ملکی تاریخ کےعجیب و غریب الیکشن ہوئے ہیں، خالد مقبول صدیقی

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ کےعجیب و غریب الیکشن ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چھاپے، گرفتاریاں ہمارا حوصلہ، عزم کم نہ کرسکیں اور ایم کیو ایم کا کارکن پوری توانائی کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔ الیکشن کمیشن جواب دے 21 ارب سے کوئی سلیکشن کراتا ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سلیکشن ٹی وی پروگرام خرید کر بھی کرائی جاسکتی تھی اور مینڈیٹ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ مصنوعی طریقے سے بنا ہے۔ ایم کیو ایم کو دفن کرنے والوں کو توبہ کرنی چاہیے اور یہاں ووٹ ڈالے تو گئے لیکن گنےنہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی گنتی چوری کے مال کی تقسیم کی طرح کی گئی اور کچھ لوگ جیت کر بھی حوصلہ ہار گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی اکثریت امن پسند انصاف پسند ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 2013 ہماری 24 سیٹوں کی کسی کو ضرورت نہیں تھی اور آج  ہماری 6 سیٹیں پورے پاکستان کی ضرورت ہیں۔ 2 اگست کو الیکشن کمیشن آفس کے باہر احتجاج کریں گے۔

عام انتخابات 2018 میں دھاندلی نہیں، دھاندلا ہوا ہے، فاروق ستار

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عام انتخابات 2018 میں دھاندلی نہیں، دھاندلا ہوا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج کا احتجاجی اجلاس انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہے اور ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو چرایا اور چھینا گیا ہے۔ سادہ کاغذات پر مصنوعی مینڈیٹ دے کر جتوایا گیا ہے اور عام انتخابات 2018 میں دھاندلی نہیں، دھاندلا ہوا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جن حلقوں میں دھاندلی ہوئی، وہاں دوبارہ ووٹنگ ہونی چاہیے اور ہمارے مطالبات کراچی کے امن کے لیے ہیں۔ گزشتہ 30 سالوں سے ہم معقول مینڈیٹ حاصل کرتے آئے ہیں اور ہمارے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں سے بدترسلوک کیا گیا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اوقات نہیں ہے آنکھ سے آنکھ ملانے کی،بات کر رہا ہے نادان نام مٹانے کی اور پاکستان کے قیام میں ہمارا بڑا کردار ہے۔ کوٹہ سسٹم کے نام پر روزگار سے ہمیشہ محروم کیا گیا اور اس دفعہ تو ماضی سے بھی زیادہ ظلم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چرایا گیا مینڈیٹ واپس لیں گے اور ہمیں متحد رہنا ہوگا، انشاءاللہ ہم پھر سرخروہوں گے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو ٹھیک کرنا ہوگا اور تنظیم صرف ایم کیو ایم ہے اور کوئی نہیں ہے۔

ایسے ووٹ کی کیا حیثیت جو پولنگ ایجنٹ کے سامنے نہ گنا جائے، فیصل سبزواری

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسے ووٹ کی کیا حیثیت جو پولنگ ایجنٹ کے سامنے نہ گنا جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کے جاری کردہ بیان کے مطابق کہنا تھا کہ 25 جولائی سے قبل سیاسی جماعتوں پر الزام لگتا تھا اور الیکشن کمیشن پر الزامات ہیں، اس نے مینڈیٹ چوری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے کا حساب دینا ہوگا۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ایسے ووٹ کی کیا حیثیت جو پولنگ ایجنٹ کے سامنے نہ گنا جائے اور چیف الیکشن کمیشن کی فوری مستعفی ہو جانا چاہیے۔ کچھ حلقوں میں سوا 3 ہزار ووٹ مسترد کیے، ایم کیو ایم کو ہرا دیا اور الیکشن کمیشن نے قوانین کی کھلےعام خلاف ورزی کی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کراچی میں ریٹرننگ آفیسر ہماری درخواستیں سن نہیں رہا ہے اور دوبارہ گنتی کی درخواستیں اسلام آباد جا کر لگانی پڑ رہی ہیں۔ طاقت کے زور پر ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا اور ہمارے امیدواروں کو آراوز نے ملاقات کر شرف نہیں بخشا۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ دوبارہ گنتی کے لیے گئے تو آراو نے ملنے سے انکار کر دیا اور اگلے دن کہتے ہیں دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردی۔ 4 روز بعد کہتے ہیں فارم 45 ویب سائٹ پر لگادیں گے اور کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں سے ہمارے ووٹرز نکلے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ نتائج ایم کیو ایم کے ووٹرز کی عکاسی نہیں کر رہے ہیں اور ہمیں قوم سے وفاداری کا حق ادا کرنا چاہیے۔ ایم کیو ایم کو الیکشن جیتنے نہیں دیا گیا۔

فیصل سبزواری کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی چھوڑنے والوں کو لگ رہا تھا ایم کیو ایم نہیں جیت پائے گی اور ایم کیو ایم واٹس ایپ کے میسجز پر چلنے والی نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کی 6 سیٹیں بھی 66 کے برابر ہیں، خواجہ اظہار الحسن

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی 6 سیٹیں بھی 66 کے برابر ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن سے صرف 16 روز قبل الیکشن مہم کا آغاز کیا تھا اور کوئی جماعت بتائیں جس نے ایم کیوایم جتنا بڑا جلسہ کیا ہو۔ مصنوعی نمبر حاصل کرکے سمجھ رہے ہیں متحدہ ہار گئی اور ایم کیو ایم کی 6 سیٹیں بھی 66 کے برابر ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان کو 6 سیٹوں کی ضرورت ہے اور بہادرآباد آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارے پاس آنے والے تسلیم کرکے آئیں ایم کیو ایم حقیقت ہے اور طاقت کا ہمیں پتہ ہے، تہذیت اور تمدن کا خیال کرتے ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کی جیت ایسی ہے کہ سارے بادام کے بعد ایک بادام کڑوا نکل آئے اور کراچی سے جیتنے والے خود سمجھ نہیں پارہے وہ کیسے جیتے ہیں۔ جیتنے والوں کو آج جشن منانے کے لئے بھی لوگ نہیں مل رہے اور ایم کیو ایم احتجاجی عمل شروع کرے گی تو لگ پتہ جائے گا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہا تھا کراچی میں پانی نہیں، ڈولفن مرجائے گی اور انہیں کراچی کی نہیں نجی ایئرلائن کی سیٹیں ملیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاجروں کا نام دفن کرنے والے اپنی بدزبانی سے دفن ہوگئے ہیں۔