ٹرمپ کے ترکی مخالف اعلان کے بعد لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی

lira

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکی سے اسٹیل اور ایلو مونیم کی برآمد پر محصول دوگنا کردیا گیا ہے جس کے بعد ترکی کی لیراکی قدر میں 20 فیصد گر کمی ہوئی ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹیوٹر پیغام میں کہاہےکہ میں نے ابھی اجازت دی ہے کہ ترکی اسٹیل اور ایلیمونیم پر ٹیرف کو دوگنا کر دیا جائے کیونکہ  ان کی کرنسی ترکش لیرا ہمارے مضبوط ڈالر کے خلاف تیزی سے نیچے گری ایلومونیم پر 20 فیصد اوراسٹیل پر 50 فیصد محصول کو بڑھایا، ان کا مزید کہنا تھاکہ اس وقت ہمارے تعلقات ترکی کے ساتھ اچھے نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد 24 گھنٹے کے اندر لیرا کی قدر میں 20 فیصد کمی آئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں اس کی قدر میں 40 فیصد چ کمی ہو چکی ہے ۔

اس کے علاوہ ترک صدر کے ترجمان نے ابراہیم کولن نے ٹیرف کے بڑھنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلیک میلنگ ہمارے عظم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا ،ترک وزیر خارجہ نےمحصول میں اضافے کو علمی تجارت کے اصولوں کی خلاف ورزی قرارا دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیل اور ایلومونیم پرامریکی محصول کا جواب ضرور دیاجائے گا۔

دوسری جانب لیرا کی قدر میں کمی پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ یہ کمی اس مہم کا حصہ ہے جس کی قیادت غیر ملکی طاقتیں کر رہی ہیں ، صدر طیب اردوگان کا کہنا تھا کہ ترکی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے خلاف قدم اٹھائے گا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہےامریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی پابندیاں اور دباؤ کے نتیجے میں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہو گا۔

ان دونوں ممالک کے اختلاف کی بڑی وجہ امریکہ اور ترکی نیٹو کے ممبران ہیں اور دونوں میں کئی ایشوز پر اختلافات ہیں، مثلاً نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ، انقرہ روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنا چاہتا ہے اور سنہ 2016 میں ناکام بغاوت میں ملوث افراد کو کیسے سزائیں دی جائیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے ترکی کے دو اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں، یہ پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان امریکی پادری کی ترکی میں گرفتاری ہے، جس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز صدر ترک طیب اردوگان نے ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کو لیرا میں تبدیل کرائیں اور ہم ترکی کو اس وقت ’معاشی جنگ‘کی دو چارگی سے باہر نکالنا چاہتے ہیں ۔

طیب اردوگان نے اپنے خطاب میں امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کچھ ممالک کا رویہ ایسا ہے جو بغاوت کرنے والوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ قانون اور انصاف کو نہیں جانتے۔ جن ممالک کا رویہ ایسا ہے جس کے باعث ان کے ساتھ تعلقات کو بچانا مشکل ہو گیا ہے ۔

صدرطیب اردوگان ک کہنا تھا کہ’اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس ہمارے عوام ہیں،ہمارے پاس اپنا حق ہے ،اور ہمارے پاس اللہ ہے، مگر ترکی کے صدر کا یہ بیان ان کے عوام میں تو مقبول ہے لیکن بین الاقوامی بازار میں ان کی کم قیمت ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کے تھوڑی دیر بعد صدر اردوگان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی ہے،جس کے بعد کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر بات کی ۔

صدر طیب اردوگان کے دفتر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی اور توانائی کے منصوبوں کے درمیان ترکی اور روس کے رشتے میں ‘مثبت ترقی پر خوشی کا اظہار کیا ہے‘۔

صدرطیب اردوگان ارجنٹائن کی طرح بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم سے مدد طلب کر سکتے ہیں لیکن اس کی توقع کم ہی ہے،ترکی میں یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اس تمام پریشانیوں سے سب سے تیزی سے نکلنے کا راستہ واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنا ہوگا، صدر اردغان مزید کہا کہ ‘یہ اندرونی اور قومی جدوجہد ہے۔