کیسز تھے ۔ ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ اب ریفرنسز آنا بند ہوگئے ہیں۔ پی آئی  اے کے اندر ڈاکٹر فرخ سلیم صاحب کی ایک رپورٹ چھپی اس کے اندر یہ ہوا ہے کہ کارروائی شروع کی گئی پتہ چلا کہ 45 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے پچھلے ایک سال میں  ۔ اس کے اوپر یہ ہوا ہے کہ نام ڈال دیا ان کا ای سی ایل میں۔ وہ سارے نام آج ای سی ایل سے نکل گئے ہیں ساری شخصیات ملک سے باہر آجا سکتی ہیں۔ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ کر رہی ہیں۔ لیکن جو ریاست کے مسائل ہیں وہ دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ اس کے نتیجے  میں یہ ہورہا ہے کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں وہ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے خود کے انتشار اور خلفشار بڑھتا جائے گا۔

ابھی آپ نے آرٹیکل 6 کی بات کی تو میاں نواز شریف نے لندن میں کہا ہے کہ ملک 1970 کے حالات کی طرف جا رہا ہے۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے تو مشرقی پاکستان ۔ مریم نواز صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ ایک دفعہ آپ مسلم لیگ (ن) کو ختم کردیں آپ۔ وہ ہائی کورٹ میں چلے گئے ہیں ہوسکتا ہے وہ بحال ہوجائیں ۔

جماعتوں کے منشور آرہے ہیں اور ان کو کوئی سن ہی نہیں رہا ہے۔ یہ لوگوں میں جارہے ہیں تو جوتے پڑ رہے ہیں ۔ منشور میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ۔ منی لانڈرنگ کرنے والے لوگ منی لانڈرنگ کے لیے قانون بنائیں گے۔؟

میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ آپ کے پڑوس میں لڑائی ہورہی ہے بہت بڑی اور وہ افغانستان کی لڑائی ہے ۔ اشرف غنی کی حکومت تو پتہ نہیں کیسے رہے گی ۔ کیسے اور کب گرے گی کیا ہوگا۔ اشرف غنی نے طالبان سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کی تو سیز فائر عید کے دنوں میں کامیاب ہوگیا۔ دھماکے شروع کردیے داعش نے ۔ اہم بات یہ کہ جب گیم شروع ہوتا ہے تو طیارے پھٹتے ہیں ہوا میں۔ افغانستان سے جب سپر پاوورز بھاگتی ہیں تو وزرا اعظم کو پھانسی ہوتی ہے ۔ گولیاں لگ جاتی ہیں۔ جہاز اڑ جاتے ہیں چاہے اس میں سے کتنی ہی اہم شخصیات کیوں نہ ہوں ۔ صدر ہو کوئی سفیر ہو ۔ یہ اس طرح کے حالات ہیں۔ بات یہ ہے کہ ریاست نے آگے جانا ہے اور بدمعاشیہ نے طے کرلیاہے کہ ریاست کو آگے جانے نہیں دیناہے کہ ہم نہیں ہیں تو ریاست بھی نہیں ہے ۔

انٹرپول کے وارنٹس اگر آج جاری ہوجائیں تو چھ مہینے لگیں گے ۔ پہلے انٹرپول میں اپروف ہوں گے پھر اس ملک کا ہوم آفس جائزہ لے گا کہ کہیں پیچھے ملک میں جان کا خطرہ تو نہیں ہے ۔ کب ریڈ وارنٹ ایشو ہوں گے ؟ کب ہوگا ؟ کیسے ہوگا؟ پچیس جولائی میں تو تین، چار ہفتے رہ گئے ہیں۔

