برطانیہ میں ایک ماہ تک سوشل میڈیا کا بائیکاٹ

لندن: برطانیہ میں غیرسرکاری تنظیم نے اسکرول فری ستمبر مناتے ہوئے عوام کو ایک ماہ تک سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب کی ہے۔

سوشل میڈیا آج کل عام آدمی کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے استعمال کے بغیر لوگوں کو زندگی ادھوری محسوس ہونے لگتی ہے۔ مگر مایرین نے حال ہی میں نشاندہی کی ہے کہ سوشل میڈیا اور موبائل فون کا زیادہ استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہوتا۔ جس سے انسان باآسانی ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ان سے دور رہ کر اور اپنی نیند پوری کرکے ڈپریشن سے بچا جاسکتا ہے۔

برطانیہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم کے تحت اسکرول فری ستمبر کے نام سے محم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس مہم میں ملک بھر سے 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کرتے ہوئے عہد کیا ہے کہ وہ ایک ماہ تک فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ جبکہ سوشل میڈیا ہیش ٹیگ مقبول ہوچکا ہے۔     #scrollfreeseptember

 

اس مہم کو رائل سوسائٹی فار ہیلتھ (آر ایس پی ایچ)  نامی تنظیم کی جانب سے چلایا گیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے مہم میں کئی پروگرام متعارف کروائے ہیں جس میں سوشل میڈیا ایپس کا مکمل بائیکاٹ سمیت تعلیم کے دوران اور رات کو سونے سے قبل انکا استعمال ترک کرکے مکمل نیند حاصل کی جائےتاکہ ڈپریشن سے جھٹکارہ حاصل کیا جاسکے۔

 برطانوی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس پی ایچ نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے بےدریغ استعمال کے باعث 18 سال سے  کمر عمر بچوں نے خود کو ذاتی نوعیت کا نقصان پہنچایا جس میں خود کو زخمی کرنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے عادی افراد ویسے ہی ہیں جیسے کوئی شخص سگریٹ نوشی کا عادی ہو۔ سوشل میڈیا کو ترک کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا سگریٹ نوشی۔ جبکہ اس سے دوری اختیار کرنے سے انسان اپنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