الیکشن ٹربیونل کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں، شاہد خاقان

راولپنڈی: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ قبول نہیں ہے اور فیصلے کے خلاف درخواست دائر کروں گا۔ ایسے فیصلے الیکشن کو مشکوک بنا رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے اور الیکشن ٹربیونل کے پاس آرٹیکل 62،63 کا اختیار نہیں ہے۔ ٹربیونل جج زیادہ سے زیادہ کاغذات مسترد کرسکتا ہے اور مجھ پرحقائق چھپانے کا الزام بے بنیاد ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہی اثاثے 25 سال سے جمع کروا رہا ہوں اور میری دعا ہے الیکشن متنازع نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹربیونل جج نے میری ذات پر حملہ کیا ہے اور کسی کو میری ذات پر حملہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اپلیٹ ٹریبیونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت آبائی حلقہ این اے 57 مری سے  تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپلیٹ ٹریبیونل نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قراردیتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے حقائق چھپائے ہیں جس کے بعد وہ صادق اور امین نہیں رہے ہیں۔

الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے این اے 57 سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپیلٹ ٹربیونل کے جج جسٹس عبدالرحمان لودھی نے این اے 57 سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نااہل قرار دیا ہے۔

عدالتے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ شاہد خاقان نے ریٹرنگ آفیسر کے سامنے کاغذات نامزدگی میں ردوبدل کیا تھا۔ انہوں نے اسلام آباد میں اپنے مکان ایف 72 کی مالیت 3 لاکھ ظاہر کرکے اڑھائی کروڑ کا قرضہ لیا تھا۔ جب کہ کاغذات نامزدگی میں ردوبدل ریٹرنگ آفیسر کی اجازت دینے کے بعد کی گئی تھی جس کے بعد جوڈیشل کیریئر کی الٹی گنتی شروع ہوگئی تھی۔

دو روز قبل جج جسٹس عبادالرحمان لودھی نے پی ٹی آئی کے کارکن مسعود احمد عباسی کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف دائر اپیل پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا تھا کہ شاہدخاقان عباسی نے ریٹرنگ افسر کو دیئے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ اور جائیداد کی درست تفصیلات نہیں بتائیں ہیں۔

مسعود احمد عباسی نے موقف اختیار کیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے لارنس کالج کے جنگل پر قبضہ کر رکھا تھا اور اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون ٹو میں مکان کی ملکیت بھی کاغذات نامزدگی میں کم لکھی تھی۔ کاغذات نامزدگی میں پہلے 100 روپے والا اسٹامپ پیپر لگایا گیا تھا اور بعد ازاں 500 روپے والا پیپر لگایا گیا تھا۔

تاہم الیکشن ایپلٹ ٹربیونل نے درخواست گزار کے تمام اعتراضات منظور کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے ہیں۔