سوال: کیا کیسز میں مزید تاخیر ہوگی ؟ چئیرمین نیب کہہ چکے ہیں کہ ان شخصیات کو واپس لایا جائے گا۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: اسلام آباد میں بے شمار قسم کی باتیں ہورہی ہیں ایک تو یہ بات ہورہی ہے کہ جو آزاد اراکین ہے بہت سارے ایک تو یہ کہ قبائلی معاملات کی اپنی جگہ اٹکے ہوئے ہیں اور ایک اور بات ہورہی ہے کہ جو آزاد اراکین ہیں ان کی اکثریت ہوگی۔ آزاد اراکین میں کون کون سے لوگ ہیں جو کہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر منظور وٹو صاحب ہیں آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں۔ چوہدری نثار آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ وزرا اعظم بننے کے لیے پی ٹی آئی میں سے سینئیرلوگ ایکٹو ہورہے ہیں۔ کہ اگر عمران نا اہل ہوجاتے ہیں مختلف معاملات میں تو ہم وزیراعظم بن جاتے ہیں ۔ عمران کو قائد تحریک جیسا کردار دیکر سائیڈ پر کردیا جائے گا جیسے نواز شریف سائیڈ پر ہیں۔ شاہد خاقان عباسی خود کو متبادل وزیراعظم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جس بندے نے ان کا نام لیا تھا انہوں نے چوہدری نثار کو ہی چھوڑ دیا ۔ انہوں نے چوہدری نثار کے خلاف بیان دے دیا اور حکومت میں بیٹھے بیٹھے اسحاق ڈار کو باہر کردیا۔ انھوں نے وہ سارے کام کیے جو نواز شریف صاحب چاہتے تھے۔ اور نواز شریف خوش ہیں ان سے ۔ ایک مضبوط امیدوار مسلم لیگ (ن) کہ وہ شہباز شریف نہیں ، شاہد خاقان عباسی ہیں۔

سوال: آپ کی بات سے لگ رہا ہے کہ نواز شریف صاحب اس وقت بھی لڑنے کے موڈ میں ہیں۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: فوج چاہ رہی ہے کہ الیکشن ہوجائے اور عمران خان چاہ رہے ہیں کہ الیکشن ہوجائے ۔ عدالت چاہ رہی ہے کہ الیکشن ہوجائے لیکن کچھ سیاسی جماعتیں نہیں چاہ رہی ہیں کہ الیکشن نہ ہو۔ کیوں کہ الیکشن ہوگا تو ان کو کیا فائدہ ہوگا؟ یا تو ان کے کیسز اور سوموٹو ختم ہوجائیں یا اتنا انتشار پھیلے کہ الیکشن پوسپون ہوجائیں ۔ الیکشن پوسپون ہوجائیں گے تو سزائیں رک جائیں گی۔ پھر کہیں گے یہ ہوگیا وہ ہوگیا ۔ اسی فیصد میڈیا ان کے پاس ہے۔ پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگایا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی ذہانت کے ساتھ اس وقت اپنے آپ کو ایسی جگہ پر لا رہی ہے کہ دیکھیں نواز شریف آپ کی بات نہیں سنتے ہیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی سنتے ہیں لوکل اسٹیبلشمنٹ کی نہیں سنتے ہیں۔ عمران خان ایسا ہے ۔ ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں لیکن آپ سندھ کی کرپشن کو چھوڑ دیں۔ اس صورتحال میں ایک ایسا انتشار جس میں الیکشن ہونے سے پہلے ہی ہاتھا پائی شروع ہوگئی ۔

لوگ تھپڑ مار رہے ہیں ایک دوسرے کو ۔ پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این کو لڑنے دیا وہ درمیان میں نہیں کودے ۔ فرینڈلی اپوزیشن کی بھی بات ہوئی تو زرداری صاحب آج ہنس رہے تھے ۔ وہ خاموشی سے اپنے کارڈز کھیل کر یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ یہاں لڑائی ہورہی ہے اسوقت پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کی ۔ ان کی لیڈر شپ کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے محنت ، پسینے ہیں اور انھوں نے اربوں ڈالر بڑی مشکل کے ساتھ اکٹھے کیے ہیں لیکن سیاسی بساط پر وہ ایک انٹیلی جنٹ کھیل کرکے یہاں تک پیپلزپارٹی آگئی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی آگے جاکر اکثریت تو نہیں لے گی۔ سوال یہ ہے کہ آزاد اراکین کتنے ہوں گے وہ ایک ہی ٹولہ ہوگا یا اس کے بھی ٹوٹے ہوجائیں گے بہت سارے ۔

