قاہرہ: اخوان المسلمون کے رہنمائوں سمیت 75 افراد کو موت کی سزا

قاہرہ : مصری عدالت نے سابق صدر مرسی کے دھرنے میں شامل 75 افراد کو موت کی سزا سنا دی جن میں اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع بھی شامل ہیں۔

 مصر میں ایک فوجداری عدالت نے کالعدم مذہبی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے 75 ارکان کو 2013ء میں احتجاجی دھرنوں اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ جبکہ 47 کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مذکورہ عدالتی ٹرائل کو مجموعی طور پر غیر شفاف اور مصر کے آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔  ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مصری سکیورٹی فورسز نے کم از کم 817 افراد کو ہلاک کیا ہے جو کہ انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔

واضح رہے کہ 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کے اقتدار میں آنے کے ایک ماہ بعد فوج کے سربراہ اور موجودہ صدر عبدل فتح السیسی نے ان کے حکومت گرا دی تھی، جس کے بعد مرسی کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں فوج اور پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بہت سے مظاہرین مسلح تھے اور 43 پولیس اہلکار کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔ اس وقت سے اخوان المسلین کو ‘ایک دہشت گرد تنظیم’ قرار دیا ہوا ہے۔

 خیال رہے کہ اس مقدمے میں انعام یافتہ فوٹوجرنلسٹ محمود ابوزید المعروف شوکن کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