ابھی تحریک لبیک نے آنا ہے آگے انہوں نے آگے آنا ہے ۔ ان کی فالوونگ ہے ۔ ان کے چاہنے والے موجود ہیں ضروری نہیں ہے کہ ان کے بہت بڑے جلسے ہوں۔ وہ آئیں گے تو اس کے بعد کیا ماحول بنے گا پنجاب کا۔ اب پیپلزپارٹی کہہ رہی ہے کہ ہمارے لیے سندھ کافی ہے ۔ سندھ دس سال سے ان کو دیا ہواہے ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے لیے سندھ بہت ہے۔ خاموشی اچانک ختم ہوتی ہے ۔ بے چینی ہے ۔ ریاست کے ایشوز کچھ اور ہیں ۔ کتنی عجیب بات لگ رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کہہ رہی ہے کہ ہم لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ پریس کانفرنسز میں پہلے سے طے شدہ سوالات ہوتے ہیں ۔ اس قسم کی پریس کانفرنسز ہوتی ہیں اور یہ صرف ایک پارٹی کی بات نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی نے اپنی جگہ بنالی کہ کسی طرح ہماری ڈیل ہوجائے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی این آر او نہیں ہورہا ہے یہ بات میں آپ کو دوبارہ بتا رہا ہوں۔  کہ کسی قسم کا این آر او نہیں ہورہا ہے ۔ اور کوئی سوچ رہا ہے کہ اس ملک میں کسی طرح کا کوئی این آر او ہوگا تو وہ غلط فہمی میں ہے ۔ کس سے ہوگا اور کس سے ہوگا؟ کیوں کہ لوگ یہاں پر اگلے دن نیب جیسا ادارہ وضاحتیں پیش کرتا ہے ۔ ابھی تو لوگ ان پر دھبڑ دوس کریں گے کہ ساری زندگی کیا آپ ریفرنسز ہی قائم کرتے رہیں گے۔ یا پکڑیں گے بھی۔ کاغذ جاری کرنے میں کیا ہے ۔ پکڑا کس کو ہے آپ نے ، جاوید اقبال صاحب کے اوپر آنے والے دنوں میں بہت سے سوالات کھڑے ہونے والے ہیں۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ جاوید اقبال صاحب قمر زمان کی طرح تاریخ میں یاد رکھے جائیں۔

سوال: چئیرمین نیب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے وارنٹس کو دعوت نامے نہ سمجھا جائے۔ ہر جگہ سے لوگوں کو واپس لیکر آئیں گے اور لوٹی ہوئی دولت کو واپس لیکر آئیں گے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود : کب لائیں گے لوٹی ہوئی دولت اور کہاں سے لائیں گے جو ادھر گھوم رہے ہیں ان کو پکڑ نہیں رہے وہ باہر بیٹھے ہوئے لوگوں کے ریڈ وارنٹ نکال رہے ہیں۔  ان کی بدقسمتی اور لوگوں کی خوش قسمتی کہ ان کا شعور جاگ گیا ہے۔ شرجیل میمن کی گاڑیاں کہاں سے لگی ہوئی ہیں یہ نیب کو نظر نہیں آرہی؟ آپ کو بڑے بڑے معاملات نظر نہیں آرہے اور اس میں بھی واضح طور پر لوگوں کو نظر آرہا ہے کہ کوئی سیاسی ڈیل ہورہی ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔

الیکشن میں تین ہفتے رہ گئے ہیں کوئی جلسہ نہیں ۔ بس بینرز کہیں لگ گئے ہیں کوئی پیسہ خرچ کرنے کو تیار نہیں ہورہا ہے لوگوں کی جائیدادیں ظاہر ہوگئیں ہیں  ۔ جھوٹ پکڑے جا رہے ہیں یہ پھنس گئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ بدمعاشیہ پھنس گئی ہے ان کا خیال ہے کہ یہ ایسے ہوجائے گا ویسے ہوجائے گا۔ سب سے اچھے کارڈ پیپلزپارٹی نے پلے کیے ہیں کہ پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کو لڑا دیا ہے اور خود دور رہی ہے ۔ اور دوسری پارٹی سے آئے لوگ پی ٹی آئی میں وہ مستقبل رابطے میں ہیں ۔ ناراض ہوکر نکل گئے۔ یہ جو عمران کی ویڈیو آئی ہے کہ سجدہ کر رہے ہیں بڑی عجیب سی ویڈیو آئی ہے ۔ اس کو چلانے کے لیے ایک صاحب پی ٹی آئی کے مختلف چینلز کو فون کر رہے ہیں کہ وہ فوٹیج چلا دیں گے آپ۔

ایک ہی پارٹی کی آرہی ہیں ویڈیوز دوسری پارٹی کی کیوں نہیں آرہی ہے۔ ادھر کی جو آرہی ہے وہ آرہی ہیں جو پبلک بنا کر بھیج رہی ہے ۔ جس میں خطرہ ہے کہ خدانخواستہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش نہ آجائے۔  میں یہ کہہ رہا ہوں کہ انتشار الیکشن سے پہلے ۔ انتشار الیکشن ہونے کے بعد حکومت بننے سے پہلے اور اس بات کے امکانات کے حکومت بنے گی یا نہیں بنے گی اور اگر بنے گی تو کس شکل میں بنے گی۔ الیکشن سے پہلے ہی کہہ دیا گیا ہے کہ دھاندلی ہورہی ہے ۔